Book Name:Ramazan Ki Amad Marhaba
آخِری دن ہمیں خُطبہ اِرْشاد فرمایا:اے لوگو!تمہارے پاس عظمت وبَرَکت والا مہینا جلوہ گر ہورہا ہے ،وہ مہینا جس میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزار(1000)مہینوں سے بہتر ہے،اللہ پاک نے اِس مُبارَک مہینے کے روزے فرض فرمائے ہیں۔اِس کی رات میں قِیام(یعنی تراویح اَدا کرنا) سُنّت ہے،جو اِس میں نیکی کا کام کرے تو ایسا ہے جیسے اور کسی مہینے میں فرض اَدا کِیا اور جس نے اِس میں فَرْض اَدا کِیا تو ایسا ہے جیسے اور دِنوں میں70 فَرض اَدا کیے۔یہ صَبْر کا مہینا ہے اور صَبْرکا ثواب جَنّت ہے،یہ مصیبت میں ساتھ دینے اوربَھلائی کامہینا ہے۔اِس مہینے میں مومِن کا رِزْق بڑھایا جاتا ہے۔ جو اِس میں روزے دار کو اِفطارکروائے تو یہ اُس کے گُناہوں کے لئے مَغْفِرتہے،اُسے آگ سےآزادی بخشی جائے گی،اُس اِفطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب مِلے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا بغیر اِس کے کہ اُس کے ثواب میں کچھ کمی ہو،ہم نے عرض کی،یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ !ہم میں سے ہر شَخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے روزہ اِفطار کروائے تو پیارےآقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے اِرْشاد فرمایا:ربِّ کریم یہ ثواب تو اُس شخص کو عطا کرے گا جو ایک کھجور یا ایک گُھونٹ پانی یا ایک گُھونٹ دُودھ سے روزہ اِفطار کروائے۔یہ وہ مہینا ہے جس کا اوَّل (یعنی اِبتِدائی 10دن)رَحمت،درمیان(یعنی درمیانے10دن ) مَغفِرت ہے اور آخر(یعنی آخری10دن) دوزخ سے آزادی ہے۔جو اپنے غُلام(یعنی ما تحت)سے اِس مہینے میں کام کم لے،اللہ پاک اُسے بخش دے گااور اُسے دوزخ سے آزاد فرما دے گا۔ جس نے روزے دار کو پیٹ بھر کر کِھلایا ،اللہ کریم اُس شخص کو میرے حَوض سےایک ایسا گُھونٹ پِلائے گا کہ(جسے پینے کے بعد)وہ کبھی پیاسا نہ ہوگایہاں تک کہ جَنّت میں داخِل ہوجائے۔
(ابن خزیمہ،کتاب الصیام،باب فضائل شھر رمضان۔۔الخ،۳ /۱۹۱،حدیث: ۱۸۸۷)
سُبْحٰنَ اللہ!پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَکو اللہ پاک کے اس مقدَّس مہینے یعنی رَمَضانُ المبارَک سے کس قدر مَحَبَّت تھی کہ اِس مُقَدَّس مہینے کی آمد ہی ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ خُود بھی اس بَرَکت والے مہینے کا انتہائی شان و شوکت کے ساتھ اِسْتِقْبال فرماتے اور اپنےصحابَۂ