Share this link via
Personality Websites!
ساتھ راہ لی ہوتی وائے خرابی میری ہائے کسی طرح میں نے فلانے کو دوست نہ بنایا ہوتا بےشک اس نے مجھے بہکا دیا میرے پاس آئی ہوئی نصیحت سے اور شیطان آدمی کو بے مدد چھوڑ دیتا ہے۔
انسان کو جب بہت حَسْرت اور شرمندگی ہوتی ہے یا بہت زیادہ غُصَّہ آتا ہے تو بعض لوگ دانت پیستے ہیں ، بعض حسرت میں اپنے ہی ہاتھوں پر کاٹنے لگتے ہیں ، روزِ قیامت عُقْبَہ بن ابِی مُعِیْط کی بھی یہی حالت ہو گی ، یہ حسرت سے اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا ( [1] ) اور کہے گا : اے کاش ! میں نے رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمْ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کا ساتھ اپنایا ہوتا ، کاش ! ان کی پیروی میں جنّت و نجات کا راستہ اختیار کیا ہوتا ! ہائے میری بربادی... ! ! کاش ! میں نے فُلاں ( یعنی اُبَیْ بن خَلف ) کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ ( [2] )
اے عاشقانِ رسول ! غور فرمائیے ! عُقْبَہ بن اَبِی مُعِیْط رسولِ اکرم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کی خِدْمت میں بیٹھا کرتا تھا ، آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کی ہدایت بھری باتیں سُنا کرتا تھا ، اس نے آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے کہنے پر کلمہ بھی پڑھ لیا تھا مگر افسوس ! ایک کافِر کی دوستی نے اسے بہکا دیا ، یہ جنّت کے رستے کا مُسَافِر بن ہی چکا تھا لیکن غلط دوستی نے اسے پھر سے جہنّم کی طرف دھکیل دیا۔ اب ہم اپنے متعلق غور کریں ، آہ ! * اگر آج ہم نے بُرے لوگوں کو دوست بنایا * جو نمازیں نہیں پڑھتے * نیک کام نہیں کرتے * اللہ و رسول کی نافرمانی کرتے ہیں * شراب پیتے ہیں * جُوا کھیلتے ہیں * سُودی لین دَین کرتے ہیں *
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami