باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا

جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت ابن عباس کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قیصر کو فرمان لکھا اسے دعوت اسلام دیتے ہوئے ۱؎اور دحیہ کلبی کو اپنا خط دے کر اس کی طرف بھیجا ۲؎اور انہیں حکم دیا کہ یہ خط بصریٰ کے حاکم کو دے دیں۳؎تاکہ وہ قیصر کو پہنچادیں۴؎تو اس میں یہ تھا شروع کرتا ہوںکے نام سے جو مہربان رحم والا ہے ۵؎یہ خطکے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے سلطان روم ہرقل کے طرف ہے ۶؎اس پر سلامتی ہو جو ہدایت کی اتباع کرے ۷؎اس کے بعد میں تم کو دعوت اسلام سے بلاتا ہوں ۸؎اسلام قبول کرلو سلامت رہو گے اللہ تم کو ڈبل ثواب دےگا ۹؎اور اگر تم نے منہ پھیرا تو تم پر تمام رعایا کا گناہ ہے۱۰؎اور اے اہل کتاب ایسی بات کی طرف آؤ ہمارے تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہمکے سواءکسی کو نہ پوجیں اورکسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور ہمارے بعض بعض کوکے مقابل رب نہ بنالیں۱۱؎پھر اگر وہ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ گواہ رہو ہم مسلمان ہیں۱۲؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یوں فرمایا کہ یہ فرمان محمد رسول اللہ کی طرف سے ہے اور فرمایا رعایا کا گناہ اور فرمایا اسلام کی دعوت ۱۳؎

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلٰى قَيْصَرَ يَدْعُوْهُ إِلَى الإِسْلَامِ، وَبَعَثَ بِكِتَابِهٖ إِلَيْهِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ، وَأَمَرَهٗ أَنْ يَدْفَعَهٗ إِلٰى عَظِيْمِ بُصْرٰى لِيَدْفَعَهٗ إِلٰى قَيْصَرَ فَإِذَا فِيهِ: "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ إلٰى هِرَقْلَ عَظِيْمِ الرُّوْم،سَلَامٌ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى، أَمَّا بَعْدُ! فَإِنِّيْ أَدْعُوْكَ بِدَاعِيَةِ الإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللّٰهُ أَجَرَكَ مَرَّتَيْنِ، وَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمُ الأَرِيْسِيِّيْنَ، وَ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِأَنَّا مُسْلِمُوْنَ ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمِ قَالَ: "مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُوْلِ اللّٰهِ" وَقَالَ: "إِثْمُ الْيَرِيْسِيِّينَ" وَقَالَ: "بِدِعَايَةِ الإِسْلَام".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3926 ، باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا

روایت ہے ان ہی سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا فرمان نامہ عبدابن حذافہ سہمی کے ذریعہ کسریٰ کی طرف بھیجا ۱؎اور انہیں حکم دیا یہ فرمان نامہ بحرین کے گورنر کو دے دیں پھر بحرین کے گورنر نے وہ خط کسریٰ کو دیا ۲؎جب کسریٰ نے پڑھا تو اسے پھاڑ دیا،ابن مسیب کہتے ہیں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان پر یہ دعا فرمائی کہ وہ ہی پورے پورے پھاڑ دیئے جائیں۳؎(بخاری)

وَعَنْهُ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِكِتَابِهٖ إِلَى كِسْرٰى مَعَ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ فَأَمَرَهٗ أَنْ يَدْفَعَهٗ إِلَى عَظِيم الْبَحْرَيْنِ فَدَفَعَهٗ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى، فَلَمَّا قَرَأَ مَزَّقَهٗ، قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَزَّقُوْا كُلَّ مُمَزَّقٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3927 ، باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسریٰ قیصر اور نجاشی کی طرف اور ہر جابر بادشاہ کی طرف فرامین لکھے ۱؎اور انہیں اکی دعوت دیتے تھے یہ نجاشی وہ نہیں ہے جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز جنازہ پڑھی ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلٰى كِسْرٰى وَإِلَى قَيْصَرَ وَإِلَى النَّجَاشِيِّ وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ يَدْعُوْهُمْ إِلَى اللّٰهِ، وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3928 ، باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا

