- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- شکار اور ذبیحوں کا بیان
- باب:عقیقہ کا بیان
باب:عقیقہ کا بیان
شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6
روایت ہے حضرت سلمان ابن عامرضبی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بچہ کے ساتھ عقیقہ ہے۲؎تو اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے گندگی ۳؎دور کرو۔(بخاری)
عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:«مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذٰى» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4149 ، باب:عقیقہ کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس بچے لائے جاتے تھے تو آپ صلی الله علیہ وسلم انہیں دعائے برکت دیتے اور ان کی تحنیک کرتے تھے ۱؎(مسلم)
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتٰى بِالصِّبْيَانِ فَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ وَيُحَنِّكُهُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4150 ، باب:عقیقہ کا بیان
روایت ہے حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے کہ وہ مکہ معظمہ میں عبدالله ابن زبیر کی حاملہ ہوئیں فرماتی ہیں کہ قبا میں میرے ہاں ولادت ہوئی ۱؎پھر میں انہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں لائی اور حضور کی گود میں رکھا آپ نے چھوہارا منگایا اسے چبایا پھر ان کے منہ میں تھوک دیا پھر ان کی تحنیک کی۲؎پھر ان کے لیے برکت کی دعا مانگی اور یہ اسلام میں پہلا بچہ تھا جو پیدا ہوا ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ قَالَتْ: فَوَلَدْتُّ بِقُبَاءَ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهٖ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهٗ فِي حِجْرِهٖ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ ثُمَّ حَنَّكَهٗ ثُمَّ دَعَا لَهٗ وَبَرَّكَعَلَيْهِ فَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4151 ، باب:عقیقہ کا بیان
روایت ہے حضرت ام کرز سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رکھو ۲؎فرماتی ہیں میں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ہیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۳؎تمہیں مضر نہیں کہ نر ہوں یا مادہ ۴؎(ابوداؤد،ترمذی)اور نسائی نے یہاں سے روایت کیعن الغلام،الخ اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
عَنْ أُمِّ كُرْزٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلٰى مَكِنَاتِهَا» . قَالَتْ: وَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ وَلَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا». رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ ولِلتِّرْمِذِيِّ وَالنَّسَائِيّ مِنْ قَوْلِهٖ: يَقُولُ:«عَنِ الْغُلَام» إِلٰى آخِرِهٖ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِیْثٌ صَحِيْحٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4152 ، باب:عقیقہ کا بیان
روایت ہے حسن سے وہ حضرت سمرہ سے راوی ۱؎فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے لڑکا اپنے عقیقہ میں گروی ہوتا ہے۲؎ساتویں دن اس کی طرف سے ذبح کیا جائے اور نام رکھا جائے اس کا سر مونڈا جائے ۳؎احمد،ترمذی، ابوداؤد، نسائی۔لیکن ان دونوں کی روایت میں بجائے مرتہن کے رھینہ ۴؎ہے اور احمد و داؤد کی روایت میں نام رکھنے کی بجائے ہے کہ خون سے لتھیڑ دیا جائے ۵؎ابوداؤد نے کہایسمّیزیادہ صحیح ہے ۶؎
وَعَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهٖ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُسَمّٰى وَيُحْلَقُ رَأْسُهٗ».رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ لٰكِنْ فِي رِوَايَتِهِمَا «رَهِينَةٌ» بَدْلَ « مُرْتَهَنٌ » وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ وَأَبِيْ دَاوُدَ: «وَيُدْمّٰى» مَكَانَ: «وَيُسَمّٰى» وَقَالَ أَبُوْدَاوُدَ: «وَيُسَمّٰى» أَصَحُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4153 ، باب:عقیقہ کا بیان
روایت ہے محمد ابن علی ابن حسین سے ۱؎وہ حضرت علی ابن ابی طالب سے راوی فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جناب حسن رضی الله عنہ کی طرف سے ایک بکری سے عقیقہ کیا ۲؎اور فرمایا فاطمہ اس کا سر منڈا دو اور ان کے بالوں کے وزن کی چاندی خیرات کردو تو ہم نے بال تولے تو ایک درہم یا بعضہ درہم وزن ہوا ۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد متصل نہیں کیونکہ محمد ابن علی ابن حسین نے علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کو نہ پایا ۴؎
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَلِيٍّ بن أبي طَالب قَالَ: عَقَّ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَسَنِ بِشَاةٍ وَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ احْلِقِي رَأْسَهٗ وَتَصَدَّقِي بِزِنَةِ شَعْرِهٖ فِضَّةً» فَوَزَنَّاهُ فَكَانَ وَزْنُهٗ دِرْهَمًا أَوْ بَعْضَ دِرْهَمٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ وَإِسْنَادُهٗ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4154 ، باب:عقیقہ کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنھما سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حسن اور حسین کی طرف سے ایک ایک بھیڑ عقیقہ کیا۔(ابوداؤد)نسائی کے نزدیک دو دو بھیڑیں ہیں ۱؎
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ كَبْشًا كَبْشًا. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَعِنْدَ النَّسَائِيِّ: كبْشَيْنِ كَبْشَيْنِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4155 ، باب:عقیقہ کا بیان
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا ۱؎تو فرمایا الله عقوق کو پسند نہیں کرتا شاید حضور نے یہ نام ناپسند کیا ۲؎اور فرمایا جس کے بچہ پیدا ہو پھر وہ چاہے کہ اس کی طرف سے جانور دے تو لڑکے کی طرف سے دو بکریاں دے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ۳؎(ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ: «لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْعُقُوقَ» كَأَنَّهٗ كَرِهَ الِاسْمَ وَقَالَ: «مَنْ وُلِدَ لَهٗ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةً» . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4156 ، باب:عقیقہ کا بیان
روایت ہے حضرت ابو رافع سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے حسن ابن علی کے کان میں نماز کی اذان کہی جب کہ انہیں جناب فاطمہ نے جنا ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بِنِ عَلِيِّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4157 ، باب:عقیقہ کا بیان
روایت ہے حضرت بریدہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم تھے دور جاہلیت میں کہ جب ہم میں سے کسی کے بچہ پیدا ہوتا تو وہ بکری ذبح کرتا اور اس کے سر کو بکری کے خون سے لتھیڑ دیتا پھر جب اسلام آیا تو ہم ساتویں دن بکری ذبح کرتے تھے اور بچہ کا سر منڈواتے اسے زعفران سے لتھیڑتے ۲؎(ابوداؤد)اور رزین نے زیادہ کیا کہ نام رکھتے۔
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كُنَّا فِي الْجَاهِلَيَّةِ إِذَا وُلِدَ لِأَحَدِنَا غلامٌ ذَبَحَ شَاةً ولَطَخَ رَأسَهٗ بِدَمِهٖ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ كُنَّا نَذْبَحُ الشَّاةَ يَوْمَ السَّابِعِ وَنَحْلِقُ رَأْسَهٗ وَنَلْطَخُهٗ بِزَعْفَرَانٍ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَزَادَ رَزِيْنٌ: وَنُسَمِّيهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4158 ، باب:عقیقہ کا بیان