Book Name:Dars e Taraveeh - 06 Ramazan - Para 06
سُورۂ مائدہ کی پہلی آیت میں عہد نبھانے کا حکم دیا گیا تھا، آیت :13 سے لے کر آگے تک پچھلی اُمّتوں میں جنہوں نے عہد توڑے ان کو جو سزائیں ملیں، ان کو بیان کیا گیا، خُلاصہ یہ ہے کہ*بنی اسرائیل نے عہد توڑے تو ان پر لعنت برسی اور دِل سخت کر دئیے گئے *یونہی عیسائیوں نے عہد توڑے تو ان کا اِتحاد ٹوٹ گیا، دُشمنیاں اور عداوتیں ان میں عام ہو گئیں ۔
آیت: 20 تا 26 بنی اسرائیل کا ایک سبق آموز واقعہ ذِکْر ہوا، خُلاصہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا اَصْل وطن مُلْکِ شام تھا، جس پر قومِ عمالقہ نے قبضہ کر لیا تھا، انہیں حکم ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کی قیادت میں آگے بڑھو اور اپنا وطن آزاد کرواؤ...!! یہ حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کی قیادت میں لشکر لے کر نکلے، مقامِ تِیَہ جو ایک بڑا میدان تھا، وہاں پہنچ کر یہ لوگ مُکر گئے اور انتہائی بےشرمی سے بولے: اے موسیٰ! آپ جائیے! آپ کا رَبّ جائے! ہم یہاں بیٹھے ہیں، جب مُلْکِ شام آزاد ہو جائے تو ہمیں بتا دیجئے گا، ہم بھی آجائیں گے۔ اس کی انہیں سزا دی گئی کہ 40 سال تک اسی وسیع و عریض میدان میں قید رہے، یہ صبح کو نکلتے، شام تک سَفَر کرتے کرتے رُکتے تو دیکھتے کہ جہاں سے چلے تھے، وہیں کھڑے ہیں۔ یُوں 40 سال تک یہ اسی میدان میں پھنسے رہے۔
آیت: 27 تا 31 ہابیل اور قابیل کا واقعہ ذِکْر ہوا، یہ دونوں حضرت آدم علیہ السَّلام کے بیٹے تھے، قابیل حَسَد میں مبتلا ہوا، دونوں نے قربانی پیش کی،حضرت ہابیل چونکہ متقی