Dars e Taraveeh - 06 Ramazan - Para 06

Book Name:Dars e Taraveeh - 06 Ramazan - Para 06

آج لے اُن کی پناہ، آج مدد مانگ اُن سے        پِھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا  ([1])

دِین میں غُلُو مت کرو...!!

عیسائیوں نے دِین میں غُلُو کیا، حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام  جو اللہ پاک کے بندے ہیں، انہیں مَعَاذَ اللہ! خُدا مان لیا، ان کا رَدّ کرتے ہوئے توحید کے بہترین دَلائل ارشاد ہوئے، ساتھ ہی آیت 172 میں ارشاد ہوا: تم تو انہیں خُدا ماننے کے چکّر میں ہو، جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام  خُود اللہ پاک کا بندہ ہونے پر فخر کرتے ہیں۔

یہاں سے ایک سبق مِلا کہ بندہ ہونا اِنْسان کا بہترین بلکہ سب سے اعلیٰ فخر ہے۔ عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: انسان کا سب سے اُونچا رُتبہ عبد (یعنی بندہ ہونا) ہے ۔معراج کی رات جب پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اللہ پاک کے حُضُور حاضِر ہوئے، اللہ پاک نے فرمایا: محبوب! مانگئے! عرض کیا: مولیٰ! مجھے اپنا بندہ فرما دے۔([2]) عُلَمائے کرام لکھتے ہیں، اسی وجہ سے قرآنِ کریم میں جہاں جہاں معراج کا ذِکْر آیا ہے، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو عَبْد کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔([3])  ویسے قرآنِ کریم میں آپ کو کہیں مُزَّمل فرمایا گیا، کہیں مُدَّثِّر فرمایا گیا مگر معراج کے بیان میں شانِ عبدیت کا بیان ہوا۔  

معجزہ بن کے آیا ہمارا نبی

آیت: 174 میں رسولِ اکرم نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی تشریف آوری کا ذِکْر ہوا، یہاں ایک خاص بات یہ ہے کہ اس آیت میں آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو بُرْھَان فرمایا


 

 



[1]... حدائقِ بخشش، صفحہ:56۔

[2]...تفسیر خازن،پارہ:15،الاسراء،تحت الآیۃ:1،جلد:3،صفحہ:109۔

[3]...تحفۂ معراج النبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم،صفحہ:196 ۔