باب: قیدیوں کا حکم

جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایااس قوم سے خوش ہوتا ہے جو پابہ جولان جنت میں داخل ہوتے ہیں ۱؎اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کی طرف زنجیروں میں کھینچ کر لائے جاتے ہیں ۲؎(بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "عَجِبَ اللّٰهُ مِنْ قَوْمٍ يُدْخَلُوْنَ الجنَّةَ فِي السَّلاسِل"، وفي روايةٍ: "يُقَادوْنَ إِلَى الْجَنَّةِ بِالسَّلاسِلِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3960 ، باب: قیدیوں کا حکم

روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس مشرکوں کا ایک جاسوس آیاجب کہ حضور سفر میں تھے تو حضور کے صحابہ کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا پھر چل دیا ۱؎نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے تلاش کرو اور اسے قتل کردو ۲؎میں نے قتل کردیا تو حضور نے اس کا سامان مجھے بخش دیا ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ، فَجَلَسَ عِنْدَ أَصْحَابِهٖ يَتَحَدَّثُ ثُمَّ انْفَتَلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اُطْلُبُوْهُ وَاقْتُلُوْهُ". فَقَتَلْتُهٗ فَنَفَّلَنِيْ سَلَبَهٗ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3961 ، باب: قیدیوں کا حکم

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہوازن پر حملہ کیا ۱؎تو ہم رسولصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ناشتہ کررہے تھے ۲؎کہ اچانک ایک شخص سرخ اونٹ پرآیا اسے بٹھادیا اور لگادیکھنے اور ہم میں کمزور لوگ تھے اور سواریوں میں کمی تھی۳؎اور ہمارے بعض پیدل تھے کہ وہ دوڑتا ہوا نکلا۴؎اپنے اونٹ کے پاس آیا اسے اٹھایا اسے لے کر اونٹ دوڑ گیا تو میں دوڑتا ہوا نکلا حتی کہ میں نے مہار پکڑلی میں نے اسے بٹھالیا پھر میں نے اپنی تلوار سونت لی تو اس کے سر پر مار دی ۵؎پھر میں اونٹ ہانک لایا جس پر اس کا سامان اس کے ہتھیار تھے رسولصلی اللہ علیہ و سلم اور لوگ مجھے سامنے سے ملے تو فرمایا کہ اس شخص کو کس نے قتل کیا لوگوں نے کہا ابن اکوع نے حضور نے فرمایا اس کا سارا سامان انہیں کا ہے ۶؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَضَحّٰى مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلٰى جَمَلٍ أَحْمَرَ فَأَنَاخَهٗ، وَجَعَلَ يَنْظُرُ، وَفِيْنَا ضَعْفَةٌ وَرِقَّةٌ مِنَ الظَّهْرِ، وَبَعْضُنَا مُشَاةٌ، إِذْ خَرَجَ يَشْتَدُّ فَأَتٰى جَمَلَهٗ، فَأَثَارَهٗ فَاشْتَدَّ بِهِ الْجَمَلُ، فَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ حتّٰى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَأَنَخْتُهٗ، ثُمَّ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَضَرَبْتُ رَأْسَ الرَّجُلِ، ثُمَّ جِئْتُ بِالْجَمَلِ أَقَودُهٗ وَعَلَيْهِ رَحْلُهٗ وَسِلَاحُهٗ، فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فَقَالَ: "مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟ " قَالُوْا: اِبْنُ الأَكْوَعِ فَقَالَ: "لَهٗ سَلَبُهٗ أَجْمَعُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3962 ، باب: قیدیوں کا حکم

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ جب بنی قریظہ نے حضرت سعد ابن معاذ کے حکم پر اترنا چاہا ۱؎تو رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں بلا بھیجا تو وہ گدھے پر سوار آئے ۲؎جب قریب آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اپنے سردار کی طرف اٹھو چلو۳؎چنانچہ وہ آئے بیٹھ گئے رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ لوگ تمہارے حکم پر اتر رہے ہیں۴؎فرمایا کہ میں تو حکم دیتا ہوں کہ ان کے جنگجو قتل کردیئے جائیں اور بچے قید کرلیے جائیں ۵؎فرمایا تم نے ان کے متعلق فرشتے کا حکم دیا ۶؎اور ایک روایت میں ہےکا حکم دیا ۷؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ بَنُوْ قُرَيْظَةَ عَلٰى حُكْم سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِليه، فَجَاءَ عَلٰى حِمَارٍ فَلَمَّا دَنَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قُوْمُوْا إِلَى سَيِّدِكُمْ"، فَجَاءَ فَجَلَسَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ هَؤُلَاءَ نَزَلُوْا عَلٰى حُكْمِكَ". قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ وَأَنْ تُسْبَى الذُّرِّيَّةُ. قَالَ: "لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بحُكْم المَلِكِ". وَفِي رِوَايَةٍ: "بِحُكْم اللّٰهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3963 ، باب: قیدیوں کا حکم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نجد کی طرف کچھ سوار بھیجے ۱؎وہ لوگ بنی حنیفہ کا ایک شخص پکڑ لائے جسے ثمامہ ابن اثال کہا جاتا تھا یعنی یمامہ والوں کا سردار ۲؎تو اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے باندھ دیا ۳؎تو اس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے فرمایا تیرے پاس کیا ہے۴؎اے ثمامہ وہ بولا اے محمد میرے پاس بھلائی ہے ۵؎اگر آپ قتل کریں گے تو خون والے کو قتل کریں گے ۶؎اور اگر آپ احسان کریں تو شکر گزار پرکریں گے ۷؎اگر آپ مال چاہتے ہوں تو طلب فرمایئے جو چاہیں گے حاضر کیا جائے گا ۸؎اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے چھوڑ دیا ۹؎حتی کہ کل کا دن ہوا تو فرمایا اے ثمامہ تیرے پاس کیا ہے وہ بولا میرے پاس وہ ہی ہے جو میں نے آپ سے عرض کیا کہ اگر احسان فرماؤ گے تو شکر گزار پر احسان فرماؤ گے اور قتل فرماؤ گے تو بڑے بھاری خون والے کو قتل فرماؤ گے اور اگر آپ مال چاہتے ہوں تو طلب کیجئے حاضر کیا جائے گا جو آپ چاہیں گے اسے پھر حضور انور نے چھوڑ دیاحتی کہ پرسوں کا دن ہوا تو اس سے فرمایا کہ ثمامہ تیرے پاس کیا ہے وہ بولا میرے پاس وہ ہی ہے جو میں نے عرض کیا کہ اگر آپ احسان کریں گے تو شکر گزار پر کریں گے اور اگر قتل کریں گے تو بھاری خون والے کو قتل کریں گے اور اگر آپ مال چاہتے ہوں تو طلب کیجئے جو آپ چاہیں گے حاضر کیا جائے گا ۱۰؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ثمامہ کو کھول دو ۱۱؎وہ مسجد کے قریبی باغ کی طرف گیا غسل کیا پھر مسجد میں آیا ۱۲؎کہا میں گواہی دیتا ہوں کہکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمدکے بندے اس کی رسول ہیں اے محمد اللہ کی قسم مجھے روئے زمین پر کوئی چہرہ تمہارے چہرے سے زیادہ ناپسند نہ تھا اب آپ کا رخ انور تمام چہروں سے مجھے زیادہ پیارا ہوگیا۱۳؎کی قسم مجھے کوئی دین آپ کے دین سے زیادہ ناپسند نہ تھا مگر اب آپ کا دین مجھے تمام دینوں سے زیادہ پیارا ہوگیا ۱۴؎کی قسم کوئی شہر مجھے آپ کے شہر سے زیادہ ناپسند نہ تھا مگر اب مجھے آپ کی نگری تمام شہروں سے زیادہ پیاری ہوگئی ۱۵؎اور آپ کے لشکر نے مجھے اس حال میں گرفتار کیا کہ میں عمرہ کا ارادہ کررہا تھا اب آپ کیا مناسب سمجھتے ہیں ۱۶؎اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خوشخبری دی اور عمرہ کرنے کا حکم دیا ۱۷؎تو جب وہ مکہ آئے تو ان سے کسی نے کہا کہ کیا تم بے دین ہوگئے ۱۸؎وہ بولے نہیں لیکن میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایمان لے آیا ۱۹؎اور خدا کی قسم یمامہ سے تمہارے پاس گندم کا ایک دانہ نہ پہنچے گا حتی کہ اس کی اجازت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم دے دیں ۲۰؎(مسلم) اور بخاری نے اسے مختصرًا روایت کیا۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهٗ: ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوْهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟ " فَقَالَ: عِنْدِي يَا مُحَمَّد خَيْرٌ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلٰى شَاكِرٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ، فَتَرَكَهٗ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حتّٰى كَانَ الْغَدُ فَقَالَ لَهٗ: "مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟ " فَقَالَ: عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ؛ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلٰى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ المَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ فَتَرَكَهٗ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حتّٰى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ فَقَالَ لَهٗ: "مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟ " فَقَالَ: عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ؛ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلٰى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَطْلِقُوْا ثُمَامَةَ" فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَن مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ، يَا مُحَمَّدُ وَاللّٰهِ مَا كَانَ عَلٰى وَجْهِ الأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوْهِ كُلِّهَا إِلَيَّ، وَاللّٰهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِكَ فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الدِّينِ كُلِّهٖ إِلَيَّ، وَوَاللّٰهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ بَلَدِكَ، فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلَادِ كُلِّهَا إِلَيَّ. وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ فَمَاذَا تَرَى؟ فَبَشَّرَهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهٗ أَنْ يَعْتَمِرَ، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ قَالَ لَهٗ قَائِلٌ: أَصَبَوْتَ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، وَلَا وَاللّٰهِ لَا يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ حتّٰى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَاخْتَصَرَهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3964 ، باب: قیدیوں کا حکم

روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے ۱؎کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بدر کے قیدیوں کے متعلق فرمایا کہ اگر مطعم ابن عدی زندہ ہوتے پھر وہ مجھ سے ان گندوں کے متعلق گفتگو کرتے تو ان کی وجہ سے میں انہیں چھوڑ دیتا۔(بخاری)

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ: "لَوْ كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لَتَرَكْتُهُمْ لَهٗ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3965 ، باب: قیدیوں کا حکم

روایت ہے حضرت انس سے کہ مکہ والوں میں سے اسّی آدمی تنعیم پہاڑ سے ہتھیار بند ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر کودے ۱؎وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی غفلت اور حضور کے صحابہ کی غفلت کے ارادے میں تھے ۲؎کہ انہیں زندہ گرفتار کرلیا ۳؎پھر انہیں زندہ چھوڑ دیا اور ایک روایت میں ہے کہ انہیں آزاد کردیا ۴؎تبتعالٰی نے یہ آیت اتاری کہ وہ رب وہ ہے جس نے مکہ کے درمیان ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا ۵؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوْا عَلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيم مُتَسَلِّحِينَ، يُرِيدُوْنَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهٖ، فَأخَذَهُمْ سَلْمًا فَاسْتَحْيَاهُمْ -وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَعْتَقَهُمْ- فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى: وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3966 ، باب: قیدیوں کا حکم

