باب:شراب کی سزا کا بیان

مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے شراب کی سزا میں چھڑیوں اور جوتوں سے پٹوایا ہے ۱؎اور حضرت ابوبکر نے چالیس کوڑے لگائے ۲؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! ضَرَبَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ، وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ. مُتَفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3614 ، باب:شراب کی سزا کا بیان

اور دوسری روایت میں ان ہی انس سے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم شراب کی سزا میں چالیس جوتے اور چھڑیاں لگواتے تھے ۱؎

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: أَن النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضْرِبُ فِي الْخَمْرِ بِالنِّعَالِ وَالْجَرِيدِ أَرْبَعِينَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3615 ، باب:شراب کی سزا کا بیان

روایت ہے حضرت سائب ابن یزید سے فرماتے ہیں کہ شرابی لایا جاتا تھا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں اور حضرت ابو بکر کی امارت اور حضرت عمر کی شروع خلافت میں تو ہم اپنے ہاتھوں اپنے جوتوں اپنی چادروں سے اس پر کھڑے ہوجاتے تھے ۱؎حتی کہ حضرت عمر کی آخری خلافت آئی تو آپ نے چالیس کوڑے لگوائے ۲؎یہاں تک کہ جب لوگ سرکش اور بے راہ ہوگئے تو اسی۸۰ کوڑے لگوائے۳؎(بخاری)

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كَانَ يُؤْتَى بِالشَّارِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وإِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، فَنَقُومُ عَلَيْهِ بِأَيْدِينَا وَنعَالِنَا وَأَرْدِيَتِنَا، حَتَّى كَانَ آخِرُ إِمْرَةِ عُمَرَ فَجَلَدَ أَرْبَعِينَ، حَتَّى إِذَا عَتَوْا وَفَسَقُوا جَلَدَ ثَمَانِينَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3616 ، باب:شراب کی سزا کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے روای فرماتے ہیں کہ جو شراب پی لے تو اسے کوڑے مارو اگر پھر لوٹے تو چوتھی بار میں اسے قتل کردو ۱؎راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کے بعد وہ شخص لایا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی لی تھی آپ نے اسے مارا تو مگر قتل نہ کیا ۲؎(ترمذی)

عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ قَالَ: ثُمَّ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فِي الرَّابِعَةِ فَضَرَبَهُ وَلَمْ يَقْتُلْهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3617 ، باب:شراب کی سزا کا بیان

اور ابوداؤد نے حضرت قبیصہ ابن ذویب سے روایت کی۱؎

وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3618 ، باب:شراب کی سزا کا بیان

اور دونوں کی دوسری روایت میں اور نسائی،ابن ماجہ،دارمی کی روایت میں جو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے چند صحابہ سے مروی ہے جن میں حضرت ابن عمر،معاویہ،ابوہریرہ اور شرید ہیں ۴؎فاقتلوہتک ہے۔