روایت ہے حضرت سلیمان ابن بریدہ سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب کسی کو کسی لشکر یا فوج پر امیر بناتے تو اسے اپنے خاص ذاتی معاملہ میں اللہ سے ڈرنے کی اور اپنے مسلمان ساتھیوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت فرماتے تھے ۲؎پھر فرماتے کہ اکے نام سے اکی راہ میں جہاد کرو،ان سے جنگ کرو جو اللہ کے منکر ہیں۳؎جہاد کرو تو نہ خیانت کرو،نہ بد عہدی اور نہ مثلہ کرو نہ کسی بچہ کو قتل کرو ۴؎اور جب اپنے دشمن مشرکوں سے ملو تو انہیں تین خصلتوں یا تین باتوں کی طرف بلاؤ ۵؎تو وہ ان میں سے جو بات مان جائیں تم ان سے قبول کرو اور ان کے ہاتھ روک لو ۶؎انہیں اسلام کی طرف بلاؤ ۱؎تو اگر وہ یہ مان لیں تم ان سے قبول کرلو اور ان سے ہاتھ روک لو ۷؎تو پھر انہیں اپنے وطن سے مہاجرین کی جگہ کی طرف منتقل ہوجانے کی دعوت دو ۸؎اور انہیں خبر دو کہ وہ یہ کرلیں گے تو ان کے لئےوہ ہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اور ان پر وہ ذمّہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں ۹؎اگر وہ وہاں سے منتقل ہونے سے انکار کریں تو انہیں آگاہ کردو کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہونگے کہ ان پر وہ احکام الٰہی جاری کئے جائیں گے ۱۰؎جو مسلمانوں پر جاری کئے جاتے ہیں اور ان کے لئے غنیمت و فئ سے کچھ نہ ہوگا ۱۱؎مگر یہ کہ مسلمان کے ساتھ جہاد کریں۱۲؎پھر اگر وہ انکار کریں تو تم ان سے جزیہ مانگو ۱۳؎پھر اگر وہ لوگ تمہاری مان لیں تو تم ان سے قبول کرلو اور ان سے ہاتھ روک لو۱۴؎لیکن اگر وہ انکاری ہوں تو اللہ سے مدد مانگو اور ان سے جنگ کرو ۱۵؎اور جب تم کسی قلعہ والوں کامحاصرہ کرو پھر وہ تم سے خواہش کریں کہ تم ان کے لئے اللہ رسول کا ذمہ کرو تو تم ان کےلئے نہ اللہ کا ذمہ اور نہ اس کے نبی کا ذمہ۱۶؎بلکہ ان کے لیے اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دو کیونکہ اگر تم اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ توڑے جاؤ تو یہ اس سے آسان ہے کہ تم اللہ کا ذمہ اور اس کے رسول کا ذمہ توڑے جاؤ ۱۷؎اور اگر تم کسی قلعہ والوں کامحاصرہ کرو پھروہ چاہیں کہ تم انہیں اللہ کے حکم پر اتارو تو تم ان کو اللہ کے حکم پر نہ اتارو لیکن انہیں اپنے حکم پر اتارو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان کے متعلق اللہ کا حکم پاؤ گے یا نہیں ۱۸؎(مسلم)

وَعَنْ سُلَيْمَانَ اِبْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلٰى جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّتِهٖ بِتَقْوَى اللّٰهِ، وَمَنْ مَعَهٗ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا،ثُمَّ قَالَ: "اغْزُوَا بِسْمِ اللّٰهِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ قَاتِلُوْا مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ اغْزُوَا فَلَا تَغُلُّوْا، وَلَا تَغْدِرُوْا، وَلَا تَمْثُلُوْا، وَلَا تَقْتُلُوْا وَلِيْدًا، وَإِذَا لَقِيْتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ فَادْعُهُمْ إِلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ -أَوْ خِلَالٍ- فَأَيَّتَهُنَّ مَا أَجَابُوْكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلَام،فَإِنْ أَجَابُوْكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوْا ذٰلِكَ فَلَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوْا مِنْهَا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُوْنُوْن كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ، يُجْرٰى عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللّٰه الَّذِي يُجْرٰى عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَكُوْنُ لَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْءِ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوْا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوا فَسَلْهُمْ الْجزْيَةَ فَإِنْ هُمْ أَجَابُوْكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِ وَقَاتِلْهُمْ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوْكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللّٰهِ وَذِمَّةَ نبَيِّهٖ فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللّٰهِ وَلَا ذِمَّةَ نبَيِّهٖ، وَلَكِنِ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ،فَإِنَّكُمْ أَنْ تُخْفِرُوْا ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ أَصْحَابِكُمْ أَهْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوْا ذِمَّةَ اللّٰهِ وَذِمَّةَ رَسُوْلِهٖ، وَإِنْ حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوْكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلٰى حُكْمِ اللّٰهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلٰى حُكْم اللّٰهِ، وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلٰى حُكْمِكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِيْ أَتُصِيْبُ حُكْمَ اللّٰهِ فِيهِمْ أَمْ لَا؟ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3929 ، باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا

روایت ہے حضرت عبدابن ابی اوفی سے ۱؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بعض ان دنوں میں جن میں دشمن سے جنگ فرمائی ۲؎تو یہاں تک انتظار فرمایا کہ سورج ڈھل گیا۳؎تو حضور لوگوں میں کھڑے ہوئے پھر فرمایا کہ اے لوگو دشمن سے ملنے کی آرزو نہ کرو۴؎اور اللہ سے امن کی دعا مانگو پھر جب بھڑ جاؤ تو صبر کرو ۵؎اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایہ کے نیچے ہے ۶؎پھر کہا اے ااے کتاب کے اتارنے والے اور بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو بھگانے والے انہیں بھگادے اور ان کے مقابل میں ہماری مدد فرما ۷؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِي أَوْفٰى: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ اِنْتَظَرَ حتّٰى مَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ! لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْأَلُوا اللّٰهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمْ فَاصْبِرُوْا، وَاعْلَمُوْا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوْفِ"، ثُمَّ قَالَ: "اَللّٰهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3930 ، باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب ہمارے ساتھ کسی قوم پر جہاد کرتے تو حملہ نہ فرماتے حتی کہ صبح پالیتے اور ان کی طرف غور کرتے ۱؎اگر اذان سنتے تو ان سے رک جاتے اور اگر اذان نہ سنتے تو ان پر حملہ کردیتے ۲؎فرماتے ہیں کہ ہم خیبر کی طرف گئے تو ہم ان تک رات میں پہنچے ۳؎جب سویرا ہوا اور اذان نہ سنی تو آپ سوار ہوئے اور میں ابوطلحہ کے پیچھے سوار ہوا کہ میرے قدم حضور کے قدم سے چھوتے تھے۴؎فرماتے ہیں کہ وہ لوگ اپنی زنبیلیں اور پھاؤڑے لے کر نکلے ۵؎پھر جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا تو بولے محمد خدا کی قسم محمد اور لشکر ۶؎پھر انہوں نے قلعہ میں پناہ لے لی ۷؎تو جب انہیں رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا تو فرمایااﷲ اکبر اﷲ اکبرخیبر ویران ہوگیا۸؎جب ہم ایک قوم کے میدان میں اترے تو ڈرائے ہوؤں کا سویرا برا ہوگیا ۹؎(مسلم بخاری)۱۰؎

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَزَا بِنَا قَوْمًا لَمْ يَكُنْ يَغْزُوْ بِنَا حتّٰى يُصْبحَ وَيَنْظُرَ إِلَيْهِمْ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ قَالَ: فَخَرَجْنَا إِلٰى خَيْبَرَ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ لَيْلَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ وَلَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا رَكِبَ وَرَكِبْتُ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ، وَإِنَّ قَدَمِيْ لَتَمَسُّ قَدَمَ نَبِيِّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَخَرَجُوْا إِلَيْنَا بَمَكَاتِلِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوْا: مُحَمَّد واللّٰهِ محمَّدٌ وَالْخَمِيْسُ، فَلَجَؤوْا إِلَى الْحِصْنِ، فَلَمَّا رَآهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قومٍ فَسَاءَ صَبَاحُ المُنْذَرِيْنَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3931 ، باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا

روایت ہے حضرت نعمان ابن مقرن سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں رسولصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ جہاد میں حاضر ہوا ۲؎جب حضور اول دن میں جنگ نہ کرتے تو انتظار فرماتے حتی کہ ہوائیں چلتیں اور وقت نماز آجاتا۳؎(بخاری)

وَعَنِ النُّعْمَانِ اِبْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ: شَهِدْتُ الْقِتَالَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ القِتَالَ أَوَّلَ النَّهَارِ انْتُظَرَ حتّٰى تَهُبَّ الأَرْوَاحُ وَتَحْضُرَ الصَّلَاةُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3932 ، باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا

روایت ہے حضرت نعمان ابن مقرن سے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۱؎تو آپ اگر شروع دن میں جنگ نہ کرتے تو انتظار فرماتے حتی کہ سورج ڈھل جاتا اور ہوائیں چل پڑتیں اور نصرت و فتح اترتی ۲؎(ابوداؤد)

عَنِ النُّعْمَانِ اِبْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ اِنْتَظَرَ حتّٰى تَزُوْلَ الشَّمْسُ، وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ وَيَنْزِلَ النَّصْرُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3933 ، باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا

روایت ہے حضرت قتادہ سے وہ نعمان ابن مقرن سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ جہاد کیا تو جب فجر طلوع ہوتی تو آپ رک جاتے حتی کہ سورج طلوع ہوجاتا ۱؎پھر جب سورج طلوع ہوتا تو جنگ کرتے پھر جب نصف دن ہوجاتا تو رک جاتے۲؎حتی کہ سورج ڈھل جاتا پھر جب ڈھل جاتا تو جہادکرتے عصر تک پھرٹھہر جاتے حتی کہ عصر پڑھ لیتے پھر جہاد کرتے،قتادہ کہتے ہیں کہ کہا جاتاہے۳؎کہ اس وقت فتح و نصرت کی ہوائیں چلتیں ہیں اور مسلمان اپنی نمازوں میں اپنے لشکروں کے لیے دعائیں کرتے ۴؎(ترمذی)

وَعَنْ قتَادَةَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إذَا طَلَعَ الْفَجْرُ أَمْسَكَ حتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَاتَلَ، فَإِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ أَمْسَكَ حتّٰى تَزُوْلَ الشَّمْسُ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَاتَلَ حَتَّى الْعَصْرِ، ثُمَّ أَمْسَكَ حتّٰى يُصَلَّى الْعَصْرُ، ثُمَّ يُقَاتِلُ، قَالَ قتَادَةُ: كَانَ يُقَالُ: عِنْدَ ذٰلِكَ تَهِيْجُ رِيَاحُ النَّصْرِ،وَيَدْعُو الْمُؤْمِنُوْنَ لِجُيُوْشِهِمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3934 ، باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا

روایت ہے حضرت عصام مزنی سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک لشکر میں بھیجا تو فرمایا جب تم مسجد دیکھو یا مؤذن کو سنو تو کسی کو قتل نہ کرو ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَقَالَ: "إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلَا تَقْتُلُوْا أَحَدًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3935 ، باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا

روایت ہے حضرت ابو وائل سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت خالد ابن ولید نے۲؎فارس والوں کو لکھا۳؎میں شروع کرتا ہوں مہربان رحم والے اللہ کے نام سے یہ خط ہے خالد ابن ولید کی طرف سے رستم اور مہران کی طرف جو فارس کی جماعت میں ہیں۴؎اس پر سلام ہو جو ہدایت کی ابتاع کرے اس کے بعد ہم تم کو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں لیکن اگر تم نہ مانو تو جزیہ اپنے ہاتھ سے دو حالانکہ تم ذلیل ہو ۵؎پھر اگر تم نہ مانو تو میرے ساتھ ایسی قوم ہے جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے کو ایسا پسند کرتے ہیں جیسے فارس کے لوگ شراب پسندکرتے ہیں ۶؎اور سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے ۷؎(شرح سنہ)

عَنْ أَبِيْ وَائِلٍ قَالَ: كَتَبَ خَالِدُ بْنُ الْوَليدِ إِلٰى أَهْلِ فَارِسَ: بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ، مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَليدِ إِلَى رُسْتَمَ وَمِهْرَانَ فِي مَلِأَ فَارِسَ، سَلَامٌ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى، أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّا نَدْعُوْكُمْ إِلَى الإِسْلَامِ،فَإِنْ أَبَيْتُمْ فَأَعْطُوا الْجزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُوْنَ، فَإِنْ أَبَيْتُمْ فَإِنَّ مَعِيَ قَوْمًا يُحِبُّوْنَ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ كَمَا يُحِبُّ فَارِسُ الْخَمْرَ، وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى. رَوَاهُ فِيْ "شَرْح السُّنَّة".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3936 ، باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا