اسلام عروج یا زوال(قسط:01)

آخر درست کیا ہے ؟

اسلام عروج یا زوال ( قسط : 01 )

*مفتی محمد قاسم عطّاری

ماہنامہ فیضان مدینہ نومبر 2022

دینِ اسلام وہ نورِ ربانی ہے جس کی شمع ہمیشہ فروزاں رہے گی اور زمانے کی بادِ صرصر اِسے بجھا نہ سکے گی کیونکہ

فانوس بن کے جس کی حفاظت ہواکرے

وہ شمع کیا بجھے ، جسے روشن خدا کرے

اسلام دشمن اور ان کے متأثرین یہ سوچ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اب اسلام صرف عبادت گاہوں تک محدود ہوتا جارہا ہے اوردین کے پاس جدید دور کے تقاضوں کے مطابق جینے کے لیے کوئی مؤثِر تعلیمات موجود نہیں اور مغربی ممالک میں لبرل ازم اور سیکولر ازم نے جیسے وہاں عیسائی مذہب کو مکمل طور پر دیوار سے لگا دیا ہے ، عنقریب دینِ اسلام کے ساتھ بھی یہی ہونے والا ہے۔

مذکورہ بالا سوچ ، ایک خواہش ہے یا حقیقت یا تجزیہ یا کیا ؟  آئیے تاریخی و زمینی حقائق کی روشنی میں اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔ مختصر الفاظ میں تو اس کا جواب یہ ہے کہ :

اپنی ملت پرقیاس اقوام مغرب سےنہ کر

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

حضور رحمۃٌ للعالمین ، خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی امت کا معاملہ بالکل جدا ہے کیونکہ جب آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات پر سلسلۂ نبوت کو ختم کیا گیا ہے تو پیغامِ الٰہی کی تبلیغ کا سلسلہ امت کے ذریعے ہمیشہ جاری رہے گا اور دوسری امتوں اوردینوں کے ساتھ مغلوبیت کا جو سانحہ پیش آیا وہ اسلام کے ساتھ ہرگز نہیں ہوگا۔ اسلام کی محدودیت و فنا کا کہنے سوچنے والوں کو صرف اتنا کہا جاسکتا ہے کہ  v¤'u یعنی یہ ان کی من گھڑت تمنائیں ہیں اور بہرحال کسی کی خواہشات کو تو نہیں روکا جاسکتا کہ

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہرخواہش پہ دم نکلے

آئیے ، اب اسلام اور عیسائیت کی تاریخ کا بغور تقابل کریں۔ حقیقتِ حال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام دینِ یہود کے ماننے والوں کی اصلاح کےلئے تشریف لائے۔ قرآنِ مجید میں آپ علیہ السّلام کے ماننے والوں کو  ” نصاریٰ “  کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے بعد  ” پولس “  نامی شخص سے عیسائیت کو مزید فروغ ملا ، لیکن فروغ سے زیادہ اس نے تحریفات کیں اور پولس کی کاوشوں سے وہ تحریف شدہ دین عوام سے چلتا ہوا ایوانوں میں گونجنے لگا ، بادشاہ اِس دین کے پیروکار بننے لگے ، حتی کہ اِسے بطورِ دین پورے ملک میں نافذ کردیا گیا۔ یوں یہ مذہب پھیلتا ہوا دنیا کے بہت بڑے خطے پر محیط ہو گیا ، مگر جب تین صدیاں پہلے یورپ میں صنعتی انقلاب آیا ، نشاۃ ثانیہ  ( Renaissance )  نامی دور کا آغاز ہوا ، مختلف تحریکیں پروان چڑھیں ، تو عیسائیت ، جدیدیت اور سائنس کے حملوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہوگئی اور دنیا کے وسیع علاقے میں رائج دین صرف دو سے تین صدیوں میں پسپا ہوگیا ، حتی کہ عیسائیت گرجوں کی چار دیواری میں محصور ہوگئی۔ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ مغرب میں دین بیزار معاشرہ رائج ہے ، لبرل ازم کا غلبہ ہے اور عیسائیت پر عمل اپنی نچلی ترین سطح تک پہنچ کر معدوم ہونے کے قریب ہے۔

