Book Name:Miraaj kay Waqiaat

اُمّ الْمُؤمنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حُضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ پُورے شَعبان کے روزے رکھا کرتے تھے،تو میں نے عرض کی:کیا سب مہینوں میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ شَعبان کے روزے رکھنا ہے؟تو ارشاد فرمایا:ہاں!اللہ پاک اِس سال مرنے والی ہر جان کو لکھ دیتا ہے اور مجھے یہ پسند ہے کہ میرا وَقتِ رُخصت آئے اور میں روزہ دارہوں۔( مسندابی یعلی،۴/۲۷۷،حدیث:۴۸۹۰)

نبیِّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا:رجَب اور رَمَضان کے بیچ میں یہ مہیناہے، لوگ اِس سے غافِل ہیں۔اس میں لوگوں کے اَعمال اللہ پاک کی طرف اُٹھائے جاتے ہیں۔اور مجھے یہ محبوب ہے کہ میرا عمل اِس حال میں اُٹھایا جائے کہ میں روزہ دار ہُوں۔( شعب الایمان،باب فی الصیام،صوم شعبان، ۳/۳۷۷، حدیث: ۳۸۲۰)

سُبْحٰنَ اللہ!سُنا آپ نے!ہمارے بخشے بخشائے آقا،ہم گُناہگاروں کو بخشوانے والے مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عبادت کا عالم یہ تھا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس ماہِ مقدس میں دیگر مہینوں کے مقابلے میں نفلی عبادت کا بہت زیادہ اہتمام فرماتے تھے، ایک ہم ہیں کہ ہماری زندگی میں نہ جانے کتنی بار شَعبانُ المعظم کا ماہِ مُبارَک تشریف لایا اور بخشش و مغفرت کے پروانے تقسیم کرتا ہوا رخصت ہوگیا، مگر بدقسمتی سے ہم اس ماہِ مُبارَک میں گُناہوں سے تَوبہ کرنے،آئندہ گُناہوں سے بچنے کاپکااِرادہ کرنے،فرض نمازوں کا اہتمام کرنے، صدقہ و خیرات کرنے،تلاوتِ قرآنِ کریم، ذِکرو دُرود،روزوں اور دیگر نفل عبادت کی کثرت کرنے اور رَبِّ کریم کو راضی کرنے میں ناکام ہی رہے۔اللہکریم اور اس کے مدنی حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خوشنودی حاصل کرنے،دنیا و آخرت میں کامیابی و نجات پانے کیلئے  ہمیں خوب