وَفِي أُخْرَى لَهُمَا وَللنَّسَائِيِّ وَابْنِ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيِّ عَنْ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْهُمُ ابْنُ عُمَرَ وَمُعَاوِيَةُ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَالشَّرِيدُ إِلَى قَوْلِهِ: "فَاقْتُلُوهُ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3619 ، باب:شراب کی سزا کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالرحمن بن ازہر سے ۱؎فرماتے ہیں گویا میں رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھ رہا ہوں ۲؎جب کہ آپ کے پاس وہ شخص لایا گیا جس نے شراب پی لی تھی لوگوں سے فرمایا اسے مارو ۳؎تو بعض نے اسے جوتوں سے مارا اور بعض نے اسے ڈنڈے سے مارا اور بعض نے اسے چھڑی سے مارا۔ ابن وہب نے فرمایا کہمتیخۃسے مراد تر شاخ ہے ۴؎پھر رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے زمین سے مٹی لی وہ اس کے منہ پر ماری ۵؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَزْهَرِ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ، فَقَالَ لِلنَّاسِ: "اضْرِبُوه" فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالنِّعَالِ، وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالْعَصَا، وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالْمِيتَخَةِ قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: يَعْنِي الْجَرِيدَةَ الرَّطْبَةَ، ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرَابًا مِنَ الأَرْضِ فَرَمَى بِهِ فِي وَجْهِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3620 ، باب:شراب کی سزا کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے پاس وہ شخص لایا گیا جس نے شراب پی لی تھی ۱؎فرمایا اسے مارو تو ہم میں سے بعض اپنے ہاتھ سے مارنے والے تھے بعض اپنے کپڑے سے اور بعض اپنے جوتے سے ۲؎پھر فرمایا اسے ملامت کرو ۳؎تو لوگ اس پر متوجہ ہوکر کہنے لگے تجھے اسے خوف نہ ہوا تو اسے نہ ڈرا تو نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم سے شرم نہ کی ۴؎بعض قوم نے کہا تجھے ارسوا کرے ۵؎فرمایا ۶؎یوں نہ کہو نہ اس پر شیطان کی مددکرو ۷؎لیکن یوں کہو خدا اسے بخش دے الٰہی اس پر رحم کر ۸؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فَقَالَ: "اضْرِبُوهُ" فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِه، وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ، وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ، ثُمَّ قَالَ: "بَكِّتُوهُ" فَأَقْبَلُوا عَلَيْهِ يَقُولُونَ: مَا اتَّقَيْتَ اللَّهَ، مَا خَشِيتَ اللَّهَ، وَمَا اسْتَحْيَيْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللَّهُ، قَالَ: "لَا تَقُولُوا هَكَذَا، لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ، وَلَكِنْ قُولُوا: اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللهُمَّ ارْحَمْهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3621 ، باب:شراب کی سزا کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے شراب پی لی نشہ میں ہوگیا تو اسے راستہ میں جھومتے ہوئے پایا گیا ۱؎تو اسے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں لے کر چلا گیا جب وہ حضرت عباس کے گھر کے سامنے آیا ۲؎تو وہ چھوٹ گیا تو حضرت عباس پر داخل ہوگیا انہیں لپٹ گیا۳؎نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو حضور انور ہنس پڑے اور فرمایا اس نے یہ کیا اور اس کے بارے میں کچھ حکم نہ دیا ۴؎(ابوداؤد)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: شَرِبَ رَجُلٌ فَسَكِرَ فَلُقِيَ يَمِيلُ فِي الْفَجِّ، فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا حَاذَى دَارَ الْعَبَّاسِ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ فَالْتَزَمَهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَضَحِكَ وَقَالَ: "أَفَعَلَهَا"، وَلَمْ يَأْمُرْ فِيهِ بِشَيْءٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3622 ، باب:شراب کی سزا کا بیان

روایت ہے حضرت عمیر ابن سعید نخعی سے فرماتے ہیں میں نے حضرت علی ابن ابی طالب کو فرماتے سنا کہ میں کسی پر شرعی حد قائم کروں وہ مرجائے تو میں اپنے دل میں کچھ غم و رنج محسوس نہ کروں گا ۱؎سوائے شرابی کے ۲؎کہ اگر وہ مرجائے تو اس کا خون بہادوں گا۳؎یہ اس لیے ہے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے یہ سزا مقرر نہ فرمائی ۴؎(مسلم،بخاری)

عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ النَّخَعِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ: مَا كُنْتُ لأُقِيمَ عَلَى أَحَدٍ حَدًّا فَيَمُوتَ فَأَجِدَ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا صَاحِبَ الْخَمْرِ فَإِنَّهُ لَوْ مَاتَ وَدَيْتُهُ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3623 ، باب:شراب کی سزا کا بیان

روایت ہے حضرت ثور ابن زید دیلمی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے شراب کی سزا کے متعلق مشورہ کیا ۲؎تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری رائے ہے کہ آپ اس کو اسی۸۰ کوڑے لگائیں ۳؎کیونکہ جب پیئے گا تو نشہ ہوگا اور جب نشہ ہوگا تو بکواس بکے گا اور جب بکواس بکے گا تو جھوٹ گھڑے گا۴؎چنانچہ حضرت عمر نے شراب کی سزا میں اسی۸۰ کوڑے مارے ۵؎(مالک)

وَعَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدَّيْلِمِيِّ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ فِي حَدِّ الْخَمْرِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ ثَمَانِينَ جَلْدَةً؛ فَإِنَّهُ إِذَا شَرِبَ سَكِرَ، وَإِذَا سَكِرَ هَذَى، وَإِذَا هَذَى افْتَرَى، فَجَلَدَ عُمَرُ فِي حَدِّ الْخَمْرِ ثَمَانِينَ. رَوَاهُ مَالِكٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3624 ، باب:شراب کی سزا کا بیان