Book Name:Dars e Taraveeh - 06 Ramazan - Para 06
اس سے اگلی آیت میں بھلے کام چُھپ کر اور اِعْلانیہ طور پر جیسے ہو سکے کرنے کی ترغیب دِلائی گئی، ساتھ ہی لوگوں کی خطائیں معاف کرنے کا حکم دیا کہ تم دوسروں کی خطائیں معاف کیا کرو! بیشک اللہ پاک بخشنے والا، بڑی قدرت والا ہے۔
سب رسولوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے
آیت: 150 تا 152 میں اِیْمانیات کے متعلق ایک اَہَم قاعدہ بیان ہوا، خُلاصہ یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ اللہ پاک کے نبیوں پر اِیْمان لانے میں فرق کرتے ہیں، یہودی حضرت موسیٰ علیہ السَّلام پر ایمان رکھتے ہیں،حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کا اِنْکار کرتے ہیں، عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام پر ایمان رکھتے ہیں، آخری نبی محمدِ عربی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا اِنْکار کرتے ہیں، ارشاد ہوا: جو اِیْمان لانے میں یُوں نبیوں کے درمیان فرق کرے، یہ پکّے کافِر ہیں، ان کے لئے ذِلّت کا عذاب تیار کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس اَہْلِ ایمان سبھی انبیائے کرام علیہمُ السَّلام پر اِیْمان رکھتے ہیں، اللہ پاک عنقریب ان کو اَجْر عطا فرمائے گا۔
اَہْلِ کتاب کے جرائِم اور لعنت برسنے کے اسباب
آیت: 153سے 161 تک یہود پر لعنت برسنے کے اَسْباب بیان ہوئے، مثلاً * انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السَّلام سے گُستاخانہ مطالبے کئے *بچھڑے کی پُوجا کی *اللہ پاک کے عہد توڑے *اللہ پاک کی آیات کا اِنْکار کیا *انبیائے کرام علیہمُ السَّلام کو شہید کیا *اُمِّ عیسیٰ حضرت مریَم رحمۃُ اللہ علیہا کی شان میں سخت گندے بہتان لگائے *حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کے متعلق یہ عقیدہ رکھا کہ آپ شہید کر دئیے گئے ہیں *ظُلْم کی راہ اپنائی *راہِ حق