روایت ہے حضرت قتادہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم سے انس ابن مالک نے بروایت ابو طلحہ ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بدر کے دن چوبیس سرداران قریش کے متعلق حکم دیا ۲؎تو وہ بدر کے کنوؤں میں سے ایک گندے اور پلیدکنویں میں۳؎ڈال دیئے گئے اور جب حضورکسی قوم پر غالب آتے تھے تو میدانِ جنگ میں تین شب قیام فرماتے تھے۴؎چنانچہ جب بدر میں تیسرا دن ہوا تو اپنی سواری کے متعلق حکم دیا تو اس پر پالان باندھ دیا گیا ۵؎پھر حضور چلے اور حضور کے صحابہ پیچھے پیچھے گئے حتی کہ کنوئیں کے کنارے پر کھڑے ہوئے ۶؎تو انہیں ان کے اور ان کے باپ داداؤں کے نام سے پکارنے لگے کہ اے فلاں ابن فلاں اور اے فلاں ابن فلاں ۷؎کیا اب تم کو یہ پسند ہے کہ تم نےرسول کی اطاعت کی ہوتی ۸؎ہم نے تو وہ حق پایا جو ہم سے ہمارے رب نے وعدہ کیا تھا ۹؎تو تم نے بھی وہ حق پالیا جو تم سے تمہارے رب نے وعدہ کیا۱۰؎تو حضرت عمر نے عرض کیا یارسولحضور ان جسموں سے کلام فرماتے ہیں جن میں جان نہیں ۱۱؎نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے میرے فرمان کو تم لوگ ان سے زیادہ نہیں سنتے ۱۲؎اور ایک روایت میں ہے کہ تم لوگ ان سے زیادہ نہیں سنتے لیکن وہ جواب نہیں دیتے۱۳؎(مسلم،بخاری)بخاری نے یہ زیادہ کیا کہ قتادہ نے فرمایا کہنے انہیں زندہ کیا حتی کہ انہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا قول سنادیا سرزنش،ذلت، بدلہ، حسرت،ندامت کے لیے۱۴؎

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ ا بْنُ مَالِكٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ: أَنَّ النبيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ، فَقُذِفُوْا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ، وَكَانَ إذَا ظهرَ عَلٰى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ، فَلَمَّا كَانَ بِبَدْرٍ الْيَوْمَ الثَّالِثَ، أَمَرَ بِرَاحِلَتِهٖ فَشُدَّ عَلَيْهَا رَحْلُهَا ثُمَّ مَشَى، وَاتَّبَعَهٗ أَصْحَابُهٗ حتّٰى قَامَ عَلٰى شَفَةِ الرَّكِيِّ فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ: "يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ! يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ! أَيَسُرُّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ؟ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا، فَهَلْ وَجَدتمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ " فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! مَا تُكَلِّمَ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ لَهَا؟ قَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهٖ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُوْلُ مِنْهُمْ". وَفِي رِوَايَةٍ: "مَا أَنتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لَا يُجيبُوْنَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَزَادَ الْبُخَارِيُّ: قَالَ قتادَةُ: أَحْيَاهُمُ اللّٰهُ حتّٰى أَسْمَعَهُمْ قَوْلَهٗ تَوْبِيخًا وَتَصْغِيرًا وَنِقْمَةً وَحَسْرَةً وَنَدَمًا.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3967 ، باب: قیدیوں کا حکم

روایت ہے مروان ۱؎اور حضرت مسور ابن مخرمہ سے ۲؎کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے قیام فرمایا جب کہ حضور کے پاس ہوازن کا وفد مسلمان ہوکر آیا۳؎تو انہوں نے حضور سے سوال کیا انہیں ان کے مال اور قیدی واپس کردیں۴؎تو فرمایا کہ تم لوگ ان دو میں سے ایک کو اختیارکرلو یا قیدی یا مال تو وہ بولے کہ ہم اپنے قیدی اختیارکرتے ہیں۵؎تب رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے قیام فرمایاکی وہ تعریف فرمائی جو اس کی شان کے لائق ہے پھر فرمایا کہ بعد حمد تمہارے بھائی توبہ کرتے ہوئے آئے ہیں ۶؎میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی انہیں واپس کردوں ۷؎تو تم میں سے جو پسندکرے کہ بخوشی یہ کرے تو وہ کرے ۸؎اور تم میں سے جو اپنے حصہ پر رہنا چاہے حتی کہ اس میں سے عطا فرمائیں جوہمیں غنیمت دے تو وہ یوں کرے ۹؎تب لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم )ہم نے بخوشی قبول کرلیا ۱۰؎تو رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم کو تم میں سے اجازت دینے والوں کا پتہ نہ چلا ان میں سے جنہوں نے اجازت نہ دی ۱۱؎تو تم واپس جاؤ حتی کہ تمہارے سردار تمہارا ارادہ ہم تک پہنچادیں۱۲؎تب لوگ لوٹ گئے پھر ان سے ان کے سردار نے گفتگو کی پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف لوٹے خبر دی کہ ان سب نے خوشدلی سے اجازت دے دی۱۳؎(بخاری)

