- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- روزے کا بیان
- باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث
باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث
روزے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سحری کھاؤ ۱؎کہ سحری میں برکت ہے ۲؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1982 ، باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث
روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق سحری کے چند لقمے ہیں ۱؎(مسلم)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1983 ، باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث
روایت ہے حضرت سہل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ لوگ بھلائی میں رہیں گے جب تک افطار جلدی کرتے رہیں گے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ سَهْلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1984 ، باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے جب رات ادھر سے آجائے اور دن ادھر سے چلا جائے ۱؎اور سورج ڈوب جائے تو روزہ دار افطار کرے ۲؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا أَقْبَلَ اللّٰيْلُ مِنْ هَهُنَا وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَهُنَا وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1985 ، باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث
روایت ہےحضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے میں وصال کرنے سے منع فرمایا ۱؎تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے عرض کیا یارسول اللہ آپ تو وصال کرتے ہیں ۲؎فرمایا تم میں مجھ جیسا کون ہے ۳؎میں اس طرح رات گزارتاہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے ۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ، فَقَالَ لَهٗ رَجُلٌ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: "وَأَيُّكُمْ مِثْلِي؟ إنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1986 ، باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث
روایت ہے حضرت حفصہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو فجر سے پہلے روزہ کا ارادہ(نیت)نہ کرے اس کے روزے نہیں ہوتے ۱؎(ترمذی ابوداؤد نسائی،دارمی)ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے معمر زبیدی ابن عیینہ اور یونس ایلی نے حضرت حفصہ پر موقوف کیا یہ تمام حضرات زہری سے راوی ہیں ۱؎
عَن حَفْصَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمَيُّ، وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَفَهُ عَلَى حَفْصَةَ مَعْمَرٌ وَالزُّبَيْدِيُّ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَيُونُسُ الأَيْلِيُّ كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1987 ، باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اپنی ضرورت پوری کئے بغیر اسے نہ رکھے ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ أَحَدُكُمْ وَالإِنَاءُ فِي يَدِهِ فَلَا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1988 ، باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے میرے بندوں میں مجھے بہت پیارے وہ ہیں جو افطار میں جلدی کریں ۱؎(ترمذی)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "قَالَ اللّٰهُ تَعَالَى: أَحَبُّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1989 ، باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث
روایت ہے حضرت سلمان ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی روزہ افطارکرنے لگے تو چھوارے پر افطارے کہ یہ برکت ہے ۱؎پھر اگر چھوارہ نہ پائے تو پانی سے افطار کرے کہ یہ پاک کرنے والا ہے ۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)اورانہ برکۃکا لفظ ترمذی کے سواءکسی نے روایت نہ کیا۔(اپنی دوسری روایت میں)
وَعَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ، فَإِنْ لَمْ يَجدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّهُ طَهُورٌ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ. وَلَمْ يَذْكُرْ: "فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ" غَيْرُ التِّرْمِذِيِّ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1990 ، باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پہلے چند ترکھجوروں پر روزہ افطار تے تھے ۱؎اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک چھواروں پر ۲؎اگر چھوارے بھی نہ ہوتے تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُفْطِرُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى رُطَبَاتٍ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ رُطَبَاتٌ فَتُمَيْرَاتٌ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تُمَيْرَاتٌ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1991 ، باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث
روایت ہے حضرت زید بن خالد سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے جو روزے دار کو افطار کرائے یا غازی کو سامان دے تو اسے ان ہی کی طرح ثواب ہے ۱؎(بیہقی شعب الایمان)محی السنہ نے شرح سنہ میں اسے روایت کیا اور فرمایا صحیح ہے ۲؎
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "من فَطَّرَ صَائِمًا أَوْ جَهَّزَ غَازِيًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ"، وَمُحْيِي السُّنَّةِ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ" وَقَالَ: صَحِيحٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1992 ، باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطارتے تو فرماتے پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہوئیں اوران شاء اللهثواب ثابت ہوگیا ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: "ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1993 ، باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث
روایت ہے حضرت معاذ ابن زہرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطارتے تو فرماتے الٰہی میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق پر افطار کیا ۱؎(ابوداؤد مرسلًا)
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ زُهْرَةَ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- كَانَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: "اللّٰهُمَّ لَكَ صَمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ مُرْسَلًا.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1994 ، باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دین غالب رہے گا جب تک لوگ جلدی افطارکرتے رہیں ۱؎کیونکہ یہود اور عیسائی دیر سے افطار کرتے ہیں ۲؎(ابوداؤد، ابن ماجہ)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ؛ لأَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1995 ، باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث
روایت ہے حضرت ابو عطیہ سے فرماتے ہیں میں اور مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے ۱؎ہم نے عرض کیا اے ام المؤمنین حضور محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے دو حضرات ہیں ایک تو افطار بھی جلد کرتے ہیں اور نماز بھی جلد پڑھتے ہیں اور دوسرے صاحب افطار بھی دیر سے کرتے ہیں اور نماز بھی دیر سے پڑھتے ہیں ۲؎فرمانے لگیں کون صاحب نماز و افطار میں جلدی کرتے ہیں ۳؎ہم نے عرض کیا عبد الله ابن مسعود بولیں ایسے ہی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اور دوسرے حضرت ابو موسیٰ ہیں ۴؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ، وَالآخَرُ يُؤَخِّرُ الإِفْطَارَ ويُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ. قَالَتْ: أَيُّهُمَا يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ؟ قُلْنَا: عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ مَسْعُودٍ. قَالَتْ: هَكَذَا صَنَعَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، وَالآخَرُ أَبُو مُوسَى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1996 ، باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث
روایت ہے حضرت عرباض ابن ساریہ سے فرماتے ہیں مجھے رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سحری کے لیے بلایا ۱؎تو فرمایا برکت والے ناشتہ کے لیے آؤ کیونکہ سحری میں برکت ہے ۲؎(ابوداؤد،نسائی)
وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِلَى السَّحُورِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: "هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ فإن فِيْ السُحُوْرِ بَرَكَةٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1997 ، باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤمن کی اچھی سحری چھوارے ہیں ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "نِعْمَ سَحُورُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1998 ، باب : روزے کے متعلق مختلف احادیث