- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ ابن جبل نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نمازپڑھتے تھے پھر اپنی قوم میں آتے انہیں نماز پڑھاتے ۱؎( مسلم،بخاری)
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهٗ فَيُصَلِّي بِهِمْ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1150 ، باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے عشاء کی پھر اپنی قوم میں آتے انہیں عشاء پڑھاتے ان کی زائد نماز ہوتی ۱؎
وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلٰى قَوْمِهٖ فَيُصَلِّي بِهِمْ الْعِشَاءَ وَهِيَ لَهٗ نَافِلَةٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1151 ، باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
روایت ہے حضرت یزید ابن اسود سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے حج میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کے ساتھ مسجد خیف میں فجر کی نماز پڑھی جب آپ نماز پوری کرچکے اور پھر ے تو آخری قوم میں دو شخص تھے جنہوں نے آپ کے ساتھ ساتھ نماز نہ پڑھی فرمایا انہیں میرے پاس لاؤ انہیں لایا گیا ان کے کندھے کانپ رہے تھے ۲؎فرمایا کہ تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا انہوں نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم ہم اپنی منزلوں میں نماز پڑھ چکے تھے فرمایا ایسا نہ کرو جب اپنی منزلوں میں نماز پڑھ لو پھر جماعت کی مسجد میں آؤتو ان کی ساتھ بھی پڑھ لو کہ وہ تمہارے لیئے نفل ہوجائے گی۳؎(ترمذی، ابودؤد،نسائی)
عَنْ يَزِيْدِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهٗ حَجَّتَهٗ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَلَمَّا قَضٰى صَلَاتَهٗ وَانْحَرَفَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي آخِرِ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهٗ قَالَ: «عَلَيَّ بِهِمَا» فَجِيءَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟» . فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا. قَالَ: «فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1152 ، باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
روایت ہے حضرت بسر ابن محجن سے وہ اپنے والد سے راوی کہ وہ ایک مجلس میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ نماز کی اذان ہوئی ۱؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کھڑے ہوئے نماز پڑھی اور واپس ہوئے محجن اپنی جگہ رہے ان سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا کہ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے تمہیں کون سی شئے مانع ہوئی کیا تم مسلمان نہیں۲؎عرض کیا ہاں یا رسول الله لیکن میں اپنے گھر میں نماز پڑھ چکا تھا۳؎تب ان سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم مسجد میں آؤ حالانکہ نماز پڑھ چکے ہو اور نماز کی تکبیریں کہی جائیں تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لو اگرچہ پہلے پڑھ چکے ہو۴؎(مالک و نسائی)
وَعَنْ بُسْرِ بْنِ مِحْجَنٍ عَنْ أَبِيه أَنَّهٗ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُذِّنَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰى وَرَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهٖ فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ؟ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟» فَقَالَ: بَلٰى يَا رَسُولَ اللهِ وَلَكِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا جِئْتَ الْمَسْجِدَ وَكُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1153 ، باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
روایت ہے ایک شخص اسد ابن خزیمہ سے ۱؎کہ انہوں نے حضرت ابو ایوب انصاری سے پوچھا کہا کہ ہم میں سے کوئی اپنی جگہ نماز پڑھ لے پھر مسجد میں آئے اور نماز کی تکبیر ہو تو کیا میں ان کے ساتھ نماز پڑھ لوں میرے دل میں اس سے کچھ شبہ ہے ۲؎ابو ایوب نے فرمایا کہ ہم نے اس کے متعلق نبی صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا آپ نے فرمایا یہ اس کے لیئے ڈبل حصہ ہے ۳؎(مالک و ابودؤد)
