- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- باب:اجازت لینے کا بیان
باب:اجازت لینے کا بیان
اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس ابوموسیٰ آئے بولے کہ حضرت عمر نے مجھے پیغام بھیجا کہ میں ان کے پاس آؤں تو میں ان کے دروازے پر آیا میں نے تین بار سلام کیا ۱∞؎انہوں نے جواب نہ دیا تو میں لوٹ گیا ۲؎انہوں نے فرمایا کہ تم کو ہمارے پاس آنے سے کس نے روکا ۳؎میں نے کہا کہ میں آیا تھا آپ کے دروازے پر تین بار سلام کیا آپ نے جواب نہ دیا ۴؎تو میں لوٹ گیا مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی تین بار اجازت مانگے پھر اسے اجازت نہ دی جاوے لوٹ جاوے ۵؎حضرت عمر نے فرمایا کہ اس پر گواہی قائم کرو ۶؎ابو سعید کہتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ اٹھا اور حضرت عمر کی طرف گیا پھر میں نے گواہی دی ۷؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: أَتَانَا أَبُو مُوسٰى قَالَ: إِنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ آتِيَهٗ فَأَتَيْتُ بَابَهٗ فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ. فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا؟ فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُ فَسَلَّمْتُ عَلٰى بَابِكَ ثَلَاثًا فَلَمْ تَرُدُّوْا عَلَيَّ فَرَجَعْتُ وَقَدْ قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهٗ فَلْيَرْجِعْ. فَقَالَ عُمَرُ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ. قَالَ أَبُو سَعِيْدٍ: فَقُمْتُ مَعَهٗ فَذَهَبْتُ إِلٰى عُمَرَ فَشَهِدْتُ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4667 ، باب:اجازت لینے کا بیان
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لیے میرے پاس آنے کی اجازت یہ ہے کہ تم پردہ اٹھا دو اور یہ کہ میری بھنک سنو ۱ ∞؎حتی کہ میں تم کو منع کردوں ۲؎(مسلم)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ وَأَنْ تَسْمَعَ سِوَادِيْ حَتّٰى أَنْهَاكَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4668 ، باب:اجازت لینے کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس قرض کے بارے میں آیا جو میرے باپ پر تھا ۱∞؎میں نے دروازہ بجایا فرمایا یہ کون ہے میں نے کہا کہ میں،تو فرمایا کہ میں میں کیا غالبًا حضور نے اسے ناپسند کیا ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلٰى أَبِي فَدَقَقْتُ الْبَابَ فَقَالَ: مَنْ ذَا؟ فَقُلْتُ: أَنَا. فَقَالَ: أَنَا أَنَا كَأَنَّهٗ كَرِهَهَا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4669 ، باب:اجازت لینے کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ داخل ہوا تو آپ نے پیالہ میں دودھ پایا ۱∞؎فرمایا ابوہریرہ صفہ والوں کے پاس جاؤ انہیں میرے پاس بلا لاؤ میں ان کے پاس گیا انہیں بلایا تو وہ آگئے انہوں نے اذن مانگا انہیں اذن دیا تو وہ اندر آئے ۲؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ لَبَنًا فِي قَدَحٍ. فَقَالَ: أَبَا هِرٍّ الْحَقْ بِأَهْلِ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ فَأَقْبَلُوا فَاسْتَأْذَنُوا فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوْا۔ رَوَاہ الْبَخَارِيْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4670 ، باب:اجازت لینے کا بیان
روایت ہے کلدہ ابن حنبل سے کہ صفوان ابن امیہ نے ۱∞؎دودھ یا ہرنی کا بچہ اور ککڑیاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں ۲؎اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے اعلیٰ حصہ میں تھے ۳؎فرماتے ہیں کہ میں آپ کے پاس حاضر ہوا تو نہ میں نے سلام کیا نہ اجازت لی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوٹ جاؤ پھر کہو السلام علیکم پھر اندر آؤ ۴؎(ترمذی،ابوداؤد)
عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ: أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ بَعَثَ بِلَبَنٍ أَوْ جِدَایَةٍ وَضَغَابِيسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى الوَادِيْ قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَلَمْ أُسَلِّمْ وَلَمْ أَسْتَأْذِنْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اِرْجِعْ فَقُلْ: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَدْخُلْ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4671 ، باب:اجازت لینے کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی بلایا جاوے تو وہ قاصد کے ساتھ آئے تو یہ ہی اس کی اجازت ہے ۱∞؎(ابوداؤد)ان کی ایک روایت میں ہے کہ فرمایا آدمی کا قاصد آدمی کی طرف اس کی اجازت ہے ۲؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فجاءَ مَعَ الرَّسُوْلِ فَإِنَّ ذٰلِكَ لَہٗ إِذْنٌ .رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ قَالَ: رَسُوْلُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ إِذْنُهٗ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4672 ، باب:اجازت لینے کا بیان
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن بسر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم کے دروازے پر آتے تو منہ کے طرف سے دروازے کے سامنے نہ ہوتے لیکن اس کے داہنے یا بائیں رہتے ۱∞؎پھر فرماتے السلام علیکم،السلام علیکم یہ اس لیے تھا کہ اس زمانہ میں گھروں پر پردے نہ تھے ۲؎(ابوداؤد)اور حضرت انس کی حدیث کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا السلام علیکم دعوت کے باب میں ذکر کردی گئی۳؎
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتٰى بَابَ قَوْمٍ لَمْ يَسْتَقْبِلِ الْبَاب تِلْقَاءِ وَجْهِهٖ وَلٰكِنْ مِنْ رُكْنِهٖ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ فَيَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَذٰلِكَ أَنَّ الدُّوَرَ لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا سُتُورٌ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَذُكِرَ حَدِيثُ أَنَسٍ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ فِي بَابِ الضِّيَافَةِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4673 ، باب:اجازت لینے کا بیان
روایت ہے عطا ابن یسار سے ۱∞؎کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا بولا کیا میں اپنی ماں سے داخلہ کی اجازت لوں ۲؎فرمایا ہاں وہ بولا کہ میں گھر میں اس کے ساتھ رہتا ہوں۳؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے داخلہ کی اجازت لو تو وہ شخص بولا کہ میں تو اس کا خدمتگار ہوں۴؎تو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اجازت داخلہ لو ۵؎کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اسے ننگا دیکھو وہ بولا نہیں تو فرمایا کہ اس سے داخلہ کی اجازت لو ۶؎(مالک ارسالًا)
عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَسْتَأْذِنُ عَلٰى أُمِّي؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي مَعَهَا فِي الْبَيْتِ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي خَادِمُهَا.فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا أَتُحِبُّ أَنْ تَرَاهَا عُرْيَانَةً؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَاسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا . رَوَاهُ مَالِكٌ مُرسلاً
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4674 ، باب:اجازت لینے کا بیان
روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ میری حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک حاضری رات میں ہوتی تھی ۱∞؎ایک حاضری دن میں تو میں جب رات میں حاضر ہوتا تو آپ میری خاطر کھنکار دیتے ۲؎(نسائی)
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدْخَلٌ بِاللَّيْلِ وَمَدْخَلٌ بِالنَّهَارِ فَكُنْتُ إِذَا دَخَلْتُ بِاللَّيْلِ تَنَحْنَحَ لِيْ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4675 ، باب:اجازت لینے کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سلام سے ابتداء نہ کرے اسے اجازت نہ دو ۱∞؎(بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَأْذَنُوا لِمَنْ لَمْ يَبْدَأْ بِالسَّلَامِ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ ُفِيْ شُعَبِ الإِيْمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4676 ، باب:اجازت لینے کا بیان