- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- باب:صلح کا بیان
باب:صلح کا بیان
جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے مسور ابن مخرمہ سے اور مروان ابن حکم سے ۱؎دونوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم حدیبیہ کے سال چند اور دس سو صحابہ کی جماعت میں تشریف لے گئے۲؎تو جب ذوالحلیفہ پہنچے تو ہدی کو ہار پہنایا اور اشعار کہا۳؎اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا اور چلے حتی کہ جب اس پہاڑی پر پہنچے جہاں سے مکہ والوں پر اتراجاتا ہے۴؎تو آپ کو لےکر آپ کی سواری بیٹھ گئی تو لوگ بولے اٹھ اٹھ قصواء اڑیل ہوگئی قصواء اڑیل ہوگئی ۵؎تب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ قصواء اڑیل نہیں ہوگئی نہ اس کی یہ عادت ہے لیکن اسے ہاتھیوں کے روکنے والے نے روک لیا ۶؎پھر فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ وہ مجھ سے کوئی مطالبہ ایسا نہ کریں گے جس میں اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کریں گے مگر میں انہیں دے دوں گا ۷؎پھر اسے ڈانٹا تو وہ کود کر اٹھی پھر حضور نے ان سے عدول فرمایا ۸؎حتی کہ حدیبیہ کے کنارہ اترے تھوڑے پانی والی جگہ پر کہ وہاں سے لوگ تھوڑا تھوڑا پانی لیتے تھے ۹؎تو نہ چھوڑا اسے لوگوں نے حتی کہ اسے خشک کردیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پیاس کی شکایت کی ۱۰؎تو حضور نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا پھر انہیں حکم دیا کہ یہ اس کنوئیں میں ڈال دیں ۱۱؎توﷲکی قسم وہ کنواں پانی سے جوش مارتا رہا حتی کہ وہ لوگ وہاں سے لوٹ گئے ۱۲؎وہ اس حال میں تھے کہ بدیل ابن ورقاء خزاعی خزاعہ کی ایک جماعت حضور کے پاس آئی۱۳؎پھر آپ کے پاس عروہ ابن مسعود آیا ۱۴؎حدیث پوری بیان کی یہاں تک کہا کہ جب سہیل ابن عمرو آیا ۱۵؎تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ لکھو یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر اللہ کے رسول محمد نے فیصلہ فرمایا ۱۶؎تو سہیل بولا خدا کی قسم اگر ہم آپ کوﷲکا رسول جانتے تو آپ کو بیت اللہ سے نہ روکتے نہ آپ سے جنگ کرتے لیکن آپ یوں لکھیں محمد ابن عبدﷲ۱۷؎راوی کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا واللہ میں رسول اللہ ہوں اور اگر تم جھٹلاتے ہی ہو تو لکھ لو محمد ابن عبداللہ ۱۸؎پھر سہیل بولا کہ اس شرط پر صلح ہے کہ ہم میں سے کوئی آدمی آپ کے پاس نہ آوے اگرچہ آپ کے دین پر ہو مگر آپ اسے ہماری طرف لوٹا دیں ۱۹؎جب لکھت پڑھت کے جھگڑے سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اپنے اصحاب سے قربانیاں کرو پھر سر منڈواؤ۲۰؎پھر کچھ عورتیں مؤمنہ آئیں تو اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری،اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مؤمن عورتیں ہجرت کرکے آئیں الخ،چنانچہ انہیں اللہ تعالٰی نے ان عورتوں کے واپس کرنے سے منع فرمادیا ۲۱؎اور یہ حکم دیا کہ ان کے مہر واپس کردیں۲۲؎پھر حضور مدینہ واپس ہوئے تو آپ کی خدمت میں ایک قرشی شخص ابو بصیر مسلمان ہوکر آئے۲۳؎مکہ والوں نے ان کے طلب کے لیے دو شخص بھیجے حضور نے انہیں ان دوشخصوں کے حوالہ کردیا وہ انہیں لےکر نکلے حتی کہ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو اپنی کھجوریں کھانے کے لیے اترے۲۴؎تو ابو بصیر نے ان میں سے ایک سے کہا اے فلاں خدا کی قسم میں تیری اس تلوار کو بہت ہی اچھی دیکھ رہا ہوں مجھے دکھا تو میں اسے دیکھوں اس نے انہیں تلوار پر قابو دے دیا انہوں نے اسے مار دیا حتی کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا اور دوسرا بھاگ گیا ۲۵؎حتی کہ مدینہ پہنچا دوڑتا ہوا مسجد میں آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس نے کوئی سخت ڈر دیکھا ہے ۲۶؎وہ بولا واللہ میرا ساتھی تو قتل کردیا گیا اور میں بھی قتل ہوجاؤں گا۲۷؎اتنے میں ابوبصیر آگئے تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس کی ماں کی خرابی ہے ۲۸؎اگر اس کا کوئی مددگار ہو تو یہ جنگ بھڑکاوے۲۹؎انہوں نے جب یہ سنا تو پہچان گئے کہ حضور انہیں مکہ والوں کے حوالہ کردیں گے ۳۰؎تو یہ نکل کھڑے ہوئے حتی کہ سمندر کنارہ آگئے ۳۱؎فرماتے ہیں کہ ادھر ابوجندل ابن سہیل چھوٹ گئے تو ابوبصیر سے مل گئے۳۲؎پھر قریش کا کوئی آدمی جو مسلمان ہوجاتا وہ نہ نکلتا مگر ابوبصیر سے مل جاتا ۳۳؎تاآنکہ ان کی ایک جماعت جمع ہوگئی پھر تو خدا کی قسم یہ لوگ نہ سنتے قریش کے کسی قافلہ کو جو شام کی طرف نکلتا مگر یہ اس کے آڑےہوتے انہیں قتل کردیتے اور ان کے مال لے لیتے ۳۴؎تب قریش نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف پیغام بھیجا جس میں وہ حضور کوﷲتعالٰی کی قسم قرابت داری کا واسطہ دینے لگے کہ حضور انہیں بلا بھیجیں اب جو آپ کے پاس آئے اسے امان ہے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں بلا بھیجا ۳۵؎(بخاری)
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ اِبْنِ الْحَكَمِ قَالَا: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِئَةً مِنْ أَصْحَابِهٖ،فَلَمَّا أَتٰى ذَا الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ، وَأَشْعَرَ، وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ، وَسَارَ حتّٰى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ الَّتِيْ يُهْبَطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا، بَرَكَتْ بِهٖ رَاحِلَتُهٗ، فَقَالَ النَّاسُ: حَلْ حَلْ خَلأَتِ القَصْوَاءُ! خَلأَتِ الْقَصْوَاءُ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا خَلأَتِ الْقَصْوَاءُ وَمَا ذَاكَ لَهَا بِخُلُقٍ،وَلٰكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيْلِ" ثُمَّ قَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِيْ بِيَدِهٖ لَا يَسأَلُوْنِيْ خُطَّةً يُعَظِّمُوْنَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللّٰهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا"، ثُمَّ زَجَرَهَا، فَوَثَبَتْ، فَعَدَلَ عَنْهُمْ، حتّٰى نَزَلَ بِأَقْصَى الْحُدَيبِيةِ عَلٰى ثَمَدٍ قَلِيْلِ الْمَاءِ يَتَبَرَّضُهُ النَّاسُ تَبَرُّضًا، فَلَمْ يَلْبَثْهُ النَّاسُ حتّٰى نَزَحُوْهُ،وَشُكِيَ إِلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَطَشُ، فَانْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهٖ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوْهُ فِيْهِ، فَوَاللّٰهِ مَا زَالَ يَجِيْشُ لَهُمْ بِالرِّيِّ حتّٰى صَدَرُوْا عَنْهُ، فَبَيْنَا هُمْ كَذٰلِكَ إِذْ جَاءَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ فِي نفَرٍ منْ خُزَاعَةَ، ثُمَّ أَتَاهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُوْدٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلٰى أَنْ قَالَ:إِذْ جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اُكْتُبْ: هٰذَا مَا قَاضٰى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰهِ" فَقَالَ سُهَيْلٌ: وَاللّٰهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ وَلَا قَاتَلْنَاكَ، وَلٰكِنِ اكْتُبْ: مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللّٰهِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَاللّٰهِ إِنِّيْ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ وَإِنْ كَذَّبْتُمُوْنِي، اُكْتُبْ: مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللّٰهِ" فَقَالَ سُهَيْلٌ: وَعَلٰى أَنْ لَا يَأْتِيَكَ مِنَّا رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ عَلٰى دِيْنِكَ إِلَّا رَدَدْتَهٗ عَلَيْنَا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِيَّةِ الْكِتَابِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهٖ: "قُوْمُوْا فَانْحَرُوْا ثُمَّ احْلِقُوْا"، ثُمَّ جَاءَ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ الآيَةَ فَنَهَاهُمُ اللّٰهُ تَعَالٰى أَنْ يَرُدُّوْهُنَّ،وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرُدُّوْا الصَّدَاقَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَجَاءَهٗ أَبُوْ بَصِيرٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوْ مُسْلِمٌ، فَأَرْسَلُوْا فِيْ طَلَبِهٖ رَجُلَيْنِ، فَدَفَعَهٗ إِلَى الرَّجُلَيْنِ فَخَرَجَا بِهٖ، حتّٰى إِذَا بَلَغَا ذَا الْحُلَيْفَةِ نَزَلُوْا يَأْكُلُوْنَ مِنْ تَمْرٍ لَهُمْ، فَقَالَ أَبُوْ بَصِيرٍ لِأَحَدِ الرَّجُلَينِ: وَاللّٰهِ إِنِّيْ لَأُرٰى سَيْفَكَ هٰذَا يَا فُلَانُ جَيِّدًا، أَرِنِيْ أَنْظُرْ إِلَيْهِ، فَأَمْكَنَهٗ مِنْهُ، فَضَرَبَهٗ حَتّٰى بَرَدَ، وَفَرَّ الآخَرُ حتّٰى أَتَى الْمَدِينَةَ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ يَعْدُوْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَقَدْ رَأٰى هٰذَا ذُعْرًا" فَقَالَ:قُتِلَ واللّٰهِ صَاحِبِيْ وَإِنِّي لَمَقْتُوْلٌ، فَجَاءَ أَبُوْ بَصِيْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَيْلُ أُمِّهٖ مِسْعَرَ حَوْبٍ لَوْ كَانَ لَهٗ أَحَدٌ"، فَلَمَّا سَمِعَ ذٰلِكَ عَرَفَ أَنَّهٗ سَيَرُدُّهٗ إِلَيْهِمْ، فَخَرَجَ حتّٰى أَتَى سِيفَ الْبَحْرِ قَالَ:وَانْفَلَتَ أَبُوْ جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلٍ، فَلَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ، فَجَعَلَ لَا يَخْرُجُ مِنْ قُرَيْشٍ رَجُلٌ قَدْ أَسْلَمَ إِلَّا لَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ، حَتَّى اجْتَمَعَتْ مِنْهُمْ عِصَابَةٌ، فَوَاللّٰهِ مَا يَسْمَعُوْنَ بِعِيرٍ خَرَجَتْ لِقُرَيْشٍ إِلَى الشَّامِ إِلَّا اعْتَرَضُوْا لَهَا، فَقَتَلُوْهُمْ وَأَخَذُوْا أَمْوَالَهُمْ، فَأَرْسَلَتْ قُرَيْشٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُنَاشِدُهُ اللّٰهَ وَالرَّحِمَ لَمَّا أَرْسَلَ إِلَيهِم فَمَنْ أَتَاهُ فَهُوَ آمِنٌ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِم. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4042 ، باب:صلح کا بیان
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیبیہ کے دن مشرکین سے تین چیزوں پر صلح فرمائی ۱؎اس چیز پر کہ آپ کے پاس کفار میں سے جو آوے اسے ان کی طرف لوٹا دیں۲؎اور مسلمانوں میں سے جو کوئی ان کے پاس پہنچے اسے وہ نہ لوٹائیں اور اس پر کہ سال آئندہ آپ مکہ آئیں۳؎اور وہاں تین دن قیام کریں اور وہاں نہ آویں مگر ہتھیار تلوار کمان وغیرہ ڈھکے ہوئے ۴؎تو آپ کے پاس ابوجندل اپنی قیدیوں میں گھستے ہوئے آئے تو آپ نے انہیں کفار کی طرف واپس کردیا ۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: صَالَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلٰى ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ:عَلٰى أَنَّ مَنْ أَتَاهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَدَّهٗ إِلَيْهِمْ، وَمَنْ أَتَاهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَرُدُّوْهُ، وَعَلٰى أَنْ يَدْخُلَهَا مِنْ قَابِلٍ وَيُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَلَا يَدْخُلَهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ وَالسَّيْفِ وَالْقَوْسِ وَنَحْوِهٖ، فَجَاءَہ أَبُوْ جَنْدَلٍ يَحْجُلُ فِي قُيُوْدِهٖ فَرَدَّهٗ إِلَيْهِمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4043 ، باب:صلح کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے صلح کی تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر یہ شرط لگائی کہ تم میں سے جو شخص ہمارے پاس آئے گا اسے ہم تم کو واپس نہ دیں گے اور ہم میں سے جو شخص آپ کے پاس جائے گا آپ اسے ہم پر لوٹا دیں گے ۱؎تو صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ کیا آپ یہ لکھ رہے ہیں ۲؎فرمایا ہاں جو ہم میں سے ان کے پاس جاوے تو اسےﷲنے دور کردیا ۳؎اور ان میں سے ہمارے پاس آوے گا توﷲاس کے لیے راستہ اور گنجائش کردے گا ۴؎(مسلم)
وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ قُرَيْشًا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَرَطُوْا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ جَاءَنَا مِنْكُمْ لَمْ نَرُدَّهٗ عَلَيْكُمْ، وَمَنْ جَاءَكُمْ مِنَّا رَدَدْتُمُوْهٗ عَلَيْنَا، فَقَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَنَكْتُبُ هٰذَا؟ قَالَ: "نَعَمْ إِنَّهٗ مَنْ ذهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ فَأَبْعَدَهٗ اللّٰهُ،وَمَنْ جَاءَنَا مِنْهُمْ سَيَجْعَلُ اللّٰهُ لَهٗ فَرَجًا وَمَخْرَجًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4044 ، باب:صلح کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے آپ عورتوں کی بیعت کے متعلق فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان کا اس آیت سے امتحان لیتے تھےاے نبی! جب آپ کے پاس مؤمنہ عورتیں بیعت کرنے آئیں،الخ تو ان میں سے جو بی بی اس شرط کا اقرار کرلیتی اس سے حضور فرماتے کہ میں نے تمہیں بیعت کرلیا اس کلام سے جو آپ اس سے کرتےﷲکی قسم بیعت میں حضور کا ہاتھ مبارک کسی عورت سے نہ چھوا ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فِي بَيْعَةِ النِّسَاءِ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُهُنَّ بِهٰذِهِ الآيَة: يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ ، فَمَنْ أَقَرَّتْ بِهٰذَا الشَّرْطِ مِنْهُنَّ قَالَ لَهَا: "قَدْ بَايَعْتُكِ" كَلَامًا يُكَلِّمُهَا بِهٖ، وَاللّٰهِ مَا مَسَّتْ يَدُهٗ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ فِي الْمُبَايَعَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4045 ، باب:صلح کا بیان
روایت ہے مسور اور مروان سے کہ مسلمانوں نے دس سال تک جنگ بند رہنے پر صلح کی ان سالوں میں لوگ امن سے رہیں ۱؎اور اس شرط پر کہ ہمارے درمیان بند صندوق ہو۲؎اور یہ کہ نہ تلوار سونتنا ہو نہ زرہ پہننا ۳؎(ابوداؤد)
عَنِ الْمِسْوَرِ وَمَرْوَانَ: أَنَّهُمُ اصْطَلَحُوْا عَلٰى وَضعِ الْحَرْبِ عَشْرَ سِنِينَ يَأْمَنُ فِيهِنَّ النَّاسُ، وَعَلٰى أَنَّ بَيْنَنَا عَيْبَةً مَكْفُوْفَةً وَأَنَّهٗ لَا إِسْلَالَ وَلَا إِغْلَالَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4046 ، باب:صلح کا بیان
روایت ہے صفوان ابن سلیم سے ۱؎وہ متعدد صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بیٹوں سے ۲؎راوی وہ اپنے والدوں سے۳؎راوی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ خبردار رہو جس نے کسی معاہدہ والے کافر پرظلم کیا یا عہد توڑا ۴؎یا اسے طاقت سے زیادہ تکلیف دی یا اس سے کوئی چیز ناخوش دلی سے لی ۵؎تو قیامت کے دن اس کا مقابل میں ہوں گا ۶؎(ابوداؤد)
وَعَنْ صَفْوَانَ اِبْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عِدَّةٍ مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ آبَائِهِمْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"أَلَا مَنْ ظَلَمَ مُعَاهِدًا، أَوِ انْتَقَصَهٗ، أَوْ كَلَّفَهٗ فَوْقَ طَاقَتِهٖ، أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ، فَأَنَا حَجيجُهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4047 ، باب:صلح کا بیان
روایت ہے حضرت امیمہ بنت رقیقہ سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے چند عورتوں کی جماعت میں بیعت کی تو فرمایا اس میں جس میں تم طاقت و قدرت رکھو ۲؎میں نے کہا اللہ کے رسول ہم پر ہم سے زیادہ رحیم ہیں۳؎بولی یارسول اللہ ہم سے بیعت لیجئے یعنی ہم سے مصافحہ کیجئے تو فرمایا میرا سو عورتوں سے فرمان ایسا ہی ہے جیسے ایک عورت سے فرمان ۴؎
وَعَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ قَالَتْ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ فَقَالَ لَنَا: "فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ" قُلْتُ: اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ أَرْحَمُ بِنَا مِنَّا بِأَنْفُسِنَا، قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! بَايِعْنَا، تَعْنِي: صَافِحْنَا، قَالَ: "إِنَّمَا قَوْلِي لِمِئَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ". رَوَاهُ .