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ أَنَّهٗ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ: يُصَلِّي أَحَدُنَا فِي مَنْزِلِهِ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَأُصَلِّي مَعَهُمْ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا من ذٰلِكَ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: سَأَلَنَا عَنْ ذٰلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَذٰلِكَ لَهٗ سَهْمُ جَمْعٍ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1154 ، باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
روایت ہے حضرت یزید ابن عامر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نماز میں تھے میں بیٹھ گیا اور ان کے ساتھ نماز میں شامل نہ ہوا ۱؎جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے میں بیٹھا ہوا تھا تو فرمایا اے یزید تم مسلمان نہیں میں نے عرض کیا ہاں یارسول الله میں مسلمان ہوچکا فرمایا کہ تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز میں شرکت سے کس نے منع کیا ۲؎میں نے عرض کیا کہ میں اپنی جگہ میں نماز پڑھ چکا ہوں میں سمجھا کہ آپ حضرات نماز پڑھ چکے ۳؎تو فرمایا کہ جب تم نماز کو آؤ اور لوگوں کو پاؤ ان کے ساتھ نماز پڑھو اگرچہ پڑھ چکے ہو یہ نماز تمہاری نفل ہوجائے گی اور وہ فرض ۳؎(ابودؤد)
وَعَنْ يَزِيدِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَجَلَسْتُ وَلَمْ أَدْخُلْ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاِنِّي جَالِسًا فَقَالَ: «أَلَمْ تُسْلِمْ يَا يَزِيْدُ؟» قُلْتُ: بَلٰى يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ أَسْلَمْتُ. قَالَ: «وَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِي صَلَاتِهِمْ ؟» قَالَ: إِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي أَحْسِبُ أَنْ قَدْ صَلَّيْتُمْ. فَقَالَ: «إِذَا جِئْتَ الصَّلَاةَ فَوَجَدْتَ النَّاسَ فَصَلِّ مَعَهُمْ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ تَكُنْ لَكَ نَافِلَةً وَهٰذِه ٖمَكْتُوْبَةً» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1155 ، باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
ر وایت ہے حضرت ابن عمر رضی الله عنہما سے کہ کسی نے ان سے پوچھا عرض کیا کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں پھر امام کے ساتھ مسجد میں نماز پاتا ہوں کیا اس کے ساتھ بھی پڑھوں فرمایا ہاں اس نے کہا ان دونوں میں سے اپنی نماز کسے سمجھوں ۱؎حضرت ابن عمر نے فرمایا یہ تمہارا کام نہیں یہ تو الله عزوجل کا کام ہے ان میں سے جسے چاہے نماز بنائے ۲؎(مالک)
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهٗ فَقَالَ: إِنِّي أُصَلِّي فِي بَيْتِي ثُمَّ أَدْرِكُ الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ الْإِمَامِ أَفَأُصَلِّي مَعَهُ؟ قَالَ لَهٗ : نَعَمْ قَالَ الرَّجُلُ: أَيَّتُهُمَا أَجْعَلُ صَلَاْتِيْ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَذٰلِكَ إِلَيْكَ؟ إِنَّمَا ذٰلِكَ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ يَجْعَلُ أَيَّتُهُمَا شَاءَ. رَوَاهُ مَالِكٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1156 ، باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
روایت ہے حضرت سلیمان مولیٰ میمونہ سے ۱؎فرماتے ہیں مقام بلاط میں حضرت ابن عمر کے پاس گئے لوگ نماز پڑھ رہے تھے ۲؎میں نے عرض کیا کہ کیا آپ ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے ۳؎فرمایا میں پڑھ چکا ہوں اور میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ایک دن میں ایک نماز دوبارہ نہ پڑھو ۴؎(احمد،ابو داؤد،نسائی)
وَعَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلٰى مَيْمُونَةَ قَالَ: أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ عَلَی البَلَاطِ وَهُمْ يُصَلُّونَ. فَقُلْتُ: أَلَا تُصَلِّي مَعَهُمْ؟ فَقَالَ: قَدْ صَلَّيْتُ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ الله يَقُولُ: «لَا تُصَلُّوا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ» . رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1157 ، باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الله ابن عمر فرماتے ہیں کہ جو مغرب یا فجر پڑھ لے پھر انہیں امام کے ساتھ پالے تو دوبارہ نہ پڑھے ۱؎(مالک)
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: مَنْ صَلّٰى الْمَغْرِبَ أَوِ الصُّبْحَ ثُمَّ أَدْرَكَهُمَا مَعَ الْإِمَامِ فَلَا يَعُدْ لَهُمَا . رَوَاهُ مَالِكٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1158 ، باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان