- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- باب:عدت کا بیان
باب:عدت کا بیان
نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضرت ابو سلمہ سے وہ حضرت فاطمہ بنت قیس ۱؎سے راوی کہ ابو عمرو ابن حفص نے انہیں طلاق بات دے دی جبکہ وہ غائب تھے ۲؎تو ان کے وکیل نے حضرت فاطمہ کو کچھ جو بھیجے وہ ان پر ناراض ہوئیں تو وکیل نے کہا اﷲکی قسم تمہارا ہم پر کچھ حق نہیں ۳؎تو وہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا حضور نے فرمایا تمہارے لیے خرچہ نہیں ۴؎پھر انہیں حکم دیاکہ ام شریک کے گھر عدت گزاریں ۵؎پھر فرمایا کہ وہ ایسی بی بی ہیں جن کے پاس ہمارے صحابہ گھیرے رہتے ہیں ۶؎تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو وہ نابینا آدمی ہیں ۷؎تم اپنے یہ کپڑے اتار دو ۸؎پھر جب تم فارغ ہوجاؤ تو مجھے اطلاع دینا فرماتی ہیں کہ جب میں فارغ ہوگئی تو میں نے حضور سے عرض کیا کہ معاویہ ابن ابوسفیان اور ابوجہم نے پیغام دیا ۹؎تو فرمایا کہ ابوجہم ۱۰؎اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے اتارتے ہی نہیں ۱۱؎رہے معاویہ وہ بہت تنگدست ہیں جن کے پاس مال نہیں ۱۲؎تم اسامہ ابن زید سے نکاح کرلو میں نے انہیں ناپسند کیا ۱۳؎حضور نے پھر فرمایا کہ اسامہ سے نکاح کرلو میں نے ان سے نکاح کرلیا تو اﷲنے اس نکاح میں بہت خیر دی کہ مجھ پر رشک کیا گیا ۱۴؎اور ان ہی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ ابو جہم بیویوں کو بہت مارنے والے ہیں(مسلم)اور ایک روایت میں ہے کہ ان کے خاوند نے انہیں تین طلاقیں دے دیں ۱۵؎تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں حضور نے فرمایا تمہارے لیے خرچہ نہیں مگر اس صورت میں کہ حاملہ ہوتیں ۱۶؎
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيْلُهُ الشَّعِيرَ فَسَخِطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللّٰهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: "لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ"، فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ: "تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ،فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي" قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ: "أَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" فَكَرِهْتُهُ ثُمَّ قَالَ: "انْكِحِي أُسَامَةَ" فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللّٰهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتُبِطْتُ، وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا: "فَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "لَا نَفَقَةَ لَكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3324 ، باب:عدت کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ فاطمہ ایک سنسان مکان میں تھیں ۱؎ان کے آس پاس پر خوف کیا گیا ۲؎اس لیے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اجازت دی یعنی منتقل ہو جانے کی ۳؎اور ایک روایت میں ہے فرماتی ہیں کیا ہوا فاطمہ کو کیا وہ اﷲسے نہیں ڈرتیں یعنی یہ کہتے ہیں کہ مطلقہ کو نہ مکان ہے نہ خرچہ ۴؎(بخاری)
وَعَنْ عائشةَ قَالَتْ: إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا، فَلِذَلِكَ رَخَّصَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي فِي النُّقْلَةِ. وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَتْ: مَا لِفَاطِمَةَ؟ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ؟ تَعْنِي فِي قَوْلِهَا: لَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3325 ، باب:عدت کا بیان
روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے فرماتے ہیں کہ فاطمہ منتقل کی گئی اپنے دیوروں پر زبان درازی کی وجہ سے ۱؎(شرح سنہ)
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: إِنَّمَا نُقِلَتْ فَاطِمَةُ لِطُولِ لِسَانِهَا عَلَى أَحْمَائِهَا. رَوَاهُ فِي "شرح السّنة".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3326 ، باب:عدت کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں میری خالہ کو تین طلاقیں دی گئیں ۱؎تو انہوں نے اپنے کھجوروں کے پھل توڑنا چاہے تو ایک شخص نے انہیں باہر جانے سے منع کیا ۲؎و ہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئیں حضور نے فرمایا ہاں اپنے کھجوروں کے پھل توڑو ممکن ہے تم خیرات کرویا بھلے کام کرو ۳؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: طُلِّقَتْ خَالَتِي ثَلَاثًا، فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا، فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "بَلَى فَجُدِّي نَخْلَكِ، فَإِنَّهُ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3327 ، باب:عدت کا بیان
روایت ہے حضرت مسور ابن مخرمہ سے کہ سبیعہ اسلیمہ اپنے خاوند ۱؎کی وفات کے چند دنوں بعد نفاس والی ہوگئیں ۲؎تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں آپ سے نکاح کرلینے کی اجازت مانگی حضور نے انہیں اجازت دیدی تو انہوں نے نکاح کرلیا ۳؎(بخاری)
وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ: أَنَّ سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَأَذَنَتْهُ أَنْ تَنْكِحَ،فأَذِنَ لَهَا فَنَكَحَتْ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3328 ، باب:عدت کا بیان
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں بولیں یارسول اﷲمیری اس بچی کا خاوند فوت ہوگیا ہے اورا س کی آنکھیں دکھتی ہیں تو کیا ہم اسے سرمہ لگائیں ۱؎تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا نہیں دو بار یا تین بار ہر دفعہ یہ ہی فرماتے تھے نہیں ۲؎پھر فرمایا اب تو چار ماہ دس دن ہی ہیں زمانہ جاہلیت میں تو تم میں سے ہر ایک پورے سال پر مینگنی پَھینکتی تھی ۳؎(مسلم)
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنُهَا أَفَنَكْحُلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا" مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: "لَا"، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وعشرٌ، وَقد كَانَت إِحْدَاكُنَّ فِي الجاهليَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3329 ، باب:عدت کا بیان
روایت ہے حضرت ام حبیبہ اور زینب بنت جحش سے ۱؎وہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں نہیں حلال کسی ایسی عورت کو جو اﷲو قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو۲؎یہ کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے خاوند کے اس پر چار ماہ دس دن ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ وَزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3330 ، باب:عدت کا بیان
روایت ہے ام عطیہ سے ۱؎کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے بجز خاوند کے کہ اس پر چار ماہ دس دن کرے اور رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنے سوائے بناوٹی رنگین کپڑے کے ۲؎اور نہ سرمہ لگائے ۳؎نہ خوشبو لگائے مگر جب کہ پاک ہو تو ایک ٹکڑہ قسط یا اظفار کا ۴؎(مسلم،بخاری)ابوداؤد نے زیادہ فرمایا کہ نہ خضاب کرے ۵؎
وَعَن أُمِّ عطيَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تُحِدُّ امْرَأَةٌ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا تَلْبَسْ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلَا تَكْتَحِلْ، وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا إِذَا طَهُرَتْ نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ: "وَلَا تَخْتَضِبُ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3331 ، باب:عدت کا بیان
روایت ہے حضرت زینب بنت کعب سے ۱؎کہ فریعہ بنت مالک ابن سنان جوابو سعید خدری کی بہن ہیں انہوں نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں آپ سے اپنے گھر لوٹ جانے کے متعلق پوچھتی تھیں جو بنی خدرہ میں تھا ۲؎کیونکہ ان کے خاوند اپنے بھاگے ہوئے غلاموں کے پیچھے گئے غلاموں نے انہیں قتل کردیا۳؎فرماتی ہیں میں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ میں اپنے گھر لوٹ جاؤں کیونکہ میرے خاوند نے مجھے کسی ایسے گھر میں نہ چھوڑا جس کا وہ مالک ہو نہ خرچہ میں۴؎فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے ہاں ۵؎چنانچہ میں لوٹ گئی حتی کہ جب میں حجرہ یا مسجد میں پہنچی تو مجھے بلایا ۶؎اور فرمایا اپنے گھر میں رہو حتی کہ قرآنی حکم اپنی معیاد کو پہنچ جائے ۷؎فرماتی ہیں کہ میں نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن عدت گزاری ۸؎(مالک،ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ، دارمی)۹؎
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ: أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ -وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ- أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ، فَإِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوافَقَتَلُوهُ، قَالَتْ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي، فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَنْزِلٍ يَمْلِكُهُ وَلَا نَفَقَةٍ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "نَعَمْ" فَانْصَرَفْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ دَعَانِي فَقَالَ: "امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ" قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3332 ، باب:عدت کا بیان
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ جب ابو سلمہ فوت ہوئے تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ایلوالگا رکھا تھا ۱؎تو فرمایا اے ام سلمہ یہ کیا ہے ؟ میں بولی وہ ایلوا ہے جس میں خوشبو نہیں ۲؎تو فرمایا کہ یہ چہرے کو رنگین تو کرتا ہے لہذا یہ نہ لگاؤ مگر رات میں ۳؎اور دن میں چھوڑ دو اور نہ خوشبو دار تیل اور نہ مہندی لگاؤ کہ مہندی خضاب ہے ۴؎میں بولی کہ پھر کنگھی کس چیز سے کروں یا رسول اﷲ؟ ۵؎فرمایا بیری سے کہ اس سے اپنے سر کا لیپ کرلو ۶؎(ابوداؤد،نسائی)۷؎
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ وَقَدْ جَعَلْتُ عليَّ صَبِرًا، فَقَالَ: "مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ؟ " قُلْتُ: إِنَّمَا هُوَ صَبِرٌ لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ، فَقَالَ: "إِنَّهُ يَشُبُّ الْوَجْهَ فَلَا تَجْعَلِيهِ إِلَّا بِاللَّيْلِ وَتَنْزِعِيهِ بِالنَّهَارِ، وَلَا تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ وَلَا بِالْحِنَّاءِ فَإِنَّهُ خِضَابٌ" قُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ أَمْتَشِطُ؟ يَا رَسُولَ اللّٰهِ! قَالَ: "بِالسِّدْرِ تَغَلفِينَ بِهِ رَأْسَكِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3333 ، باب:عدت کا بیان
روایت ہے ان ہی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا جس کا خاوند فوت ہوجائے،وہ نہ تو زعفرانی کپڑے پہنے اور نہ سرخ رنگ کے ۱؎اور نہ زیور پہنے اور نہ خضاب لگائے نہ سرمہ لگائے ۲؎(ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "المُتَوَفَّى عَنْهَا زوجُها لَا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّيَابِ، وَلَا الْمُمَشَّقَةَ،وَلَا الْحُلِيَّ، وَلَا تَخْتَضِبُ، وَلَا تَكْتَحِلُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3334 ، باب:عدت کا بیان
روایت ہے حضرت سلیمان ابن یسار سے ۱؎کہ حضرت احوص شام میں فوت ہوگئے ۲؎جب کہ ان کی بیوی تیسرے حیض میں داخل ہوئیں وہ انہیں طلاق دے چکے تھے ۳؎تو حضرت معاویہ ابن ابوسفیان نے زید ابن ثابت کو خط لکھا ان سے اس کے متعلق دریافت کرتے تھے ۴؎تو حضرت زید نے انہیں لکھا کہ وہ جب تیسرے حیض میں داخل ہوگئیں تو اپنے خاوند سے علیحدہ ہوچکیں اور وہ ان سے علیحدہ ہوگئے ۵؎نہ یہ ان کی وارث ہوں نہ وہ ان کے ۶؎(مالک)
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ الأَحْوَصَ هَلَكَ بِالشَّامِ حِينَ دَخَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ، وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا، فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ ابْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ زَيْدٌ: أَنَّهَا إِذَا دَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ وَبَرِئَ مِنْهَا، لَا يرِثُهَا وَلَا تَرِثُهُ رَوَاهُ مَالِكٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3335 ، باب:عدت کا بیان
روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے فرماتے ہیں فرمایا حضرت عمر ابن خطاب نے کہ جو عورت طلاق دی جائے پھر ایک یا دو حیض آجائیں پھر اس کے بعد حیض بند ہوجائیں ۱؎تو وہ نو مہینے انتظار کرے ۲؎پھر اگر اس کو حمل ظاہر ہوجائے ۳؎توفبھاورنہ نو مہینے کے بعد تین ماہ عدت گزارے پھر وہ حلال ہو جائے گی ۴؎(مالک)
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ -رضي اللَّه عنه-: أَيُّمَا امْرَأَةٍ طُلِّقَتْ فَحَاضَتْ حَيْضَةً أَوْ حَيْضَتَيْنِ، ثُمَّ رُفِعَتْهَا حَيْضَتُهَا؛ فإنَّهَا تَنْتَظِرُ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ، فَإِنْ بَانَ بِهَا حَمْلٌ فَذَلِكَ، وَإِلَّا اعْتَدَّتْ بَعْدَ التِّسْعَةِ الأَشْهُرِ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ ثم حلَّتْ. رَوَاهُ مَالِكٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3336 ، باب:عدت کا بیان