Book Name:Khai Walon Ka Waqia
لکڑیوں کو آگ جلا دے تو اس کا نام راکھ ہو جاتا ہے ۔یوں ہی جب حضور ( صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کا دامن پکڑ لیا تو سب مسلمان ایک ہوگئے ، حبشی ہو یا رُومی، گورا ہو یا کالا !([1])
طَبَرانِی شریف میں ہے،رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:مَنْ اٰذَی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللہ (یعنی) جس نے (بِلاوجہِ شَرعی) کسی مسلمان کو اِیذا دی اُس نے مجھے اِیذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اُس نے اللہ پاک کو اِیذا دی۔([2])
حضرت فُضَیلرحمۃُاللہ علیہنے فرمایا کہ کتّے اور سُور کو بھی ناحق اِیذا (یعنی تکلیف)دینا حلال نہیں تو مسلمانوں کو اِیذا دینا کس قدر بدترین جُرْم ہے۔([3])
مدینے کے تاجدار،رسولوں کے سالار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو مُفلِس کون ہے؟ صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم میں سے جس کے پاس درہم (یعنی مال و دولت ) اور ساز و سامان نہ ہو وہ مُفلِس ہے۔فرمایا: میری اُمّت میں مُفلِس وہ ہے جو قِیامت کے دن نَماز، روزے اور زکوٰۃ لے کر آیا اور یوں آیا کہ اِسے گالی دی، اُس پرتُہمت لگائی، اِس کا مال کھایا، اُس کا خون بہایا، اُسے مارا تو اس کی نیکیوں میں سے کچھ اِس مظلوم کو دے دی جائیں گی اور کچھ اُس مظلوم کو پھر اگر اِس کے