Share this link via
Personality Websites!
میقات کی حدود(مثلاً طائف یا مدینۂ پاک)جائیں تو انہیں بھی اب بغیر اِحرام مکۂ پاک آنا ناجائز ہے۔ (رفیق الحرمین،ص۶۳)
(9)دنیا بھر سے مسلمان حج کی سعادت پانے کے لئے یہیںمَکَّۂ پاک حاضِر ہوتے ہیں۔
(10)جو اِس شہرِ مُقَدَّس میں داخِل ہوجائے اَمْن پانے والاہوگا،چنانچہ
پارہ1سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ کی آیت نمبر126میں اِرْشاد ہوتا ہے:
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا (پ۱، البقرۃ:۱۲۶)
ترجمۂ کنزالعرفان:اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی: اے میرے رب اس شہر کو امن والا بنا دے ۔
(11)مَکَّۂ پاک کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ دن کا کچھ وَقْت یہاں کی گرمی پر صَبْرکرلینے والے کو جہنم کی آگ سے دُور کیا جاتا ہے،چنانچہ
نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنےاِرْشادفرمایا:مَنْ صَبَرَ عَلٰی حَرِِّ مَکَّۃَ سَاعَۃً مِّنْ نَہَارٍ تَبَاعَدَتْ مِنْہُ النَّارُیعنی جو شخص دن کے کچھ وَقْت مکّے کی گرمی پر صَبْر کرے دوزخ کی آگ اُس سے دُور ہو جاتی ہے۔(اخبار مکۃ،۲/۳۱۱، حدیث: ۱۵۶۵)
(12)یہاں غارِ حِرا ہے،جہاں مَدَنی آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر پہلی وَحی نازِل ہوئی،رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے رسول ہونے کا اعلان کرنےسے پہلے غارِ حِرا میں ذِکْر وفِکْر میں مشغول رہے ہیں۔یہ قِبْلَہکی جانب واقع ہے۔نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پرپہلی وَحی اِسی غار میں اُتری،جو کہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami