Dars e Taraveeh - 06 Ramazan - Para 06

Book Name:Dars e Taraveeh - 06 Ramazan - Para 06

گیا، یعنی آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی پاک ذات خُود اللہ پاک کے وُجُود، اس کی ذات و صِفَات اور  اِسْلام کی حقانیت  کی کامِل دلیل ہے۔

دئیے معجزے انبیا کو خُدا نے                     معجزہ بن کے آیا ہمارا نبی

سُورۂ مائدہ

چھٹے پارے کے 5 وَیں رکوع سے سُورۂ مائدہ کی ابتدا ہوتی ہے۔ عربی میں دَسْترخوان کو مائِدَہ کہتے ہیں۔ اس سُورت کے آخر میں چل کر واقعہ بیان ہوا کہ بنی اسرائیل کے لئے آسمان سے کھانے کا دسترخوان اُترا تھا، اسی واقعہ کی مناسبت سے اس سُورت کو سُورۂِ مائِدہ کہتے ہیں۔ اس مبارَک سُورت کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ جب حق روشن اور واضِح ہو جائے، اب اس پر قائِم رہنا ضروری ہے، جو حق واضِح ہو جانے کے بعد بھی اس سے پِھرے، وہ عذاب کا مستحق ہے۔ ([1])  

عہد پُورا کرنے کا حکم

سُورۂ مائدہ کی پہلی  ہی آیت میں  ہر طرح کے عہد (یعنی وعدے) نبھانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے بعد اللہ پاک کے مختلف عہد ذِکْر ہوئے۔

نیکی پر مددگار بنو...!!

اس کے بعد آیت 2 تا 5 حلال و حرام جانوروں اور حلال و حرام کھانوں  کا تفصیلاً ذِکْر ہوا، حالتِ اِحْرام کے کچھ اَحْکام بھی یہاں ارشاد ہوئے، آیت 2 میں ایک اَہَم ترین ضابطہ یہ بیان ہوا کہ اے اِیْمان والو...!! نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو! گُنَاہ اور زیادتی کے کام میں کسی کی مدد نہ کرو...!!


 

 



[1]...تفسیر نظم الدرر،پارہ:6،المائدہ،تحت الآیۃ:1،جلد:2،صفحہ:384۔