- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن عمر سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خیبرکے یہود کو خیبر کے کھجور کے باغ اور وہاں کی زمین اس شرط پر دی کہ اس میں اپنے مالوں سے کام کریں ۱؎اور اس کے آدھے پھل رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے لیے ہوں ۲؎(مسلم)اور بخاری کی روایت میں یوں ہے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خیبر یہود کو اس شرط پر دیا کہ کام کاج کریں اسے جوتیں بوئیں اور پیداوار کا آدھا ان کا ہوگا ۳؎
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ إِلٰى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا عَلٰى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَلِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرُ ثَمَرِهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةِ الْبُخَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطٰى خَيْبَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2972 ، باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں ہم کھیتی باڑی کراتے تھے اوراس میں کچھ حرج نہ جانتے تھے ۱؎حتی کہ رافع ابن خدیج نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا تب اس وجہ سے ہم نے یہ کام چھوڑ دیا ۲؎(مسلم)
وَعَنهُ قَالَ: كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرٰى بِذٰلِكَ بَأْسًا حَتّٰى زَعَمَ رَافِعُ ابْن خَدِيجٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْهَا فَتَرَكْنَاهَا مِنْ أَجْلِ ذٰلِكَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2973 ، باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
روایت ہے حضرت حنظلہ ابن قیس سے وہ حضرت رافع ابن خدیج سے ۱؎راوی فرماتے ہیں مجھے میرے چچا نے خبر دی کہ صحابہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے زمانہ میں زمین کرایہ پر دیتے تھے ۲؎اس کے عوض جو نالیوں پر اُگ جائے یا اس چیز پر جسے زمین والا بیان کردیتا تھا۳؎ہم کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمادیا ۴؎میں نے حضرت رافع سے کہا کہ درہم و دینار کے عوض کیا ہے فرمایا اس میں حرج نہیں ۵؎اور جس سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے منع فرمادیا وہ تو ایسی صاف چیز ہے ۶؎کہ اگر حلال و حرام کی سمجھ رکھے اس میں غور کرے تو اسے جائز نہ رکھے کیونکہ اس میں جوا سا ہے ۷؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خديج قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمَّايَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلٰى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الأَرْبَعَاءِ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الْأَرْضِ فَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِكَ فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَكَيْفَ هِيَ بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ؟ فَقَالَ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ وَكَأَنَّ الَّذِي نُهِيَ عَنْ ذٰلِكَ مَا لَوْ نَظَرَ فِيهِ ذَوُو الْفَهْمِ بِالحَلَالِ وَالْحَرَامِ لَمْ يُجِيزُوهُ لِمَا فِيهِ مِنَ الْمُخَاطَرَةِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2974 ، باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ والے زیادہ زمیندار تھے ۱؎اور ہم میں سے بعض اپنی زمین کرایہ پردیتے تھے وہ کہتا تھا یہ ٹکڑا میرا ہے اور یہ تمہارا ہے ۲؎تو بہت دفعہ اس ٹکڑا میں پیداوار ہوتی تھی اور اس میں نہ ہوتی تھی۳؎اس لیے ان کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے منع فرمادیا۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَن رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كُنَّا أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَقْلًا وَكَانَ أَحَدُنَا يُكْرِي أَرْضَهٗ فَيَقُولُ: هٰذِهِ القِطْعَةُ لِي وَهٰذِهٖ لَكَ فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ ذِهْ وَلَمْ تُخْرِجْ ذِهْ فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2975 ، باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
روایت ہے حضرت عمرو سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے طاؤس سے کہا ۲؎کاش آپ کھیتی کرانا چھوڑ دیتے کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا ہے۳؎وہ بولے اے عمرو میں انہیں زمین دیتا ہوں اور ان کی مدد کرتا ہوں ۴؎اور صحابہ کے بڑے عالم نے مجھے خبر دی ہے یعنی حضرت ابن عباس نے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس سے منع نہ فرمایا بلکہ یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے کسی کا اپنے بھائی کو عاریۃً زمین دے دینا کچھ مقرر اجرت لینے سے بہتر ہے ۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَمْرٍو قَالَ: قُلْتُ لِطَاوُوسٍ: لَوْ تَركْتَ الْمُخَابَرَةَ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْهُ قَالَ: أَيْ عَمْرٌو إِنِّي أُعْطِيهِمْ وَأُعِينُهُمْ وَإِنَّ أَعْلَمَهُمْ أَخْبَرَنِي يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ وَلٰكِنْ قَالَ: «أَنْ يَّمْنَحْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهٗ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهِ خَرْجًا مَعْلُومًا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2976 ، باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جس کے پاس زمین ہو تو وہ اسے خود بوئے یا کسی اپنے بھائی کو عاریۃً دے دے اگر نہ مانے تو اپنی زمین روک رکھے ا؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهٗ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبٰى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهٗ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2977 ، باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ انہوں نے ہل اور کچھ کھیتی باڑی کا سامان دیکھا ۱؎تو فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ یہ چیزیں کسی کے گھر میں داخل نہ ہوں گی مگراللّٰهاس گھر میں ذلت ڈال دے گا۲؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ اَنَّہٗ رَاٰى سُكَّةً وَشَيْئًا مِنْ آلَةِ الْحَرْثِ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ هٰذَا بَيْتَ قَوْمٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ الذُّلَّ » . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2978 ، باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں ۱؎کہ جو کسی کی زمین بغیر اس کی اجازت سے کھیتی کرے تو اسے کھیت سے کچھ نہ ملے گا ہاں ا سے خرچ مل جائے گا ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)اورترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۳؎
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهٗ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ وَلَهٗ نَفَقَتُهٗ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2979 ، باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
روایت ہے حضرت قیس ابن مسلم سے وہ حضرت ابوجعفر سے راوی ۱؎فرماتے ہیں مدینہ میں ایسا کوئی گھر والا مہاجر نہیں جو تہائی یا چوتھائی پر کھیتی نہ کرتا ہو اور حضرت علی اور سعد ابن مالک، عبداللّٰهابن مسعود،عمر ابن عبدالعزیز، قاسم،عروہ اور ابوبکر و عمر و علی کی اولاد نے اور ابن سیرین نے کھیتیاں کرائیں ۲؎اور عبدالرحمن ابن اسود کہتے ہیں کہ میں عبدالرحمن ابن یزیدکے ساتھ کھیتی میں شرکت کرلیتا تھا ۳؎اور حضرت عمر نے لوگوں سے اس شرط پر معاملہ کیاتھا کہ اگر عمر اپنے پاس سے بیچ دیں تو انہیں آدھی پیداوار اور اگر وہ لوگ بیچ دیں تو انہیں اتنی پیداوار ۴؎(بخاری)۵؎
عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرَ قَالَ: مَا بِالمَدِينَةِ أَهْلُ بَيْتِ هِجْرَةٍ إِلَّا يَزْرَعُونَ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَزَارَعَ عَلِيٌّ وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ وَعَبْدُ اللّٰهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَالقَاسِمُ وَعُرْوَةُ وآلُ أَبِي بَكْرٍ وآلُ عُمَرَ وآلُ عَلِيٍّ وَابْنُ سِيرِينَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْأَسْوَدِ: كُنْتُ أُشَارِكُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ يَزِيدَ فِي الزَّرْعِ وَعَامَلَ عُمَرُ النَّاسَ عَلٰى : إِنْ جَاءَ عُمَرُ بِالبَذْرِ مِنْ عِنْدِهٖ فَلَهُ الشّطْرُ، وَإِنْ جَاؤُوا بِالْبَذْرِ فَلَهُمْ كَذَا رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2980 ، باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب