Book Name:Khai Walon Ka Waqia
معاف کیا۔میں نے اسے گواہ بنا کر آیندہ کے لئے کسی پر ظلم کرنے سے توبہ کر لی ۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! ایک بہت ہی خطرناک باطنی بیماری ہے: قُوَّت کا نشہ۔ ہمیں اس بیماری کو اپنے اندر سے لازمی ختم کر لینا چاہئے کیونکہ ظُلْم عُمُوماً وہی کرتا ہے جسے قُوَّت و طاقت کا نشہ ہو۔
یہ بھی یاد رکھئے! طاقت و قُوَّت کے نشے میں طاقت ہونا ضَرُوری نہیں ہے، بہت دفعہ طاقت ہوتی نہیں ہے، لوگ اپنے گمان میں اپنے آپ کو طاقت ور تَصَوُّر کر لیتے ہیں۔
یہ اَصْل بات ہے، جو اپنے اندر سے طاقت و قُوَّت کا یہ نشہ ختم کر لے،میں، میںنہ کرے، اپنے نَفْس کو قابُو میں کر لے یا یُوں کہہ لیجئے کہ اپنے اندر کے فِرْعَون کو مار لے حقیقت (Reality) میں وہ شخص ظُلْم سے بچ سکتا ہے۔مُعَاشَرے (Society)میں غَور کر لیجئے!جو عاجزی والا ہوتا ہے، وہ کبھی دوسروں کو تکلیف نہیں پہنچاتا،اگر جانے انجانے میں کبھی کسی کو کچھ کہہ بھی بیٹھے تو جلدی سے معافی مانگ لیتا ہے اور جو عاجزی والا نہیں ہوتا، جو اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے، وہ بات بات پر آستینیں چڑھانے کو دوڑتا ہے۔
اس لئے ہمیں اپنے اندر کے فِرْعَون (یعنی نَفْسِ اَمّارہ) کو قابُو میں کرنا پڑے گا، عاجزی اپنانی ہو گی۔ حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلام اللہ پاک کے نبی ہیں،آپ کا مشہور درباری پرندہ ہے: ہُدہُد۔ ایک بار ہُدہُد حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلام کی اجازت کے بغیر کہیں چلا گیا، ہُدہُد کی اس حرکت سے حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلام سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: ہُدہُد واپس آئے گا تو میں اسے سزا دُوں گا۔جب ہُدہُد واپس آیا اور دیکھا کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلام جلال میں