وَعَنْ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ:أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهٗ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ، فَسَأَلُوْهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ، وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ: "فَاخْتَارُوْا إِحْدَى الطَّائِفتيْنِ: إِمَّا السَّبْيَ وَإِمَّا الْمَالَ" قَالُوْا: فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا. فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَى عَلَى اللّٰهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهٗ،ثُمَّ قَالَ: "أمَّا بعدُ! فإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ جَاؤُوْا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذٰلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَن أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُوْنَ عَلٰى حَظِّهٖ حتّٰى نُعطِيَه إِيَّاهُ منْ أوَّلِ مَا يَفِيءُ اللّٰهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ" فَقَالَ النَّاسُ: قد طَيَّبْنَا ذٰلِكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَن، فَارْجِعُوْا حتّٰى يَرْفَعَ إِلَيْنَاعُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ". فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوْا إِلَى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوْهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبوا وَأَذِنُوْا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3968 ، باب: قیدیوں کا حکم

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ ثقیف بنی عقیل کے حلیف تھے ۱؎تو ثقیف نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے دو کو قید کرلیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ نے بنی عقیل میں سے ایک شخص کو قید کرلیا ۲؎تو اسے باندھ دیا پھر اسے مقام حرہ میں ڈال دیا ۳؎پھر اس پر رسولصلی اللہ علیہ و سلم گزرے ۴؎اس نے حضور کو پکارا اے محمد اے محمد میں کس جرم میں پکڑا گیا،فرمایا اپنی قوم کے حلیف ثقیف کے جرم میں ۵؎پھر حضور نے اسے یونہی چھوڑا اور چل دیئے اس نے پھر کہا یامحمد اس پر رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے رحم فرمایا لوٹ آئے ۶؎فرمایا تیرا کیا حال ہے وہ بولا میں مسلمان ہوں۷؎فرمایا اگر تو یہ بات اس وقت کہتا جب تو اپنے معاملے کا مالک تھا ۸؎تو پوری کامیابی پاتا ۹؎راوی فرماتے ہیں پھر اسے رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے ان دو شخصوں کے فدیہ میں دے دیا جنہیں ثقیف نے گرفتار کرلیا تھا۱۰؎(مسلم)

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كَانَتْ ثَقِيفٌ حَلِيفًا لِبَنِي عُقَيْلٍ، فَأَسَرَتْ ثَقِيفٌ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُقَيلٍ، فَأَوْثَقُوْهُ فَطَرَحُوْهُ فِي الْحَرَّةِ، فَمَرَّ بِهٖ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَاداهُ: يَا مُحَمَّدُ! يَا مُحَمَّدُ! فِيمَ أُخِذْتُ؟ قَالَ: "بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكُمْ ثَقِيفٍ" فتَرَكَهٗ وَمَضَى، فَنَاداهُ: يَا مُحَمَّدُ! يَا مُحَمَّدُ! فَرَحِمَهٗ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ فَقَالَ: "مَا شَأْنُكَ؟ " قَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ. فَقَالَ: "لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ". قَالَ: فَفَدَاهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّجُلَيْنِ اللَّذَينِ أسرَتْهُمَا ثَقِيفٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3969 ، باب: قیدیوں کا حکم

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں جب مکہ والوں نے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے ۱؎توحضرت زینب نے بھی ابوالعاص کے فدیہ میں کچھ مال بھیجا ۲؎اس مال میں وہ اپنا ہار بھیجا جو جناب خدیجہ کے پاس تھا جسے دے کر زینب کو ابولعاص کے ہاں بھیجا تھا۳؎تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ ہار دیکھا حضور کو اس پر بہت ہی رقت طاری ہوئی۳؎اور فرمایا اگر تم لوگ مناسب سمجھو تو زینب کا قیدی چھوڑ دو اور ان کی چیزیں انہیں واپس کردو۴؎سب نے کہا ہاں ضرور اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ابوالعاص سے عہد لیا کہ وہ جناب زینب کا راستہ خالی کر دیں۵؎اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے زید ابن حارثہ کو ا ور ایک انصاری کو بھیجا ۶؎ان سے فرمادیا کہ تم دونوں بطن یا جج میں رہنا۸؎تا آنکہ تم پر زینب گزریں تو انہیں اپنے ساتھ لے آنا (احمد،ابوداؤد)

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أُسَرَائِهِمْ بَعَثَتْ زَيْنَبُ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ بِمَالٍ، وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلَادَةٍ لَهَا كَانَتْ عِنْدَ خَدِيجَةَ أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلٰى أَبِي الْعَاصِ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً وَقَالَ: "إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوْا لَهَا أَسِيرَهَا، وَتَرُدُّوْا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا" فَقَالُوْا: نَعَمْ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ عَلَيْهِ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَ زَيْنَبَ إِلَيْهِ وَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بنَ حَارِثَةَ وَرَجُلًا منَ الأَنْصَارِ فَقَالَ: "كُوْنَا بِبَطْنِ يَأْجِجَ حتّٰى تمُرَّ بِكُمَا زينَبُ فَتَصْحَبَاهَا حتّٰى تَأْتِيَا بهَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3970 ، باب: قیدیوں کا حکم

روایت ہے ان ہی سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب بدر والوں کو قید کیا تو عقبہ ابن ابی معیط اور نضر ابن حارث کو تو قتل کردیا ۱؎اور ابو عزہ جمحی پر احسان فرمایا۲؎(شرح سنہ)

وَعَنْهَا: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَسَرَ أَهْلَ بَدْرٍ قَتَلَ عُقْبَةَ ابْنَ أَبِي مُعَيْطٍ وَالنَّضْرَ بْنَ الْحَارِثِ، وَمَنَّ عَلٰى أَبِي عَزَّةَ الْجُمَحِيِّ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السّنة".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3971 ، باب: قیدیوں کا حکم

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عقبہ ابن ابی معیط کے قتل کا ارادہ کیا تو وہ بولا بچوں کا کون ہے ۱؎فرمایا آگ ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ قَتْلَ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ قَالَ: مَنْ لِلصِّبْيَةِ؟قَالَ: "النَّارُ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3972 ، باب: قیدیوں کا حکم

روایت ہے حضرت علی سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کے جبریل امین حضور کے پاس حاضر ہوئے عرض کیا کہ آپ ان حضرات یعنی اپنے صحابہ کو بدر کے قیدیوں کے متعلق قتل و فدیہ کا اختیار دیں ۱؎اس شرط پر کہ آئندہ سال اتنے ہی ان میں سے قتل کیے جائیں گے وہ بولے فدیہ چاہیے اور ہم ہی سے قتل کیے جائیں۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۳؎

وَعَنْ عَلِيٍّ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَنَّ جِبْرِيلَ هَبَطَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهٗ: خَيِّرْهُمْ، يَعْنِي أَصْحَابَكَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ: القَتْلَ أَوِ الفِدَاءَ عَلٰى أَنْ يُقْتَلَ مِنْهُمْ قَابِلًا مِثْلُهُمْ". قَالُوْا: الْفِدَاءَ وَيُقْتَلُ مِنَّا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3973 ، باب: قیدیوں کا حکم

روایت ہے حضرت عطیہ قرظی سے فرماتے ہیں کہ میں قریظہ کے قیدیوں میں تھا ۱؎ہم سب نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر پیش کیے گئے تو معائنہ کیے جاتے تھے جس کے بال اگ گئے تھے وہ قتل کردیا گیا اور جس کے نہ اگے تھے وہ قتل نہ کیا گیا چنانچہ میرا زیر ناف بدن بھی کھولا تو محسوس کیا کہ نہ اُگے تھے تو مجھے قیدیوں میں کر دیا ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)