دوسری طرف اسلام کی شان دار تاریخ یہ ہے کہ اسے جتنادبانے کی کوشش کی گئی ، یہ اُس سے بڑھ کر مضبوط و مستحکم ہوگیا۔ دینِ اسلام کو فنا اور مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی آج تک جتنی کوششیں کی گئی ہیں انہیں سامنے رکھ کر اسلام کے ابھرنے کی چند مثالیں تصور میں لائیں۔

 اعلانِ نبوت کے بعد مکۂ مکرمہ میں کفار کی طرف سے مسلمانوں کو ستایا ، دبایااور دینِ اسلام کو مٹانے پر پورا زور لگایا گیا لیکن تمام سازشیں ، کوششیں اور مخالفتیں ناکام رہیں اور اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد بڑھتی رہی ، صنم خانے سے کعبے کے پاسبان ، دشمنان ِ اسلام سے محافظانِ اسلام ، جانی دشمنوں سے جانیں قربان کرنے والے ملتے رہے ، آفتابِ اسلام مکۂ مکرمہ میں چمکتا رہا اور اس کے ساتھ مدینۂ منورہ میں بھی روشنی پہنچانے لگا ۔

 پھرجب نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مدینۂ منورہ ہجرت فرمائی ، تو کفار کی سازشوں اور عداو ت و نفرت میں کمی نہ آئی بلکہ اسلام کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کےلئے اپنا لام لشکر لے کر مقامِ بدر پہنچے۔ مسلمانوں میں اسباب و آلات کی قلت ، افرادی قوت کی کمی تھی مگر نصرتِ الہٰی کی بدولت پرچمِ اسلام مزید بلند ہوا اور کفار کو پھر منہ کی کھانی پڑی اور جس دن کو کفار نے اسلام کے لئے یوم الفناء  ( خاتمے کا دن )  سمجھا تھا وہ یوم البقاء اور یوم الفرقان (حق و باطل میں فیصلے کا دن )  ثابت ہوا۔

اس کے بعد جب حضور پرنور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا وصالِ ظاہری ہوا ، تو یہ اسلام کی تاریخ کا سب سے بڑا صدمہ و سانحہ تھا اور مسلمانوں کے قلب و روح کے مرکز ، ملتِ اسلامیہ کے محور و مدار یعنی سرکار ابدقرار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پردہ فرمانے کے بعد اسلام دشمنوں کےلئے بظاہر اسلام کومغلوب و فنا کرنے کا سب سے بڑا موقع تھا اور دشمنوں نے اس موقع کو اپنے طور پر ضائع نہ ہونے دیا اور کئی جہتوں سے اسلام پر حملہ آور ہوئے ، ایک طرف رومی سرحدوں میں اسلام کے خلاف طبلِ جنگ بجنے لگے ، دوسری طرف جھوٹے مدعیانِ نبوت اپنی کمین گاہوں سے باہر نکل آئے ، تیسری طرف منکرینِ زکوٰۃ اٹھ کھڑے ہوئے ، الغرض اسلام کے خلاف فتنوں کا سیلاب اُمڈ آیا ، مگر سبحان اللہ ، دشمنوں کے مکروفریب پر خدا ئی تدبیرغالب آئی اور سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں تمام فتنوں کی سرکُوبی ہوئی اورنتیجہ یہ نکلا کہ فتنہ کے مراکز میں بھی اسلامی حکومت مضبوط ہوئی اور جہاں پہلے اسلام نہ پہنچا تھا وہاں تک جانے کے راستے بھی ہموار ہوگئے اور اسلام کے مسلسل پھیلنے کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا جو شرق و غرب ، شمال و جنوب ہر طرف پہنچ گیا اور عرب و عجم ، افریقہ و ایشیاء میں روشنیاں بکھیرنے لگا۔

نورِ خدا ہے کفر کی گردن خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

تاریخ کے اوراق مزید پلٹیں تو کچھ مزید مناظر سامنے آئیں گے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ درجن سے زائد کافر ملکوں نے صلیبی جنگوں کے نام سے اسلام پر حملہ کیا ، حملہ آوروں کی تعداد ، حربی قوت ، ماہرینِ جنگ کی کثرت اپنے عروج پر تھی اور ایسی شوکت و طاقت کسی بڑی سے بڑی طاقت کو فنا کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے اور اسی ارادے سے کفار حملہ آور ہوئے تھے لیکن اہلِ اسلام نے کیسا شاندار مقابلہ کیا اور اسلام کا پرچم کس طرح مزید بلندیوں پر لہرایا ، اسے تاریخ کے اوراق نے محفوظ کرلیا اور وہ یہ کہ اُس موقع پر سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃُ اللہ تعالیٰ علیہ کی قیادت میں فرزندانِ اسلام نے عَلَمِ اسلام اٹھایا اور گلشنِ اسلام کی حفاظت کی بلکہ اس کی خوشبو سے مزید علاقوں کو مہکا دیا۔

پھر ایک زمانہ آیا کہ چنگیز خان اور ہلاکو خان جیسے ظالموں نے اسلامی مملکتیں تباہ کردیں ، لاکھوں مسلمان شہید کئے ، انسانی کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کیے ، خون کے دریا جاری کردئیے ، بغداد کی سڑکیں اور گلیاں لاشوں سے اور دریائے دجلہ خون سے بھر دیا۔ یہ ایک ایسا ہولناک اور تباہ کن حملہ تھا جس سے لگتا تھا کہ اب مسلمان دوبارہ کبھی نہیں اٹھ پائیں گے اور اسلام ہمیشہ کے لیے مِٹ جائے گا ، مگر خدا کی شان دیکھئے کہ اُسی ہلاکو خان کی اولاد مسلمان ہو گئی اور اسلام دوبارہ پوری طاقت کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔

پھر تاریخ نے پلٹا کھایا اور ایک وقت وہ آیا کہ یورپی ممالک کے سازشی افراد اور قوتوں نے دنیا بھر کے اسلامی ممالک پر قبضہ کرنا شروع کیا ، چنانچہ افریقی اسلامی ممالک ، مشرقِ وسطیٰ ، روسی اسلامی ریاستیں اور برصغیر پر غیر مسلم مسلط ہوگئے اور اسلام کو دبانے اور مٹانے کے لیے مکمل زور لگایا گیا ، بلکہ اِسی دور میں ترکی کے اندرہونے والی اسلام دشمن حرکتیں اور سازشیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، الغرض اکثر اسلامی ممالک اِس مغربی یلغار کا شکار تھے ، لیکن ” لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖۙ- “  کے وعدہِ الہیہ کے مطابق بتدریج تمام ممالک آزاد ہوئے اور اسلام کا اُسی طاقت کے ساتھ بول بالا ہونے لگا۔

اِس مختصر اور طائرانہ تاریخی مطالعہ سے ثابت ہوا کہ دینِ اسلام ہمیشہ باقی رہے گا۔ عیسائیت صرف تین چار صدیوں قبل لبرل ازم کے چند حملے برداشت نہ کر سکی اور نتیجے میں عیسائی کہلانے والوں کی اکثریت مُلحد ، بے دین اور خدا کی منکر ہو گئی ، لیکن اسلام کا عروج ، دینی تعلیمات پر عمل ، اسلام قبول کرنے والوں کی کثرت آپ کے سامنے ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اِسلام مٹنے کے لیے آیا ہی نہیں ، وعدہ الٰہیہ ہے :  ( یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِـٴُـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَیَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ (۳۲)  هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖۙ-وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ (۳۳) ) ترجَمۂ کنزُ العرفان : یہ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ سے اللہ کا نوربجھا دیں حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل کیے بغیر نہ مانے گا اگرچہ کافر ناپسند کریں۔ وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے اگرچہ مشرک ناپسند کریں۔  ( پ10 ، التوبۃ ، 32. 33 ) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)   نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : اسلام بلند رہے گااورکبھی مغلوب نہ ہو گا۔ ( بخاری ، 1/455 )

لہٰذا یہ لبرل جو تمنائیں ، خواہشیں اور قیاس آرائیاں کرنا چاہتے ہیں ، کرتے رہیں ، لیکن قربِ قیامت سے قبل ایسا کچھ نہیں ہونے والا ، کہ ہم سے ہمارے خدا کا وعدہ ہے۔اللہ تعالیٰ دینِ اسلام کو عُروج اور ہمیں اِس کے دامن سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

بقیہ آئندہ ماہ کے شمارے میں

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*  نگرانِ مجلس تحقیقات شرعیہ ، دارالافتاء اہل سنّت ، فیضان مدینہ کراچی


Share

Articles

Comments


Security Code