- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- کتاب ارکان حج
- باب:رمی جمروں کی
باب:رمی جمروں کی
کتاب ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو بقرعید کے دن اپنی سواری پر رمی کر تے دیکھا ۱؎آپ فرماتے جاتے تھے اپنےارکان حج سیکھ لو مجھے خبر نہیں شاید میں اس حج کے بعد حج نہ کروں ۲؎(مسلم)
عَنْ جَابِرٍقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلٰى رَاحِلَتِهٖ يَوْمَ النَّحْرِ وَيَقُولُ: «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هٰذِهٖ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2618 ، باب:رمی جمروں کی
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ نے جمرہ کو ٹھیکری کے برابر کنکروں سے رمی کیا ۱؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2619 ، باب:رمی جمروں کی
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بقر عید کے دن دوپہر کے وقت جمرہ کی رمی کی مگر اس کے بعد سورج ڈھل جانے پر ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: رَمٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَأَمَّا بَعْدَ ذٰلِكَ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2620 ، باب:رمی جمروں کی
روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن مسعود سے کہ وہ بڑے جمرہ پر پہنچے تو بیت اللّٰه کو اپنے بائیں اور منٰی کو اپنے دائیں رکھا اور سات کنکریاں ماریں ۱؎کہ ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے پھر فرمایا اسی طرح انہوں نے رمی کی جن پر سورۂ بقرہ اتری ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّهٗ اِنْتَهَى إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرٰى فَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهٖ وَمِنًى عَنْ يَمِينِهٖ وَرَمٰى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ قَالَ: هٰكَذَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2621 ، باب:رمی جمروں کی
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے استنجا طاق بار ہے ۱؎جمروں کی رمی طاق بار اور صفا مروہ کے درمیان دوڑنا طاق بار اور طواف طاق بار۲؎اور جب تم میں سے کوئی ڈھیلے لے تو طاق بار۳؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الِاسْتِجْمَارُ تَوٌّ وَرَمْيُ الْجِمَارِ توٌّ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ تَوٌّ وَالطَّوَافُ تَوٌّ وَإِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ بِتَوٍّ».رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2622 ، باب:رمی جمروں کی
روایت ہے حضرت قدامہ ابن عبداللّٰه ابن عمار سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو بقرعید کے دن سرخ اونٹنی پر رمی کرتے دیکھا۲؎نہ اونٹنی کو مار تھی نہ ہانک اور نہ ہٹو بچو فرمانا۳؎(شافعی،ترمذی،ابن ماجہ،نسائی،دارمی)
عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ عَلٰى نَاقَةٍ صَهْبَاءَ لَيْسَ ضَرْبٌ وَلَا طَرْدٌ وَلَيْسَ قِيلُ: إِلَيْكَ إِلَيْكَ. رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2623 ، باب:رمی جمروں کی
روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا جمروں کی رمی اور صفا مروہ کے درمیان دوڑ،ذکر اللّٰه قائم کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہے ۱؎(ترمذی،دارمی) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے۔
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا جُعِلَ رَمْيُ الْجِمَارِ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللّٰهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2624 ، باب:رمی جمروں کی
روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللّٰه کیا ہم منٰی میں آپ کے لیے کوئی گھر نہ بنادیں جو آپ پر سایہ کرے ۱؎فرمایا نہیں،منٰی اس کی جگہ ہے جو پہلے پہنچ جائے ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)
وَعَنْهَا قَالَتْ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ ألَا نَبْنِي لَكَ بِنَاءً يُظِلُّكَ بِمِنًى؟ قَالَ:لَا،مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه والدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2625 ، باب:رمی جمروں کی
روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر پہلے دو جمروں کے پاس بہت دراز ٹھہرتے تھے ۱؎اللّٰه کی تکبیر،تسبیح اور حمدکرتے رہتے تھے،اللّٰه سے دعا مانگتے رہتے اور جمرہ عقبہ کے پاس نہ ٹھہرتے ۲؎(مالک)
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ وُقُوفًا طَوِيلًا يُكَبِّرُ اللّٰهَ وَيُسَبِّحُهٗ وَيَحْمَدُهٗ وَيَدْعُو اللّٰه وَلَا يَقِفُ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ. رَوَاهُ مَالِكٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2626 ، باب:رمی جمروں کی