Book Name:Surah-e-Al Qaria

یہ خبر سُن کر سردارِ انبیا ، محبوبِ خُدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے حضرت ابو بکر صدیق ،  حضرت عمر فاروق اور چند دیگر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو ساتھ لیا اور اُن کی عِیَادت کے لئے تشریف لے گئے۔

سَرِ بالیں انہیں رحمت کی ادا لائی ہے     حال بگڑا ہے تو بیمار کی بَن آئی ہے

آخری نبی ، رسولِ ہاشمی  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اپنے پیارے صحابی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کو دیکھا ، وہ واقعی شدید بیمار تھے ، آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے خوب صُورت اور پیار بھرے انداز میں تیمار داری فرمائی ، حال اَحْوال پوچھا۔ انصاری صحابی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے اپنا حال عرض کیا اور ساتھ ہی اپنے بیمار ہونے کا سبب بیان کرتے ہوئے ، اپنا ایک واقعہ بھی سُنایا۔

(اس واقعے کا خُلاصہ کچھ یُوں ہے کہ) اُن انصاری صحابی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے عرض کی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ایک روز میں مَغْرِب کے وقت مسجد میں حاضِر ہوا ، آپ نماز پڑھا رہے تھے ، میں نے بھی آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی پیروی میں باجماعت نماز کی سَعَادت حاصِل کی۔ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اُس روز آپ نے نماز میں سورۂ قارِعَہ کی تِلاوت فرمائی ، اسے سُن کر مجھ پر خوفِ خُدا کا غلبہ ہوا ، چنانچہ میں نے دُعا کی : یا اللہ پاک! مجھے دُنیا ہی میں آزمائش میں ڈال دے ، مجھے آخرت میں عذاب نہ دینا۔

انصاری صحابی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُنے اپنی بات جارِی رکھتے ہوئے عرض کیا : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اِس دُعا کے بعد سے ہی میری یہ حالت ہےجو آپ دیکھ رہے ہیں۔

اپنے پیارے صحابی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی بات سُن کر سرکارِ عالی وقار ، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا : تم نے بُرا کیا...! کیا یہ دُرست نہیں تھا کہ تم اللہ پاک سے دُنیا کی