Ramazan Ki Amad Marhaba

Book Name:Ramazan Ki Amad Marhaba

کے لئے ہر حرف کے بدلے پچاس(50)نیکیاں ہیں۔*جو نماز کے علاوہ وضو کی حالت میں تلاوت کرے اس کے لئے پچیس(25)نیکیاں ہیں۔(احیاالعلوم ،۱/۳۶۶)*تلاوتِ قرآن دِلوں کی صفائی کا ذریعہ ہے۔(شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی ادمان تلاوتہ، ۲/۳۵۲، حدیث: ۲۰۱۴ماخوذا)

اللہ کریم ہمیں تلاوتِ قرآن کا ذوق و شوق نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                                                               صَلَّی اللہُ  عَلٰی مُحَمَّد

اے عاشقانِ رَمَضان!روزے کی حالت میں  ہمیں جس بات کی بہت زیادہ ضرورت ہے  وہ یہ ہے کہ ہم کھانے پینےوغیرہ سے ’’رُکےرہنے ‘‘کے ساتھ ساتھ اپنے تمام اَعضائے بَدَن(Body Parts)کو بھی روزے کا پابند بنا ئیں اور خود کوہرقسم کی بُرائیوں سے بچائیں۔کیونکہ ہم  رَمَضانُ المبارَک کے مہینے میں تو روزہ رکھ کر دن کے وَقْت کھانا پینا چھوڑدیتےہیں حالانکہ یہ کھانا پینا اِس سے پہلے دِن میں بھی بِالکل جائِز تھا۔پھر خُود ہی سوچ لیجئے کہ جو چیزیں رَمَضان شریف سے پہلے حَلال تھیں وہ بھی جب اِس مُبارَک مہینے کے مُقَدَّس دِنوں میں مَنْع کردی گئیں۔تو جو چیزیں رَمضانُ المبارَک سے پہلے بھی حرام تھیں،مَثَلاً جُھوٹ،غِیبت،چُغلی،بدگمانی،گالَم گلوچ،فلمیں ڈِرامے،گانے باجے،بدنگاہی،داڑھی منڈانا یا ایک مُٹّھی سے گھٹانا، والِدَین کو ستانا،بِلا اجازتِ شَرعی لوگوں کا دل دُکھانا وغیرہ وہ رَمضانُ المبارَک میں کیوں نہ اور بھی زیادہ حرام ہوجائیں گی؟اب غور فرمائیے!جو شخص پاک اور حلال کھانا ،پینا تو چھوڑ دے لیکن حرام اور دوزخ میں لے جانے والے کام جاری رکھے۔وہ کس قسم کا روزہ دار ہے؟

یادرکھئے!نبیِّ  پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ عبرت نشان ہے:جو بُری بات کہنا اور اُ س پر عَمل کرنا نہ چھوڑے تواُس کے بُھوکا پیاسا رہنے کیاللہ پاک کو کچھ حاجت نہیں۔

(بُخار ی،کتاب الصوم ،باب من لم یدع قول الزور۔۔الخ،۱/ ۶۲۸،حدیث:۱۹۰۳)