Share this link via
Personality Websites!
تمام مریدوں کو ایک ایک پرندہ اور ایک ایک چھری دے کر فرمایا: اس پرندے کو ایسی جگہ ذبح کر کے لاؤ جہاں کوئی دیکھنے والا موجود نہ ہو ۔اس نوجوان کو بھی اسی طرح پرندہ دیا اور اس سے بھی وہی بات فرمائی۔ تھوڑی دیر کے بعد ان میں سے ہر ایک ذبح کیا ہوا پرندہ لے کرواپس آیا لیکن وہ نوجوان زندہ پرندہ ہاتھ میں پکڑے ہوئے واپس آیا ، پیر صاحب نے پوچھا کہ دوسروں کی طرح تم نے اسے کیوں ذبح نہ کیا ؟ اس نے عرض کی: حضور ! مجھے کوئی ایسی جگہ نہیں ملی جہاں کوئی دیکھتا نہ ہو کیونکہ میں جہاں بھی گیا تو پایا کہ اللہ پاک مجھے دیکھ رہا ہے ۔ اس لئے مجبوراً واپس لے آیا۔یہ سن کر تمام پیر بھائیوں کی آنکھوں پر پڑا ہوا حجاب دور ہو گیا اور انہوں نے نہ صرف پیر صاحب سے معافی مانگی بلکہ عرض کی: واقعی یہ نوجوان اس بات کا حقدار ہے کہ اس کی عزت کی جائی۔ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
(2)اپنے آپ کا بھی ادب کیجئے!
پیارے اسلامی بھائیو! اَدَب کی دوسری قسم ہے: اَدَبُ النَّفْسیعنی اپنے آپ کا اَدَب کرنا۔
یہ کیسی نرالی بات ہے، آج تک یہی سنتے آئے ہیں کہ ہمیں دوسروں کا اَدَب کرنا چاہئے لیکن داتا حُضُور رحمۃ اللہ عَلَیْہ فرما رہے ہیں: دوسروں کا اَدَب تو کرنا ہی کرنا ہے، اس کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کا بھی ادب کرنا چاہئے۔ کیوں نہ ہو کہ ہمارا یہ جسم، ہماری جان، ہمارا سب کچھ حقیقت میں ہمارا نہیں بلکہ اللہ پاک کا ہے، رَبِّ کائنات فرماتا ہے:
'¸¬"O="©"s2
"Æ'6
(پارہ:11،سورۂ توبہ:111)
ترجَمہ کنزُ الایمان:بےشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خریدلئے ہیں۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami