Khai Walon Ka Waqia

Book Name:Khai Walon Ka Waqia

کر رہے ہوتے ہیں، دوسروں کو دھوکہ دینے کو اپنی ہشیاری قرار دے رہے ہوتے ہیں، لہٰذا نہ توبہ کی طرف بڑھتے ہیں، نہ اپنی آخرت کی فِکْر کرتے ہیں۔

گُنَاہ تو کیا، پِھر اس پر شرمندگی مل جائے تو یہ بھی بڑی بات ہے مگر افسوس! آج کل لوگ دِل دُکھا کر شرمندہ بھی نہیں ہوتے، مُعَافِی مانگنا بھی گوارا نہیں کرتے، الٹا اس پر خوش ہو رہے ہوتے ہیں۔اے کاش!ہمارے دِل میں مسلمان کی عزّت بیٹھ جائے، ہم اپنے مسلمان بھائیوں کا احترام کرنا سیکھ جائیں۔ یقین مانیئے! اسلام میں امن و سکون(Peace)، بھائی چارئے اور آپس کے پیار محبّت کو بہت اہمیت  دی گئی ہے، جو لوگ اس اسلامی بھائی چارے کو نقصان پہنچاتے، اپنے مسلمان بھائیوں کو تکلیف دیتے یا ان کی عزّتِ نفس کو نقصان پہنچاتے ہیں، وہ بہت بُرے لوگ ہیں۔

بُرے اور بھلے بندے کی پہچان

ایک مرتبہ رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّم  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام  عَلَیْہِمُ الرِّضوَان سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں اچھے بُروں کی خبر نہ دوں؟ایک شخص نے عرض کی:جی ہاں یا رسولَ اللہ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہمیں ہمارے بُرے بَھلوں کی خبر دیجئے !فرمایا :تمہارا بھلا وہ شخص ہے جس سے خیرکی اُمید کی جائے اور اس کے شَر سے اَمْن ہو  اور تمہارا بُرا وہ شخص ہے جس سے خیر کی اُمید نہ کی جائے اور اس کے شر سے امن نہ ہو۔([1])

اس حدیثِ پاک کی شرح کا خُلاصہ یہ ہے کہ وہ بندہ کہ لوگوں کے دِل اس کی طرف سے مطمئن ہوں، لوگ اس کے بارے میں یہ اعتماد رکھتے ہوں کہ یہ شخص کسی کو تکلیف


 

 



[1]... ترمذی ، کتاب الفتن، باب:72 ،صفحہ:544 ، حدیث :2263۔