عَنْ عَطِيَّةَ القَرَظِيَّ قَالَ: كُنْتُ فِي سَبْي قُرَيْظَةَ، عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانُوْا يَنْظُرُوْنَ فَمَنْ أَنْبَتَ الشَّعَرَ قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ لَمْ يُقْتَلْ، فَكَشَفُوْا عَانَتِي فَوَجَدُوْهَا لَمْ تُنْبِتْ، فَجَعَلُوْنِي فِي السَّبْي. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3974 ، باب: قیدیوں کا حکم

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں دو غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف آئے حدیبیہ کے دن صلح سے پہلے ۱؎تو حضور کی خدمت میں ان کے مولاؤں نے لکھا بولے اے محمد خدا کی قسم یہ لوگ آپ کے پاس آپ کے دین سے محبت کی وجہ سے نہیں گئے وہ تو صرف غلامیت سے بھاگنے کے لیے نکلے ہیں ۲؎تو کچھ لوگ بولے یارسول اللہ وہ سچے ہیں حضور انہیں ان کی طرف لوٹا دیں۳؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ناراض ہوئے۴؎اور فرمایا کہ اے گروہ قریش تم لوگ باز نہ آؤ گے حتی کہتعالٰی تم پر اسے بھیجے جو اس پر تمہاری گردنیں مار دے ۵؎اور انہیں واپس فرمانے سے انکارکردیا اور فرمایا کہ یہکے آزادکردہ ہیں ۶؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: خَرَجَ عُبْدَانٌ إِلَى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي يَوْمَ الحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ الصُّلْحِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ مَوَالِيهِمْ قَالُوْا: يَا مُحَمَّدُ وَاللّٰهِ مَا خَرَجُوْا إِلَيْكَ رَغْبَةً فِي دِينِكَ، وَإِنَّمَا خَرَجُوْا هَرَبًا مِنَ الرِّقِّ. فَقَالَ نَاسٌ: صَدَقُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ رُدَّهُمْ إِلَيْهِمْ، فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: "مَا أَرَاكُم تَنْتَهُوْنَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ حتّٰى يَبْعَثَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ مَنْ يَضْرِبُ رِقَابَكُمْ عَلٰى هٰذَا". وَأَبَى أَن يَرُدَّهُم وَقَالَ: "هُمْ عُتَقَاءُ اللّٰهِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3975 ، باب: قیدیوں کا حکم

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خالد ابن ولید کو بنی جزیمہ کی طرف بھیجا ۱؎تو خالد نے انہیں اسلام کی دعوت دی انہوں نے یہ جانا کہ کہہ دیتے ہم اسلام لائے تو وہ کہنے لگے ہم دین سے نکل گئے ۲؎نکل گئے تو حضرت خالد انہیں قتل کرنے اور قید کرنے لگے۳؎اور ہم میں سے ہر ایک کو اس کا قیدی دیاحتی کہ ایک دن وہ ہوا کہ حضرت خالد نے حکم دیا کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کردے۴؎تو میں بولاکی قسم میں تو اپنے قیدی کو قتل نہ کروں گا ۵؎اور نہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے حتی کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یہ واقعہ ہم نے حضور سے ذکر کیا تو حضور نے اپنے ہاتھ اٹھائے فرمایا الٰہی میں اس سے تیری طرف بیزاری ظاہرکرتا ہوں ہوں جو خالد نے کہا دوبار فرمایا ۶؎(بخاری)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بنَ الْوَليدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الإِسْلَامِ، فَلَمْ يُحْسِنُوْا أَنْ يَقُوْلُوْا: أَسْلَمْنَا، فجعلوا يَقُوْلُوْنَ: صَبَأْنَا صَبَأْنَا، فَجَعَلَ خَالِدٌ يَقتُلُ وَيَأْسِرُ، وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهٗ، حتّٰى إِذَا كَانَ يَوْمٌ أَمَرَ خَالِد أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهٗ، فَقُلْتُ: وَاللّٰهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي، وَلَا يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهٗ، حتّٰى قَدِمْنَا إِلَى النَّبِيّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَاهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: "اَللّٰهُمَّ أَنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ" مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3976 ، باب: قیدیوں کا حکم