- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- باب: بخششوں کا باب
باب: بخششوں کا باب
تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ جناب عمر نے خیبر میں کچھ زمین پائی ۱؎تو آپ حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم میں نے خیبر میں ایسی زمین پائی ہے کہ میرے خیال میں ایسا نفیس مال میں نے کبھی نہ پایا ۲؎حضور والا مجھے اس کے متعلق کیا حکم فرماتے ہیں ۳؎فرمایا اگر تم چاہو تو اصل زمین محفوظ کردو اور اسے صدقہ کردو ۴؎چنانچہ حضرت عمر نے صدقہ کردی کہ اصل زمین نہ بیچی جائے اور نہ ہبہ کی جائے نہ موروثی ہو اور فقیر، قرابت داروں،اللّٰهکی راہ، مسافروں،مہمانوں میں صدقہ کردی ۵؎اس زمین کے متولی پر اس میں مضائقہ نہیں کہ اس میں سے بطریق احسن کچھ کھالے یا کھلائے ۶؎ہاں اسے مال نہ بنائے۔ابن سیرین نے فرمایاغیر متاثل مالا۷؎(مسلم،بخاری)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهٖ ؟ قَالَ: «إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا» . فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ: إِنَّهٗ لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلَا يُوهَبُ وَلَا يُورَثُ، وَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَفِي الْقُرْبٰى وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لَا جُنَاحَ عَلٰى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3008 ، باب: بخششوں کا باب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا عمر بھر کو دینا جائز ہے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْعُمْرٰى جَائِزَةٌ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3009 ، باب: بخششوں کا باب
روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ عمری عمرے والے کے گھر والوں کی میراث ہے ۱؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْعُمْرٰى مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3010 ، باب: بخششوں کا باب
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلى الله عليه وسلم نے جس شخص کو کچھ چیز بطور عمری دی گئی اسے اور اس کے پسماندگان کو ۱؎تو وہ عمری اس کا ہوگا جسے دیا گیا دینے والے کو واپس نہ ملے گا ۲؎کیونکہ وہ ایسا عطیہ دے چکا ہے جس میں وراثتیں واقع ہوگئیں ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرٰى لَهٗ وَلِعَقَبِهٖ، فَإِنَّهَا لِلَّذِي أُعْطِيهَا، لَا تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا؛ لأَنَّهٗ أَعْطٰى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3011 ، باب: بخششوں کا باب
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں وہ عمری جسے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جائز کیا ۱؎وہ یہ ہے کہ کہے یہ تیرا اور تیرے پسماندگان کا ہے ۲؎لیکن اگر یوں کہے کہ تیرے جیتے جی تیری ہے تو وہ اپنے مالک کو لوٹ جائے گی ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن يَقُولَ: هِيَ لَكَ وَلِعَقَبِكَ،فَأَمَّا إِذَا قَالَ: هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ فَإِنَّهَا تَرجِعُ إِلٰى صَاحِبِهَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3012 ، باب: بخششوں کا باب
روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا نہ کسی کو کچھ بطور رقبی دو نہ بطور عمری ۱؎جسے کچھ رقبی یا عمری دیا گیا تو وہ اس کا اور اس کے وارثوں کا ہے ۲؎(ابوداؤد)
عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُرْقِبُواأَو لَا تُعْمِرُوا فَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا أَوْ أُعْمِرَ فَهِيَ لوَرثَتِهٖ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3013 ، باب: بخششوں کا باب
روایت ہے انہی سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا عمری جائز ہے عمری والے کے لیے ہے اور رقبی جائز رقبی والے کے لیے ۱؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد)
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْعُمْرٰى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا وَالرُّقْبٰى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3014 ، باب: بخششوں کا باب
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اپنے مال اپنے پاس محفوظ رکھو انہیں بگاڑو مت ۱؎جسے کچھ عمری کے طورپر دیا گیا تو مرے جئے اس کا ہے اور اس کے پسماندگان کا ۲؎(مسلم)
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكُوا أَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ لَا تُفْسِدُوهَا فَإِنَّهٗ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرٰى فَهِيَ لِلَّذِي أُعْمِرَحَيًّا وَمَيِّتًا وَلِعَقَبِهٖ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3015 ، باب: بخششوں کا باب