Share this link via
Personality Websites!
مشہور مفسرِ قرآن، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ عَلَیْہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: مؤمِن کو چاہئے کہ سمجھےکہ میں اور میرا مال رَبّ کریم کے ہاں فروخت ہو چکے، میری کوئی چیز اپنی نہیں، اپنے ہر عُضْو، ہر وَقْت اور ہر مال کو اللہ پاک کی مرضِی کے مطابق صَرْف (یعنی استعمال) کرے، ورنہ خائِن (یعنی خیانت کرنے والا) ہو گا۔([1])
اللہ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا؛ ہماری جان اَصْل میں ہماری نہیں، رَبِّ کریم کی دِی ہوئی امانت ہے، اس لئے ہم پر لازِم ہے کہ اس امانت میں خیانت نہ کریں بلکہ اس امانت کا ادب بجا لائیں۔
*خود کو ذِلَّت پر پیش کرنا *اپنی ناقدری کرنا *لوگ مذاق اُڑائیں، ایسے کام کرنا *جسے دیکھ کر لوگ ہنسیں، ایسا حلیہ اپنانا *جسم پر اُلٹے اُلٹے ٹَیٹُو(Tattoo) بنوانا *اپنا حلیہ بگاڑنا یہ سب اپنی بےادبی کی مثالیں ہیں۔ حُضُور داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: اپنے آپ کے ادب میں سے ہے کہ آدمی ہمیشہ سچ بولے (کہ جھوٹ بُرا ہے، لہٰذا جھوٹ بول کر اپنی زبان کو گندا کرنا خُود کی بےادبی ہے)۔ مزید فرماتے ہیں: آدمی کو چاہئے کہ کم کھائے تاکہ طہارت گاہ(یعنی بیتُ الخلا) میں زیادہ نہ جانا پڑے، اسی طرح پردے کے مقامات کو نہ دیکھے کہ اس میں بےشرمی ہے۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ ہمارے پاکیزہ دِین اسلام کا کمال ہے کہ اس میں ہمیں ہماری
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami