- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگ ان سو اونٹوں کی طرح ہیں ۱؎جن میں تم ایک بھی سواری کے قابل نہ پاؤ ۲؎(مسلم،بخاری)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّمَا النَّاسُ كَالإِبِلِ الْمِئَةِ لَا تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5360 ، باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ نے کہ تم اپنے سے اگلوں کی راہ چلو گے بالشت بالشت کے مطابق اور گز گز کے مطابق ۱؎حتی کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں گھسے ہوں گے تو تم بھی ان کے پیچھے چلو گے۲؎عرض کیا گیا یارسول اللہ کیا یہود و نصاریٰ کے،فرمایا تو اور کون ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَتَتَّبِعُنَّ سُننَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبِّ تَبِعْتُمُوهُمْ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى؟ قَالَ: "فَمَنْ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5361 ، باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
روایت ہے مرادس اسلمی ۱؎سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نیک لوگ آگے پیچھے چلے جائیں گے اور بھوسی رہ جاوے گی جیسے جو کی یا چھوہاروں کی بھوسی اللہ تعالٰی ان کی مطلقًا کوئی پرواہ نہ کرے گا ۲؎(بخاری)
وَعَنْ مِرْدَاسٍ الأَسْلَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَذْهَبُ الصَّالِحُونَ الأَوَّلُ فَالأَوَّلُ، وَتَبْقَى حُفَالَةٌ كَحُفَالَةِ الشَّعِيرِ أَوِ التَّمْرِ لَا يُبَالِيهِمُ اللَّهُ بالةً". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5362 ، باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب میری امت اکڑ کر چلے ۱؎اور شاہزادے یعنی فارس و روم کے بچے ان کی خدمت کریں۲؎تو اللہ تعالٰی ان کے بہتروں پر بدتروں کو مسلط کردے گا ۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا مَشَتْ أُمَّتِي الْمُطَيْطَاءَ،وَخَدَمَتْهُمْ أَبْنَاءُ الْمُلُوكِ؛ أَبْنَاءُ فَارِسَ وَالرُّومِ، سَلَّطَ اللَّهُ شِرَارَهَا عَلَى خِيَارِهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5363 ، باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
روایت ہے حضرت حذیفہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ تم لوگ اپنے امام کو قتل کرو گے اور اپنی تلواروں سے اور تمہارے بدترین لوگ تمہاری دنیا کے وارث ہوجائیں گے ۱؎(ترمذی)
وَعَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتُلُوا إِمَامَكُمْ، وَتَجْتَلِدُوا بِأَسْيَافِكُمْ، وَيَرِثَ دُنْيَاكُمْ شِرَارُكُمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5364 ، باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہیں قائم ہوگی قیامت حتی کہ دنیا کا کامیاب ترین شخص خبیث کے بچے خبیث ہوں گے ۱؎(ترمذی،بیہقی،دلائل النبوۃ)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ أَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِل النُّبُوَّة".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5365 ، باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
روایت ہے حضرت محمد ابن کعب قرظی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے حضرت علی ابن ابی طالب کو فرماتے سنا ۲؎کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے۳؎کہ اچانک ہم پر مصعب ابن عمیر نمودار ہوئے۴؎جن پر صرف ایک چادرتھی چمڑے سے پیوند کی ہوئی تو جب انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا تو حضور رو پڑے اسی نعمت کے خیال سے جس میں وہ پہلے تھے اور اسی حالت سے جس میں وہ آج ہیں۵؎پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس وقت تم کیسے ہوگے جب تم میں سے کوئی ایک جوڑے میں صبح ملے گا اور دوسرے جوڑے میں شام ۶؎اور اس کے سامنے ایک پیالہ رکھا جاوے گا اور دوسرا اٹھایا جاوے گا ۷؎اور تم اپنے گھروں کو ایسے کپڑے پہناؤ گے جیسے کعبہ پہنایا جاتا ہے ۸؎تو صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ہم اس دن آج کے دن سے اچھے ہوں گے کہ عبادت سے فارغ ہوں گے اور کام کاج سے بچالیے جاویں گے،فرمایا نہیں تم آج اچھے اس دن کے مقابلہ میں ۹؎(ترمذی)
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالب قَالَ: إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِي الْمَسْجِدِ فَاطَّلَعَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ مَا عَلَيْهِ إِلَّا بُرْدَةٌ لَهُ مَرْقُوعَةٌ بِفَرْوٍ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- بَكَى لِلَّذِي كَانَ فِيهِ مِنَ النِّعْمَةِ وَالَّذِي هُوَ فِيهِ الْيَوْمَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "كَيْفَ بِكُمْ إِذَا غَدَا أَحَدُكُمُ فِي حُلَّةٍ وَرَاحَ فِي حُلَّةٍ، وَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ صَحْفَةٌ وَرُفِعَتْ أُخْرَى، وَسَتَرْتُمْ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَة؟ " فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مِنَّا الْيَوْمَ، نَتَفَرَّغُ لِلْعِبَادَةِ وَنُكْفَى الْمُؤْنَةَ،قَالَ: "لَا، أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ مِنْكُمْ يَوْمَئِذٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5366 ، باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آوے گا ۱؎کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا چنگاری پکڑنے والے کی طرح ہوگا۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث اسناد سے غریب ہے۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيهِمْ عَلَى دِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5367 ، باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تمہارے حکام تم میں بہترین ہوں اور تمہارے مالدار تم میں سے سخی ہوں اور تمہارے کام تمہارے آپس کے مشورہ سے ہوں ۱؎تو تمہارے لیے زمین کی پشت اس کے پیٹ سے بہتر ہے ۲؎اور جب تمہارے حکام تم میں سے بدترین ہوں اور تمہارے مالدار تم میں سے کنجوس ہوں اور تمہارے کام تمہاری عورتوں کے سپرد ہوں۳؎تو زمین کا پیٹ تمہارے لیے اس کی پیٹھ سے بہتر ہے۴؎(ترمذی)اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا كَانَ أُمَرَاؤُكُمْ خِيَارَكُمْ وَأَغْنِيَاؤُكُمْ سُمَحَاءَكُمْ وَأُمُورُكُمْ شُورَى بَيْنَكُمْ فَظَهْرُ الأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ بَطْنِهَا، وَإِذَا كَانَ أُمَرَاؤُكُمْ شِرَارَكُمْ وَأَغْنِيَاؤُكُمْ بُخَلَاءَكُمْ وَأُمُورُكُمْ إِلَى نِسَائِكُمْ فَبَطْنُ الأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ من ظهرهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5368 ، باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قریب ہے کہ امتیں تم پر ایک دوسرے کو ایسی دعوت دیں جیسے کھانے والے اپنے پیالہ کی طرف ۱؎تو کوئی کہنے والا بولا کیا اس دن ہماری کمی کی وجہ سے ایسا ہوگا ۲؎فرمایا بلکہ تم اس دن بہت ہوگے لیکن تم سیلاب کے میل کی طرح ایک سیل بن جاؤ گے۳؎اور اﷲتمہارے دشمن کے دلوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اورتمہارے دل میں سستی ضعف ڈال دے گا ۴؎کسی کہنے والے نے عرض کیا یارسول اللہ وہن کیا چیز ہے فرمایا دنیا کی محبت اور موت سے ڈر ۵؎(ابوداؤد،بیہقی، دلائل النبوۃ)
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُوشِكُ الأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا"، فَقَالَ قَائِلٌ: وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: "بَلْ أَنْتُم يَوْمئِذٍ كَثِيرٌ، وَلَكِن غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ، وَلَيَنْزِعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ، وَلَيَقْذِفَنَّ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ"، قَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَهْنُ؟ قَالَ: "حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5369 ، باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں نہیں ظاہر ہوتی خیانت کسی قوم میں مگر اللہ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے ۱؎اور نہیں پھیلتا زنا کسی قوم میں مگر ان میں موت زیادہ ہو جاتی ہے۲؎اور نہیں کم کرتی کوئی قوم ناپ تول مگر ان سے روزی کاٹ دی جاتی ہے۳؎اور نہیں حکم کرتی کوئی قوم ناحق مگر ان میں خونریزی پھیل جاتی ہے۴؎اور نہیں عہد توڑتی کوئی قوم مگر ان پر دشمن مسلط ہوجاتا ہے ۵؎(مالک)
عَن ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: "مَا ظَهَرَ الْغُلُولُ فِي قَوْمٍ إِلَّا أَلْقَى اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ، وَلَا فَشَا الزِّنَا فِي قَوْمٍ إِلَّا كَثُرَ فِيهِمُ الْمَوْتُ، وَلَا نَقَصَ قَوْمٌ الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِلَّا قُطِعَ عَنْهُمُ الرِّزْقُ، وَلَا حَكَمَ قَوْمٌ بِغَيْرِ حَقِّ إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الدَّمُ، وَلَا خَتَرَ قَوْمٌ بِالْعَهْدِ إِلَّا سُلِّطَ عَلَيْهِ الْعَدُوُّ". رَوَاهُ مَالِكٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5370 ، باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان