Book Name:Khai Walon Ka Waqia
یہ ایک بڑا سبق ہے۔ ہمارے ہاں بہت سارے لوگ یہ خیال کرتے ہیں، بعض دفعہ سوال بھی کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں،اللہ پاک کو مانتے ہیں،اس کے رسول صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کَلِمہ پڑھتے ہیں،اللہ پاک کے حُضُور سر جھکاتے،اس کی عبادت کرتے ہیں،اس کے باوُجُود ہم آزمائشوں میں ہیں،مسلمانوں میں غُربت بھی ہے،تنگدستی بھی ہے، آزمائشیں بھی ہیں، اس وقت دُنیا بھر میں مسلمان مختلف قسم کی مشکلات کا بھی شکار ہیں جبکہ غیر مسلموں کے حالات ہماری نسبت بہت اچھے ہیں،وہ مالدار بھی ہیں، ان کے ہاں خوشحالی بھی ہے، سب کچھ ہے۔ آخِر ایسا کیوں؟ اس کا بڑا سادہ سا جواب ہے، حدیث شریف میں فرمایا گیا:اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِن وَ جَنَّۃُ الْکَافِر دُنیا مسلمان کیلئے قید خانہ جب کہ غیر مسلم کے لئے جنّت ہے۔([1])
اب خُود غور فرما لیں؛قید خانے میں کیا ہوتا ہے؟ آزمائشیں، مشکلات، تنگیاں ہی ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہم مسلمان ہیں تو اس دُنیا میں ہم پر آزمائشیں آئیں گی ہی آئیں گی۔
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(۲)(پارہ:20،العنکبوت:2)
ترجمہ کنزُ العِرْفان:کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں صرف اتنی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟
تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا ان کی ایمانی قوت کے مطابق امتحان لینا،الله پاک کاقانون ہے۔بیماری،ناداری،غربت،مصیبت،یہ سب اللہ پاک