Book Name:Takleef Na Dijiye

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُود شریف لکھنے والے کی مغفرت ہوگئی

         حضرتِ سیِّدُناسفیان بن عُیَیْنَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میرا ایک اسلامی بھائی تھا ، مرنے کے بعد اسے خواب میں دیکھ کر پوچھا : مَافَعَلَ اﷲُ بِک؟ یعنی  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیامُعامَلہ فرمایا؟جواب دیا :  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے مجھے بخش دیا۔ میں نے پوچھا : کس عمل کے سبب؟کہنے لگا : میں حدیث لکھتا تھا جب بھیشاہِ خیرُالْاَنام عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  کاذِکر ِخیر آتامیں ثواب کی نیّت سے ’’ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ‘‘لکھتا، اسی عمل کی بَرَکت سے میری مغفِرت ہوگئی۔ (اَلْقَوْلُ الْبَدِ یع ص۴۶۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 (حکایت : 1)

گندم کی بالی

        حضرت علامہ ابنُ الحاج مکی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی  نَقْل کرتے ہیں کہ ایک بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاپنے اَصحاب کے ساتھ گندم کے کھیت کے پاس سے گزرے توان کے ساتھ جانے والے ایک شخص نے گندم کی بالی کو چُھوا اور فوراً ہاتھ ہٹالیا۔ بزرگ نے یہ منظر دیکھ لیا اور اسے حکم فرمایا کہ کھیت کے مالک سے اس معاملے کو معاف کروائے۔اس شخص نے عرض کی :  حضرت!گندم کی بالی تو اسی طرح موجو د ہے اور میرے ہاتھ لگانے سے اس میں کوئی کمی نہیں آئی۔بزرگ نے ارشاد فرمایا :  تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر ایک ہزار یااس سے زیادہ لوگ یہاں سے گزریں اور سب تمہاری طرح اسے ہاتھ لگائیں تو کیا اسے نقصان پہنچے گا؟اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ اِرشاد فرمایا : تم نے جو کیا ہے وہ اس ظُلْم میں سے تمہارا حصہ ہے، پھر اس شخص نے جب تک گندم کے مالک سے معاف نہیں کروالیا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے نہ اس سے کلام فرمایا اور نہ ہی اسے اپنی صحبت میں رہنے کی اجازت دی۔ (المدخل، ۱/۲۸۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

         میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہم میں سے ہر ایک اس دنیا میں تنہا آتا ہے اور اکیلا ہی رخصت ہوتا ہے لیکن یہاں رہتا تنہا نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے ، ہماری ذات سے کبھی کسی کو راحت پہنچتی ہے تو کبھی تکلیف اور کبھی کچھ بھی نہیں یعنی تکلیف نہ راحت ، اگر دیگر مسلمانوں کو ہم سے راحت پہنچے گی تو نیتِ خیر ہونے کی صورت میں ہمیں اس کا ثواب ملے گا ، بلا وجہِ شرعی تکلیف پہنچائیں گے تو عذاب کی حقداری ہے اور تیسری صورت میں نہ ثواب نہ عذاب ۔ کوشش ہونی چاہئے کہ ہم باعثِ زحمت نہیں سببِ راحت بنیں ۔ اس حوالے سے ہمارے رویّے مختلف ہوتے ہیں ، بعض اسلامی بھائیوں کی اس طرف خوب توجہ ہوتی ہے کہ ہماری ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے ، اگر ان سے کسی مسلمان کو تکلیف پہنچ بھی جائے تو انہیں احساسِ نَدامت ہوتا ہے اور وہ



 1     تادمِ تحریر(جمادی الاُخری۱۴۳۷ھ)10شعبے مزید قائم ہوچکے ہیں : (۷)فیضانِ قراٰن (۸) فیضانِ حدیث (۹)فیضانِ صحابہ واہل بیت (۱۰) فیضانِ صحابیات وصالحات  (۱۱)شعبہ امیراہلسنّت (۱۲)فیضانِ مدنی مذاکرہ (۱۳)فیضانِ اولیاوعلما (۱۴) بیاناتِ دعوتِ اسلامی(۱۵)رسائلِ دعوت اسلامی(۱۶) عربی (مجلس المدینۃ العلمیۃ) تراجم۔     



Total Pages: 52

Go To