باب:کہانت کا بیان

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت معاویہ ابن حاکم سے ۱∞؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم چند کام زمانہ جاہلیت میں کرتے تھے ہم کاہنوں کے پاس جاتے تھے ۲؎فرمایا تم کاہنوں کے پاس نہ جاؤ ۳؎فرماتے ہیں میں نے کہا ہم پرندے آڑاتے تھے فرمایا یہ ایسی چیز ہے جسے تم میں سے کوئی اپنے دل میں پاتا ہے تویہ اسے روک نہ دے ۴؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کہ ہم سے بعض لوگ خط کھینچتے ہیں ۵؎فرمایا حضرات انبیاء میں ایک نبی خط کھینچتے تھے ۶؎تو جوان کے خط کے موافق ہوجائے تویہ درست ہے ۷؎(مسلم)

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أُمُورًا كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ قَالَ: «فَلَا تَأْتُوا الْكُهَّانَ» قَالَ: قُلْتُ: كُنَّا نَتَطَيَّرُ قَالَ: «ذٰلِكَ شَيْءٌ يَجِدُهٗ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهٖ فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ » . قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ قَالَ: «كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهٗ فَذَاكَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4592 ، باب:کہانت کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے متعلق پوچھا ۱∞؎تو ان سے رسول اللہ نے فرمایا کہ وہ لوگ کچھ نہیں عرض کی یارسول اللہ وہ لوگ بعض اوقات کچھ خبریں دیتے ہیں جو سچی ہوتی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بات حق تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے ۲؎جسے جن اچک لیتا ہے تو اسے اپنے دوست کے کان میں ایسے ڈال دیتا ہے جیسے مرغی کاچوگا دینا ۳؎یہ لوگ اس میں زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَة قَالَتْ: سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِشَيْءٍ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّيْءِ يَكُونُ حَقًّا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلَيِّهٖ قَرَّ الدَّجَاجَةِ فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4593 ، باب:کہانت کا بیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ فرشتے عنان میں اترتے ہیں عنان بادل ہے ۱∞؎تو وہ ان واقعات کاذکر کرتے ہیں جن کا آسمان میں فیصلہ کیا گیا ۲؎تو شیاطین چوری سے سنتے ہیں یہ سن کر کاہنوں کو خبر دیتے ہیں ا ن کے ساتھ اپنی طرف سے سو جھوٹ ملادیتے ہیں ۳؎(بخاری)

وَعَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَنْزِلُ فِي الْعَنَانِ وَهُوَ السَّحَابُ فَتَذْكُرُ الْأَمْرَ قُضِيَ فِي السَّماءِ فَتَسْتَرِقُ الشَّيَاطِينُ السَّمْعَ فَتُسْمِعُهُ فَتُوحِيهِ إِلَى الكُهَّانِ فَيَكْذِبُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4594 ، باب:کہانت کا بیان

روایت ہے حضر ت حفصہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو کوئی نجومی کے پاس گیا ۱∞؎پھر اس سے کچھ پوچھے تو اس کی چالیس شب کی نمازیں قبول نہ ہوں گی ۲؎(مسلم)

وَعَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَتٰى عَرَّافًا فَسَأَلَهٗ عَنْ شَيْءٍ لَمْ تُقْبَلْ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4595 ، باب:کہانت کا بیان

روایت ہے حضرت زید ابن خالد جہنی سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں نماز فجر پڑھائی اس بار ش کے بعد جو اس رات ہوئی تھی ۱∞؎جب فارغ ہوئے تو لوگوں پر توجہ فرمائی پھر فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا لوگ بولے اللہ رسول جانیں فرمایا کہ رب نے فرمایا میرے بندوں میں سے مجھ پر مؤمن و منکر نے صبح پائی ۲؎جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اس کی رحمت سے بارش ہوئی یہ مجھ پر مؤمن ہیں ستاروں کے انکاری ۳؎لیکن جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں برج سے بارش ہوئی ۴؎تو یہ میرا منکر ہے تاروں کا مؤمن(مسلم، بخاری)

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: صَلّٰى لَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلٰى أَثَرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ ربُّكُمْ؟» قَالُوا: اَللهُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ،قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللّٰهِ وَرَحْمَتِهٖ فَذٰلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِكَوْاكَبَ وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذٰلِكَ كَافِرٌ بِي وَمُؤمِنٌ بِكَوْاكَبَ"(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4596 ، باب:کہانت کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا اللہ تعالیٰ آسمان سے کوئی رحمت نہیں اتارتا ۱∞؎مگر اس کی وجہ سے لوگوں کا ایک گروہ کافر ہوجاتا ہے۔اللہ بارش اتارتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں ستارے سے ہوتی ہے ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَا أَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ بَرَكَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنَ النَّاسِ بِهَا كَافِرِينَ يُنَزِّلُ اللّٰهُ الْغَيْثَ فَيَقُولُونَ: بِكَوْكَبٍ كَذَا وَكَذَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4597 ، باب:کہانت کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس نے علم نجوم کا حصہ حاصل کیا اس نے جادو کا حصہ حاصل کیا ۱∞؎جس نے اسے بڑھایا اتنا ہی اسے بڑھایا ۲؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4598 ، باب:کہانت کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کہ کاہن کے پاس جائے ۱∞؎پھر اس کی تصدیق کرے یا اپنی بیوی کے پاس بحالت حیض جائے یا اپنی بیوی کے پاس اس کی دبر میں جاوے تو وہ اس سے بری ہوگیا جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا ۲؎(احمد،ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَتٰى كَاهِنًا فَصَدَّقَهٗ بِمَا يَقُولُ أَوْ أَتٰى امْرَأَتَهٗ حَائِضًا أَو أَتٰى امْرَأَتَهٗ مِنْ دُبُرِهَا فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4599 ، باب:کہانت کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی چیز کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتے پست ہو کر اپنے پر بچھادیتے ہیں ۱∞؎اس کے فرمان پر گویا کہ وہ پتھر کی چٹان پر زنجیر ہے ۲؎پھر جب ان کے دلوں سے کھول دیا جاتا ہے تو کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا ۳؎وہ کہتے ہیں رب کے فرمودہ کے متعلق کہ حق فرمایا ۴؎اور وہ بلند ہے بڑائی والا تو اسے چھپ کر سننے والے اس طرح سنتے ہیں کہ ان کے بعض بعض کے اوپر ہوتے ہیں سفیان نے اپنے ہاتھ سے یوں بیان کیا کہ اسے مائل کیا اور اپنی انگلیوں کے درمیان کشادگی کی ۵؎تو وہ بات سنتا ہے اسے اپنے نیچے والے کیطرف ڈال دیتا ہے پھر دوسرا اسے اپنے نیچے والے کی طرف ڈالتا ہے ۶؎حتی کہ اسے جادو گر کاہن کی زبان پر ڈال دیتا ہے تو اکثر شہاب اسے ڈالنے سے پہلے لگ جاتا ہے اور اکثر وہ اسے لگنے سے پہلے ڈال دیتا ہے ۷؎تو اس کے لیے سو جھوٹ بنا دیتا ہے ۸؎تو کہا جاتا ہے کہ کہا اس نے ہم سے فلاں فلاں دن فلاں فلاں بات نہ کہی تھی اسی ایک وجہ سے اس کاہن کی تصدیق کی جاتی ہے مگر آسمان سے سنی گئی۹؎(بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة أَنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَضَى اللّٰهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهٖ كَأَنَّهٗ سِلْسِلَةٌ عَلٰى صَفْوَانٍ فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا: لِلَّذِيْ قَالَ الْحَقُّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ، فَسَمِعَهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ، وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ هٰكَذَا بَعْضُهٗ فَوْقَ بَعْضٍ «وَوَصَفَ سُفْيَانُ بِكَفِّهٖ فَحَرَّفَهَا وَبَدَّدَ بَيْنَ أَصَابِعِهٖ » فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيُلْقِيهَا إِلٰى مَنْ تَحْتَهٗ ثُمَّ يُلْقِيهَا الْآخِرُ إِلٰى مَنْ تَحْتَهٗ حَتّٰى يُلْقِيَهَا عَلٰى لِسَانِ السَّاحِرِ أَوِ الْكَاهِنِ. فَرُبَّمَا أَدْرَكَ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُّلْقِيَهَا وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهٗ فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ فَيُقَالُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا: كَذَا وَكَذَا؟ فَيُصَدَّقُ بِتِلْكَ الْكَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4600 ، باب:کہانت کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک انصاری نے خبر دی اس حالت میں کہ ہم ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے،ایک تارا ٹوٹا،اور روشنی پھیل گئی ۱∞؎تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جاہلیت میں کیا کہتے تھے جب اس جیسا تارا ٹوٹتا تھا ۲؎وہ بولے کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانیں۔ہم تو یہ کہتے تھے کہ آج رات یا تو کوئی بڑا آدمی ۳؎پیدا ہوا یا کوئی بڑا آدمی مرا ہے۔تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ تارے نہ تو کسی کی موت کے لیے مارے جاتے ہیں نہ کسی کی زندگی کیلیے ۴؎لیکن ہمارا رب کہ مبارک ہے اس کا نام جب کسی چیز کا فیصلہ کرتا ہے ۵؎تو حاملین عرش تسبیح کرتے ہیں پھر اس آسمان والے تسبیح کرتے ہیں جو انکے قریب ہیں حتی کہ تسبیح اس دنیا کے آسمان والوں تک پہنچ جاتی ہے ۶؎پھر حاملین عرش کے قریب والے حاملین عرش سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا وہ انہیں خبر دیتے ہیں ۷؎فرمایا کہ پھر بعض آسمان والے بعض سے خبریں پوچھتے ہیں حتی کہ اس آسمان دنیا تک خبر پہنچ جاتی ہے۔ تو جنات سنی باتوں کو اچک لیتے ہیں ۸؎تو اپنے دوستوں تک ڈال دیتے ہیں اور مار دیئے جاتے ہیں ۹؎پھر کاہن جو کچھ اس کے موافق لاتے ہیں وہ حق ہے ۱۰؎لیکن وہ تو اس میں جھوٹ ملادیتے ہیں اور بڑھادیتے ہیں ۱۱∞؎(مسلم)

وَعَنِ ابْنِ عبَّاسٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَّهُمْ بَيْنَا جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُمِيَ بِنَجْمٍ وَاسْتَنَارَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هٰذَا؟» قَالُوا: اَللّٰهُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ كُنَّا نَقُولُ: وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَإِنَّهَا لَا يُرْمٰى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهٖ وَلَكِنَّ رَبَّنَا تَبَارَكَ اسْمُهٗ إِذَا قَضٰى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتّٰى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هٰذِهِ السَّمَاء الدُّنْيَا ثمَّ قَالَ الَّذِي يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ مَا قَالَ: فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا حَتّٰى يَبْلُغَ هٰذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَيَخْطِفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيَقْذِفُونَ إِلٰى أَوْلِيَائِهِمْ وَيُرْمَوْنَ فَمَا جَاؤُوا بِهٖ عَلٰى وَجْهِهٖ فَهُوَ حَقٌّ وَلٰكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيزِيدُونَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4601 ، باب:کہانت کا بیان

روایت ہے حضرت قتادہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان تاروں کو تین مقصدوں کے لیے پیدا فرمایا ۲؎انہیں آسمان کی زینت اور شیاطین کی مار بنایا ۳؎اور نشانیاں بنایا جن سے ہدایت لی جاوے ۴؎تو جوان میں اس کے سوا تاویل کرے ۵؎اس نے خطا کی اور اپنا حصہ ضائع کیا اور اس کا تکلف کیا جو وہ جانتا نہیں ۶؎اسے بخاری نے تعلیقًا روایت کیا۔اور رزین کی روایت میں ہے کہ اس نے غیر مفید چیز کا تکلف کیا۔اور اس کا جس کا اسے علم نہیں،اور جس کے علم سے انبیاء و فرشتے ۷؎عاجز نہیں

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: خَلَقَ اللّٰهُ تَعَالٰى هٰذِهِ النُّجُومَ لِثَلَاثٍ جَعَلَهَا زِينَةً لِلسَّمَاءِ وَرُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ وَعَلَامَاتٍ يُهْتَدٰى بِهَا فَمَنْ تَأَوَّلَ فِيهَا بِغَيْرِ ذٰلِكَ أَخَطَأَ وَأَضَاعَ نَصِيبَهٗ وَتَكَلَّفَ مَالَا يَعْلَمُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ تَعْلِيقًا وَفِي رِوَايَةِ رَزِيْنٍ: « تَكَلَّفَ مَا لَا يَعْنِيهِ وَمَا لَا عِلْمَ لَهٗ بِهٖ وَمَا عَجَزَ عَنْ عِلْمِهِ الأَنْبِيَاءُ وَالْمَلَائِكَةُ »

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4602 ، باب:کہانت کا بیان

اور ربیع سے اسی کی مثل مروی ہے اور یہ زیادتی ہے کہ رب کی قسم! اللہ نے تارے میں نہ کسی کی زندگی رکھی ہے نہ رزق نہ موت یہ لوگ اللہ پر جھوٹ ہی باندھتے ہیں اور تاروں سے بہانہ بناتے ہیں ۱∞؎

وَعَنِ الرَّبِيعِ مِثْلُهٗ وَزَادَ: وَاللّٰهِ مَا جَعَلَ اللّٰهُ فِي نَجْمٍ حَيَاةَ أَحَدٍ وَلَا رِزْقَهٗ وَلَا مَوْتَهٗ وَإِنَّمَا يَفْتَرُونَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَيَتَعَلَّلُونَ بِالنُّجُومِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4603 ، باب:کہانت کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص علم نجوم کا کوئی باب اس کے سوا کے لیے حاصل کرے جو اللہ نے ذکر فرمایا ۱∞؎تو اس نے جادو کا حصہ سیکھا،نجومی کاہن،جادوگر،اور کاہن جادو گر کافر ہے ۲؎(رزین)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اقْتَبَسَ بَابًا مِنْ عِلْمِ النُّجُومِ لِغَيْرِ مَا ذَكَرَ اللّٰهُ فَقَدِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ الْمُنَجِّمُ كَاهِنٌ وَالْكَاهِنُ سَاحِرٌ، وَالسَّاحِرُ كَافِرٌ» . رَوَاهُ رَزِيْنٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4604 ، باب:کہانت کا بیان

روایت ہے ابو سعید سے،فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اگر اللہ اپنے بندوں سے پانچ سال بارش روک لے پھر بھیجے ۱∞؎تب بھی لوگوں کا ایک ٹولہ کافر ہی ہو کہ وہ کہیں کہ ہم برج مجدح کی وجہ سے برسائے گئے ۲؎(نسائی)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَمْسَكَ اللّٰهُ الْقَطْرَ عَنْ عِبَادِهٖ خَمْسَ سِنِينَ ثُمَّ أَرْسَلَهٗ لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ كَافِرِينَ يَقُولُونَ: سُقِينَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4605 ، باب:کہانت کا بیان