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4048 ، باب:صلح کا بیان
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ذی قعدہ میں عمرہ کیا ۱؎تو مکہ والوں نے مکہ میں داخلہ کی اجازت دینے سے انکارکردیا حتی کہ ان سے اس شرط پر صلح ہوئی کہ اگلے سال تشریف لائیں مکہ میں تین دن قیام فرمائیں۲؎تو جب انہوں نے تحریر لکھی تو لکھا کہ یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ نے فیصلہ فرمایا وہ بولے ہم اس کا اقرار نہیں کرتے کیونکہ اگر ہم جانتے ہوتے کہ آپﷲکے رسول ہیں تو آپ کو نہ روکتے لیکن آپ محمد ابن عبداللہ ہیں ۳؎تو فرمایا کہ میں رسول اللہ بھی ہوں اور محمد ابن عبدﷲبھی ہوں۴؎پھر علی ابن ابی طالب سے فرمایا لفظ رسول اللہ کو محو کردو ۵؎وہ بولےﷲکی قسم میں کبھی آپ کو محو نہ کروں گا ۶؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑا حالانکہ آپ اچھی طرح لکھتے نہ تھے پھر لکھا یہ وہ ہے جس پر محمد ابن عبداللہ نے صلح فرمائی ۷؎کہ مکہ میں داخل نہ ہوں گے ہتھیاروں کے ساتھ سوا تلوار کے وہ بھی میان میں ۸؎اور یہ کہ مکہ کے باشندوں میں سے جو آپ کے ساتھ جانا چاہے اسے نہ لے جائیں گے اور یہ کہ آپ کے صحابہ میں سے نہ روکیں گے اگر وہ مکہ میں رہنا چاہے ۹؎پھر جب حضور مکہ میں تشریف لائے اور مدت گزر گئی تو مکہ والے علی کے پاس آئے بولے اپنے ایمان کے ساتھی سے عرض کرو ۱۰؎کہ ہمارے پاس سے تشریف لے جاویں کہ معیاد گزر چکی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے گئے ۱۱؎(مسلم،بخاری)
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوْهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ، حتّٰى قَاضَاهُمْ عَلٰى أَنْ يَدْخُلَ -يَعْنِي مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ- يُقِيمُ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَتَبُوا الْكِتَابَ، كَتَبُوْا: هٰذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰهِ. قَالُوْا: لَا نُقِرُّ بِهَا، فَلَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ مَا مَنَعْنَاكَ، وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ، فَقَالَ: "أَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ". ثُمَّ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: "امْحُ: رَسُوْلَ اللّٰهِ" قَالَ: لَا وَاللّٰهِ لَا أَمْحُوْكَ أَبَدًا، فَأَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَكْتُبُ فَكَتَبَ: "هٰذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ: لَا يَدْخُلُ مَكَّةَ بِالسِّلَاحِ إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ، وَأَنْ لَا يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهَا بِأَحَدٍ إِنْ أَرَادَ أَنْ يَتْبَعَهٗ، وَأَنْ لَا يَمْنَعَ مِنْ أَصْحَابِهٖ أَحَدًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا"، فَلَمَّا دَخَلَهَا، وَمَضَى الأَجَلُ، أَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوْا: قُلْ لِصَاحِبِكَ: اخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَى الأَجَلُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4049 ، باب:صلح کا بیان