Apni Islah Ka Nuskha

Book Name:Apni Islah Ka Nuskha

کے ٹکڑے اچّھی طرح بھگو کر کھالیتے)۔ (اتحاف السادۃ،۸ / ۲۳۹ ملخصاً)* سرکار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب گوشت کھاتے تو اُس کی طرف مبارک سرکو نہ جُھکاتے۔ ( اتحاف السادۃ،۸ / ۲۳۹ ملخصاً)بلکہ اُس کو اپنے مُنہ مبارَک کی طرف اُٹھاتے اور پھر مبارَک دانتوں سے کاٹتے۔(ترمذی،۳ / ۳۲۹ ،حدیث: ۱۸۴۲ملخصاً) * سرکار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوبکری(اور بکرے )کے گوشت میں بازو اور کندھا پسند تھا۔ (ترمذی، ۳/۳۳۰، حدیث ۱۸۴۲ ،۱۸۴۴ملخصاً) *سرکار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گردے(کھانا) ناپسند فرماتے تھے کیوں کہ وہ پیشاب کے قریب ہوتے ہیں۔( کنزالعمال،۷ /۴۱ ،حدیث: ۱۸۲۱۲ ملخصاً) *سرکار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تِلّی (کھانے سے)نفرت تھی مگر اِس کو حرام قرار نہیں دیا۔( اتحاف السادۃ،۸ / ۲۴۳ ملخصاً)*سرکار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی مبارَک اُنگلیوں سے رِکابی (یعنی پلیٹ)چاٹتے اور فرماتے :کھانے کے آخِر میں بَرَکت زیادہ ہوتی ہے۔(شُعُب الایمان،۵ /۸۱ ،حدیث: ۵۸۵۴) *سرکار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تازہ پھلوں میں خربوزہ اور انگور زیادہ پسند تھے۔( کنزالعمال،۷ / ۴۱ ،حدیث: ۱۸۲۰۰ مُلَخَّصاً)*خربوزہ روٹی اور شکر کے ساتھ کھاتے تھے۔(اتحاف السادۃ،۸ / ۲۳۶ملخصاً) *بعض اوقات تَر کھجور کے ساتھ (خربوزہ) کھاتے۔ (ترمذی،۳/۳۳۲،حدیث: ۱۸۵۰ مُلَخَّصاً) *دونوں ہاتھوں سے مدد لیتے ایک بار تَر کھجوریں دائیں ہاتھ سے کھا رہے تھے اور گُٹھلیاں اُلٹے ہاتھ میں رکھ رہے تھے ۔ایک بکری گزری آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُس کو گُٹھلی کے ساتھ ارشارہ فرمایا، وہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اُلٹے ہاتھ سے (گُٹھلیاں) کھانے لگی اور آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سیدھے ہاتھ سے کھا رہے تھے حتّٰی کہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فارِغ ہوئے تو وہ بھی چلی گئی۔(اتحاف السادۃ،۸ / ۲۳۷ ملخصاً) *سرکار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کچّا لہسن، کچّی پیاز و گِندنا(ایک بدبودار سبزی)نہیں کھاتے تھے۔( تاریخ بغداد،۲/۲۶۲ مُلَخَّصاً)  *آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی کسی کھانے کو بُرا نہیں کہا،اگر اچّھا لگا تو کھالیااور نا پسند ہوا تو ہاتھ مبارَک روک لیا۔ (مسلم،ص ۱۱۴۱،حدیث: ۲۰۶۴ملخصاً)