باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم چالیس سال کی عمر میں مبعوث ہوئے(نبی بنے) ۱؎پھر مکہ معظمہ میں تیرہ سال قیام فرمایا کہ آپ پر وحی کی جاتی تھی پھر ہجرت کا حکم دیئے گئے تو دس سال مہاجر رہے ۲؎اور تریسٹھ سال کی عمر شریف میں وفات پائی ۳؎(بخاری،مسلم)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعِينَ سَنَةً فَمَكَثَ بِمَكَّةَ ثلاثَ عَشْرَةَ سَنَةً يُوحٰى اليْهِ ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ فهاجرَ عَشْرَ سِنِينَ وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5837 ، باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے مکہ معظمہ میں پندرہ سال قیام فرمایا ۱؎کہ سات سال تک غیبی آواز سنتے تھے اور روشنی دیکھتے تھے اور دیکھتے کچھ نہ تھے ۲؎اور آٹھ سال آپ پر وحی کی جاتی تھی اور مدینہ منورہ میں دس سال قیام کیا اور پینسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: أَقَامَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً يَسْمَعُ الصَّوْتَ وَيَرَى الضَّوْءَ سَبْعَ سِنِينَ وَلَا يَرٰى شَيْئًا وَثَمَانِ سِنِينَ يُوحٰى اِلَيْهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ.
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5838 ، باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ الله نے حضور کو ساٹھ سال کے کنارے پر وفات دی۔(مسلم و بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: تَوَفَّاهُ اللّٰهُ عَلٰى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5839 ، باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تریسٹھ سال کی عمر میں وفات دیئے گئے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تریسٹھ سال کی عمر میں ۱؎اور عمر رضی اللہ عنہ تریسٹھ سال کی عمر میں ۲؎(مسلم)محمد ابن اسمعیل بخاری نے فرمایا کہ تریسٹھ سال کی روایت زیادہ ہیں ۳؎

وَعَنْهُ قَالَ: قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَأَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَعُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ البُخَارِيُّ: ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ أَكْثَرُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5840 ، باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے ۱؎فرماتی ہیں کہ اولًا جس وحی کی رسول الله صلی الله علیہ و سلم پر ابتداء ہوئی وہ سوتے میں سچی خواب تھی ۲؎کہ آپ کوئی خواب نہ دیکھتے مگر وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہوجاتی ۳؎پھر حضور کو خلوت پسند ہوگئی تو غار حرا میں خلوت کرتے تھے وہاں اس میں عبادت کرتے ۴؎تحنثکےمعنی ہیں اپنے گھر لوٹنے سے پہلے چند راتیں عبادت کرنا حضور اس کے لیے توشہ لے جاتے تھے ۵؎پھر جناب خدیجہ کی طرف لوٹتے تھے اور اتنی راتوں کے لیے توشہ لے جاتے تھے ۶؎حتی کہ آپ پر حق آیا جبکہ آپ غار حراء میں تھے آپ کے پاس فرشتہ آیا ۷؎عرض کیا پڑھئے فرمایا میں نہیں پڑھنے والا۸؎پھر اس نے مجھے پکڑا مجھے گلے لگایا۹؎حتی کہ اسے مجھ سے مشقت پہنچی۱۰؎پھر مجھے چھوڑ دیا پھر کہا پڑھیئے میں نے کہا میں نہیں پڑھنے والا اس نے مجھے پھر پکڑا پھر مجھے دوبارہ گلے لگایا حتی کہ اس کو مجھ سے مشقت پہنچی پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا پھر کہا پڑھیئے میں نے کہا میں نہیں پڑھنے والا اس نے مجھے تیسری بار پکڑا اور مجھے گلے لگایا حتی کہ اسے مجھ سے مشقت پہنچی پھر مجھے چھوڑ دیا ۱۱؎پھرکہا پڑھیئے اپنے رب کا نام جس نے سب کچھ بنایا،جس نے جمے خون سے انسان بنایا پڑھیئے اور آپ کا رب عزت والا ہے جس نے قلم سے سکھایا ۱۲؎انسان کو وہ سب سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۱۳؎یہ وحی لے کر رسول الله صلی الله علیہ و سلم واپس ہوئے اس طرح کہ آپ کا دل کانپ رہا تھا۱۴؎جناب خدیجہ کے پاس گئے فرمایا مجھے چادر اوڑھا دو انہوں نے حضور کو چادر اوڑھائی حتی کہ آپ سے رعب جاتا رہا ۱۵؎پھر بی بی خدیجہ کو یہ خبر دے کر فرمایا کہ میں اپنی جان پر خوف کرتا ہوں۱۶؎خدیجہ بولیں رب کی قسم ہرگز نہیں الله آپ کو کبھی غمگین نہ کرے گا ۱۷؎کیونکہ آپ رشتہ جوڑتے ہیں،بات سچی کرتے ہیں، دوسروں کے بوجھ اٹھاتے ہیں،نیستی والوں کے لیے کمائی کرتے ہیں،مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں، حق کی طرف لے جانے والوں کی مدد کرتے ہیں ۱۸؎پھر حضور کو جناب خدیجہ ورقہ ابن نوفل کے پاس لےگئیں جو خدیجہ کے چچا زاد تھے ۱۹؎ان سے بولیں اے چچیرے بھائی آپ اپنے بھتیجے سے تو سنیے۲۰؎حضور سے ورقہ نے کہا اے میرے بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو ۲۱؎انہیں رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے وہ خبریں سنائیں جو آپ نے دیکھا تھا تو وررقہ نے کہا یہ وہی فرشتہ ہے جو الله نے موسیٰ علیہ السلام پر اتارا تھا۲۲؎ہائے کاش میں اس زمانہ میں قوی جوان ہوتا۲۳؎ہائے کاش میں زندہ ہوتا جب کہ آپ کو آپ کی قوم نکالے گی۲۴؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ لوگ مجھے نکالیں گے عرض کیا ہاں۲۵؎کوئی صاحب وہ پیغام نہ لائے جو آپ لائے ہیں مگر ان سے دشمنی کی گئی۲۶؎اور اگر مجھ کو آپ کا وہ زمانہ نصیب ہو تو میں آپ کی بلیغ مددکروں ۲۷؎پھر ورقہ نہ ٹھہرے کہ ان کی وفات ہوگئی اور وحی بند ہوگئی ۲۸؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهٖ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ فَكَانَ لَا يَرٰى رُؤْيًا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيهِ الخَلاءُ، وكانَ يَخْلُو بِغَارِ حِراءٍ، فَيَتَحنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ - قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلٰى أَهْلِهٖ وَيَتَزَوَّدَ لِذٰلِكَ ثُمَّ يَرْجِعَ إِلٰى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدَ لِمِثْلِهَا حَتّٰى جَاءَهُ الحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ المَلَكُ فَقَالَ: اقْرَأْ. فَقَالَ: «مَا أَنَا بِقَارِئٍ» . قَالَ: " فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتّٰى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ: اقْرَأْ. فَقُلْتُ: مَا أَنَابِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتّٰى بَلَغَ مِنِّي الْجُهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ: اقْرَأْ. فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتّٰى بَلَغَ مِنِّي الْجُهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ: اِقْرَأْ بِاسْمِ ربِّكَ الَّذِي خَلَقَ. خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ. اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ. الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ. عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ". فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجُفُ فُؤَادُهٗ فَدَخَلَ عَلٰى خَدِيجَةَ فَقَالَ: «زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي» فَزَمَّلُوهُ حَتّٰى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ لِخَدِيجَةَ وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ: «لَقَدْ خَشِيتُ عَلٰى نَفْسِي» فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: كَلَّا وَاللّٰهِ لَا يُخْزِيكَ اللّٰهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلٰى نَوَائِبِ الْحَقِّ ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهٖ خَدِيجَةُ إِلٰى وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ابْنِ عَمِّ خَدِيجَةَ. فَقَالَتْ لَهٗ: يَا ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ. فَقَالَ لَهٗ وَرَقَةُ: يَا ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرٰى؟ فَأَخْبَرَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَأٰى. فَقَالَ وَرَقَةُ: هٰذَا النَّامُوسُ الَّذِي أَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى مُوسٰى يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا إِذْ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ؟» قَالَ: نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهٖ إِلَّا عُودِيَ وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرُكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا. ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوَفِّيَ وَفَتَرَ الوَحْيُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5841 ، باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان

بخاری نے یہ زیادتی کی کہ حتی کہ نبی صلی الله علیہ و سلم غمگین ہوئے جو روایت ہم کو پہنچی ہے ۱؎اس میں ہے کہ آپ سخت غمگین بارہا صبح کے وقت گئے تاکہ اپنے کو اونچی پہاڑ کی چوٹی سے گرادیں۲؎مگر جب کبھی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھتے تاکہ وہاں سے اپنے کو گرادیں تو حضرت جبریل حضور کے سامنے آتے کہتے اے محمدآپ الله کے سچے رسول ہیں اس سے آپ کا قلق جاتا رہتا اور آپ کا دل مطمئن ہوجاتا ۳؎

وَزَادَ الْبُخَارِيُّ: حَتّٰى حَزِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَي يَتَرَدّٰى مِنْ رُؤُوْسِ شَوَاهِقِ الْجَبَلِ فَكُلَّمَا أَوْفٰى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ نَفْسَهٗ مِنْهُ تَبَدّٰى لَهٗ جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللّٰهِ حَقًّا. فَيَسْكُنُ لِذٰلِكَ جَأشُهٗ وَتَقِرُّ نَفْسُهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5842 ، باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا آپ وحی بند ہوجانے کے متعلق خبر دیتے تھے ۱؎فرمایا جب کہ ہم چل رہے تھے۲؎کہ ہم نے آسمان سے ایک آواز سنی میں نے اپنی نگاہ اٹھائی تو وہ ہی فرشتہ جو میرے پاس حراء میں آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا تھا تو میں رعب کی وجہ سے اس سے ڈرا دیا گیا۳؎حتی کہ زمین کی طرف مائل ہوگیا۴؎پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا میں نے کہا مجھے چادر اوڑھاؤ مجھے چادر اوڑھاؤ انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی تب الله تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اے چادر اوڑھنے والے اٹھو ۵؎ڈراؤ،اپنے رب کی بڑائی بولو،اپنے کپڑے پاک رکھو اور گندگی دور رکھو ۶؎پھر وحی گرم ہوگئی اور لگاتار جاری ہوگئی ۷؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ قَالَ: " فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلٰى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْهُ رُعْبًا حَتّٰى هَوَيْتُ إِلَى الأرضِ فَجِئْتُ أَهلِي فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَأَنْزَلَاللّٰهُ تَعَالٰى: يَا أيُّها الْمُدَّثِّرُ. قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ. وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ ثُمَّ حَمَّي الْوَحْيُ وَتَتَابَعَ". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5843 ، باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان

روایت ہے جناب عائشہ سے کہ حارث ابن ہشام نے ۱؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے پوچھا عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم آپ پر وحی کیسے آتی ہے ۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ کبھی تو میرے پاس جھانج کی سی جھنکار آتی ہے ۳؎وہ مجھ پر بہت گراں ہوتی ہے ۴؎تو وہ مجھ سے ختم ہوتی ہے حالانکہ میں نے اس سے وہ یادکرلیا ہوتا ہے ۵؎جو اس نے کہا اور کبھی میرے سامنے فرشتہ مرد کی شکل میں آتا ہے مجھ سے بات کرتا ہے ۶؎جو وہ کہتا ہے محفوظ کرلیتا ہوں۷؎جناب عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور انور کو دیکھا کہ آپ پر سخت ٹھنڈے دن میں وحی نازل ہوتی تھی تو ختم ہوتی تھی اس حالت میں کہ آپ کی پیشانی پسینہ سے نچڑتی ہوتی تھی ۸؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهٗ عَلَيَّ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ».قَالَتْ عَائِشَةُ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهٗ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهٗ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5844 ، باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ اس سے بڑے متفکرہوتے ۱؎اور آپ کا چہرہ بدل جاتا اور ایک روایت میں ہے کہ آپ سرجھکالیتے اور آپ کے صحابہ اپنے سرجھکالیتے پھر جب ختم ہوتی تو اپنا سر اٹھاتے ۲؎(مسلم)

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ كُرِبَ لِذٰلِكَ وَتَرَبَّدَ وَجْهُهٗ. وَفِي رِوَايَةٍ: نَكَسَ رأسَهٗ وَ نَكَسَ أَصْحَابُهٗ رُؤُوسَهُمْ فَلَمَّا أُتْلِيَ عَنْهُ رَفَعَ رَأْسَهٗ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5845 ، باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ آپ نے قریبی عزیزوں کو ڈرایئے ۱؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم باہر نکلے حتی کہ صفا پہاڑ پر چڑھے پھر پکارنے لگے کہ اے بنی فہر اے بنی عدی قریش کے قبیلوں کے نام لے کر حتی کہ وہ سب جمع ہوگئے ۲؎حالت یہ ہوگئی کہ اگر کوئی آ نہ سکا تو اس نے اپنا قاصد بھیج دیا کہ جا کر دیکھے کہ کیا واقعہ ہے۳؎تو ابولہب بھی آیا اور قریش بھی۔تب فرمایا بتاؤ تو اگر میں تم کو خبردوں کہ ایک لشکر اس پہاڑ کے کنارے سے اور ایک روایت میں ہے کہ ایک لشکر اس جنگل سے نکلے گا ۴؎وہ تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے کیا تم میری تصدیق کرو گے ۵؎سب بولے ہاں ہم نے آپ پر کبھی نہ آزمایا مگر سچ ہی ۶؎فرمایا تو میں تمہارے لیے ڈرانے والا ہوں سخت عذاب کے آگے ۷؎ابولہب بولا کہ ہلاکت ہو تمہارے لیے کیا تم نے ہم کو اسی لیے جمع کیا تھا ۸؎تب یہ آیت نازل ہوئی"تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیۡ لَھَبٍ؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ [وَأَنْذِرْعَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ] خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى صَعِدَ الصَّفَا فَجَعَلَ يُنَادِي: «يَا بَنِي فِهْرٍ يَا بَنِي عَدِيٍّ» لِبُطُونِ قُرَيْشٍ حَتّٰى اجْتَمعُوا فَجَعَلَ الرَّجُلُ إِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَخْرُجَ أَرْسَلَ رَسُولًا لِيَنْظُرَ مَا هُوَ فَجَاءَ أَبُو لَهَبٍ وَقُرَيْشٌ فَقَالَ: " أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيَلًا تَخْرُجُ مِنْ سَفْحِ هٰذَاالْجَبَلِ وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ بِالْوَادِي تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟ " قَالُوا: نَعَمْ مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا. قَالَ: «فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ» . قَالَ أَبُو لهبٍ: تَبًّا لَكَأَلِهٰذَاجَمَعْتَنَا؟ فَنَزَلَتْ: تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5846 ، باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں جب کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کعبہ کے پاس نماز پڑھتے تھے ۱؎اور قریش کی ایک جماعت اپنی مجلسوں میں تھی کہ ایک بولا ۲؎تم میں کون شخص فلاں قبیلہ کے ذبیحہ اونٹ کیطرف جائے گا اور اس کی لید اور ا س کے خون اس کی اوجڑی لائے حضور کو مہلت دے حتی کہ جب آپ سجدہ کریں تو اسے آپ کے کندھوں کے بیچ رکھ دے۳؎تو ان میں سے بڑا بدبخت گیا پھر جب حضور نے سجدہ کیا تو وہ آپ کے کندھوں کے درمیان رکھ دیا۴؎اور نبی صلی الله علیہ و سلم سجدہ میں ٹھہرے رہے ۵؎کفار ہنسے حتی کہ بعض بعض پر گرنے لگے ہنسی کی وجہ سے ۶؎پھر کوئی جانے والا جناب فاطمہ کے پاس گیا ۷؎وہ دوڑتی آئیں ۸؎اور نبی صلی الله علیہ و سلم سجدہ میں رہے حتی کہ انہوں نے آپ سے یہ گندگی ہٹا دی اور آپ ان پر متوجہ ہوئیں انہیں برا کہتی تھیں ۹؎پھر جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے نماز پوری فرمالی تو عرض کیا الٰہی ان قریشیوں کو پکڑ لے تین بار فرمایا ۱۰؎اور آپ جب دعا مانگتے تو تین بار مانگتے تھے اور جب سوال کرتے تو تین بار کرتے تھے ۱۱؎الٰہی پکڑ لے ابوجہل کو۱۲؎عتبہ ابن ربیعہ کو شیبہ ابن ربیعہ کو۱۳؎اور ولید ابن عتبہ کو اور امیہ ابن خلف کو اور عقبہ ابن ابی معیط کو اور عمارہ ابن ولیدکو۱۴؎جناب عبدالله فرماتے ہیں کہ الله کی قسم میں نے انہیں بدر کے دن پچھڑا ہوا دیکھا ۱۵؎پھر وہ بدر کے جھیرے کی طرف کھینچ کر پھینکے گئے ۱۶؎پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ ان جھیرے والوں پر لعنت ڈالی گئی ۱۷؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ وَجَمْعُ قُرَيْشٍ فِي مَجَالِسِهِمْ إِذْ قَالَ قَائِلٌ: أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلٰى جَزُورِ آلِ فُلَانٍ فَيَعْمِدُ إِلٰى فَرْثِهَا وَدَمِهَا وَسَلَاهَا ثُمَّ يُمْهِلُهٗ حَتّٰى إِذَا سَجَدَ وَضَعَهٗ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَثَبَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا فَضَحِكُوا حَتّٰى مَالَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ مِنَ الضَّحِكِ فَانْطَلَقَ مُنْطَلِقٌ إِلٰى فَاطِمَةَ فَأَقْبَلَتْ تَسْعٰى وَثَبَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا حَتَّى اَلقَتْهُ عَنْهُ وَأَقْبَلَتْ عَلَيْهِمْ تَسُبُّهُمْ فَلَمَّا قَضٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: «اللّٰهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ» ثَلَاثًا وَكَانَ إِذَا دَعَا دَعَا ثَلَاثًا وَإِذَا سَأَلَ سَأَلَ ثَلَاثًا «اللّٰهُمَّ عَلَيْكَ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ وَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَوَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ وَعُمَارَةَ بْنِ الْوَلِيدِ» . قَالَ عَبدُ اللّٰهِ: فَوَاللّٰهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعٰى يَوْمَ بَدْرٍ ثُمَّ سُحِبُوا إِلَى القَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأُتْبِعَ أَصْحَابُ الْقَلِيبِ لَعْنَةً» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5847 ، باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے انہوں نے عرض کیا یارسول الله کیا آپ پر کوئی دن ایسا بھی گزرا جو احد کے دن سے زیادہ سخت ہو ۱؎تو فرمایا میں نے تمہاری قوم سے بڑی مصیبتیں جھیلیں ۲؎احد سے سخت دن جب میں نے ان کی مصیبت جھیلی عقبہ کا دن تھا۳؎جب کہ میں نے اپنے کو ابن عبدیا لیل ابن کلال کے سامنے کیا ۴؎جو میں نے چاہا تھا اس نے وہ جواب نہ دیا ۵؎تو میں اپنے رخ پر چلا حالانکہ میں حیران تھا مجھے اس حیرانی سے افاقہ نہ ہوا مگر مقام قرن ثعالب میں ۶؎تو میں نے اپنا سر اٹھایا ۷؎تو میں ایک بادل کے سامنے تھا جس نے مجھ پر سایہ کیا تھا میں نے دیکھا تو اس میں جبریل تھے۸؎انہوں نے مجھے پکارا عرض کیا کہ الله نے آپ کی قوم کا کلام اور جو انہوں نے آپ کو جواب دیا سن لیا آپ کی خدمت میں پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے ۹؎تاکہ آپ ان کفار کے متعلق جو چاہیں حکم دیں۱۰؎فرمایا کہ پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے پکارا مجھے سلام کیا پھر کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۱۱؎الله نے آپ کی قوم کا کلام سن لیا میں پہاڑوں کافرشتہ ہوں مجھے آپ کے رب نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ آپ مجھے اپنے فیصلے کا حکم دیں۱۲؎اگر آپ چاہیں تو میں ان لوگوں پر دو اخشب پہاڑ ملادوں۱۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا بلکہ میں امیدکرتا ہوں کہ الله تعالٰی ان کی پیٹھوں میں سے ایسے لوگ پیدا کرے جو ایک الله کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں ۱۴؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ هَلْ أَتٰى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ؟ فَقَالَ: " لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ فَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِ يَالِيلِ بْنِ كُلَالٍ فَلَمْ يُجِبْنِي إِلٰى مَا أَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلٰى وَجْهِي فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ فَنَادَانِي فَقَالَ: إِنَّ اللّٰهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهٗ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ ". قَالَ: " فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللّٰهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ وَأَنَا مَلَكُ الْجِبَالِ وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِلَيْكَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِم الأَخْشَبَيْنِ " فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللّٰهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَلَا يُشْرِكُ بِهٖ شَيْئًا » . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5848 ، باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ احد کے دن رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی چوکڑی شہید کردی گئی ۱؎اور آپ کے سر میں زخم لگادیا گیا۲؎تو آپ اپنے سے خون پونچھنے لگے۳؎اور فرمانے لگے کہ وہ قوم کیسے کامیاب ہو جس نے اپنے نبی کا سر زخمی کر دیا اور اس کی چوکڑی شہید کردی۴؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهٗ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ رَأْسِهٖ فَجَعَلَ يَسْلُتُ الدَّمَ عَنْهُ وَيَقُولُ:كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوارَأْسَ نَبِيِّهِمْ وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهٗ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5849 ، باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ اس قوم پر الله کا غضب سخت ہوتا ہے جو اپنے نبی کے ساتھ یہ کرے اور حضور اپنی چوکڑی کی طرف اشارہ کرتے تھے ۱؎الله کا غضب سخت ہے اس شخص پر جسے رسول الله الله کی راہ میں قتل کریں۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰهِ عَلٰى قَوْمٍ فَعَلُوا بِنَبِيِّهٖ يُشِيرُ إِلٰى رَبَاعِيَتِهِ اشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰهِ عَلٰى رَجُلٍ يَقْتُلُهٗ رَسُولُ اللّٰهِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5850 ، باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان

روایت ہے حضرت یحیی ابن ابی کثیر سے فرماتے ہیں کہ میں نے ابو سلمہ ابن عبدالرحمن سے ۱؎قرآن کی پہلی نازل ہونے والی آیت کے متعلق پوچھا تو فرمایایاایہا المدثرہے،میں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہاقرا باسم ربكہے ۲؎تو ابو سلمہ بولے کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں پوچھا اور میں نے ان سے اسی طرح کہا جو تم نے مجھ سے کہا تو مجھ سے حضرت جابر نے کہا کہ میں تم کو نہیں خبر دیتا مگر اس کی جو ہم کو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے خبر دی فرمایا تھا کہ میں نے حراء میں ایک ماہ اعتکاف کیا۳؎تو جب میں نے اپنا اعتکاف پورا کیا۴؎تو میں اتر آیا پھر مجھے پکارا گیا میں نے اپنے داہنے دیکھا تو کچھ نہ دیکھا اور میں نے اپنے بائیں غور کیا تو کچھ نہ دیکھا اور میں نے اپنے پیچھے دیکھا تو کچھ نہ پایا ۵؎پھر میں نے اپنا سر اٹھایا تو ایک چیز دیکھی پھر میں جناب خدیجہ کے پاس آیا میں نے کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو انہوں نے اوڑھا دیا اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالا ۶؎تب یہ آیت اتری اے کپڑے اوڑھنے والے اٹھو ڈراؤ اور اپنے رب کی بڑائی بولو اور اپنے کپڑے پاک رکھو پلیدی دور کرو،یہ واقعہ نماز فرض کیے جانے سے پہلے کا ہے ۷؎(مسلم،بخاری)

عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ أَوَّلِ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ: [يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ] قُلْتُ: يَقُولُونَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ} قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ ذٰلِكَ. وَقُلْتُ لَهٗ مِثْلَ الَّذِي قُلْتَ لِي. فَقَالَ لِي جَابِرٌ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا بِمَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " جَاوَرْتُ بِحِرَاءٍ شَهْرًا فَلَمَّا قَضَيْتُ جَوَارِي هَبَطْتُ فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا وَنَظَرْتُ عَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا وَنَظَرْتُ عَنْ خَلْفِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ شَيْئًا فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ: دَثِّرُونِي فَدَثَّرُونِي وَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً بَارِدًا، فَنَزَلَتْ: {يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} وَذٰلِكَ قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5851 ، باب : ظہور نبوت اور ابتداء وحی کا بیان