Book Name:Ambiya-e-Kiraam Ki Naiki Ki Dawat

صدرُ الشَّریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہفرماتے ہیں:’’یہ تو بڑے رُتبہ والوں کی شان ہے کہ( وہ) تکلیف کا بھی اسی طرح استقبال کرتے ہیں جیسے راحت کا( استقبال کرتے ہیں ) مگر ہم جیسے کم سے کم اتنا تو کریں کہ (جب کوئی مصیبت یا تکلیف آئے تو )صبر و استقلال سے کام لیں اور جَزع و فَزع (یعنی رونا پیٹنا) کرکے آتے ہوئے ثواب کو ہاتھ سے نہ (جانے) دیں۔ اتنا تو ہر شخص جانتا ہے کہ بے صبری سے آئی ہو ئی مصیبت جاتی نہ رہے گی پھراس بڑےثواب سےمحرومی(جو مصیبتوں میں صبر کرنے پر احادیث میں بیان کیاگیا ہے)دوہری مصیبت ہے۔ (بہارِ شریعت، کتاب الجنائز، بیماری کا بیان، ۱/۷۹۹ )

امیرِ اہلسنّت،بانیِ دعوتِ اسلامی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  بَلا و مصیبت میں گرفتارہونے والوں،معمولی سی پریشانی سے گھبراجانے والوں،ذرا سی تکلیف پر شکایات کاانبارلگادینے والوں کوسمجھاتے ہوئے کیسی پیاری مدنی سوچ عطا فرماتے ہیں کہ:

ٹُوٹے گو سر پہ کوہِ بَلا صَبْر کر                                                    اے مبلغ نہ تُو ڈگمگا صَبْر کر

لب پہ حرفِ شکایت نہ لا صَبْر کر                                              ہاں یہی سُنّتِ شاہِ ابرار ہے

(وسائلِ بخشش مرمم،ص۴۷۳)

مختصروضاحت:راہ ِخدا میں کتنی ہی بڑی مصیبت اور تکلیف پیش آجائے تب بھی صبر ہی کرنا چاہیے۔ بلکہ زبان پر کوئی شکوہ و شکایت کی بات بھی نہ لانی چاہیے کیونکہ اس راہ میں صبرکرنااورتکالیف کو برداشت کرناہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سُنتِ مبارکہ  ہے۔  

صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب!                           صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کی نیکی کی دعوت

          منقول ہے کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ پاک سے  دعا کی تھی کہ انہیں ایسی حکومت عطا