- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
باب:شرکت اور وکالت کا باب
تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت زہرہ ابن معبد سے کہ ان کو ان کے دادا عبداللّٰهابن ہشام ۱؎بازار لے جاتے تھے غلہ خریدتے تھے ۲؎تو ان سے حضرت ابن عمرو اور ابن زبیر ملتے تھے تو کہتے تھے ہمیں شریک کرلو ۳؎کیونکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے آپ کے لیے برکت کی دعا کی ہے ۴؎تو وہ انہیں شریک کرلیتے تھے بہت دفعہ پورا اونٹ ویسے کا ویسا ہی نفع میں پالیتے تھے ۵؎جسے وہ اپنے گھر بھیج دیتے تھے اور حضرت عبداللّٰهابن ہشام کو ان کی ماں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں لے گئی تھیں حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا اور ان کے لیے دعائے برکت کی تھی ۶؎(بخاری)
عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ: أَنَّهٗ كَانَ يَخْرُجُ بِهٖ جَدُّهٗ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ هِشَامٍ إِلٰى السُّوقِ فَيَشْتَرِيَ الطَّعَامَ فَيَلْقَاهُ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ الزُّبَيْرِ فَيَقُولَانِ لَهٗ: أَشْرِكْنَا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَعَا لَكَ بِالبَرَكَةِ فَيُشْرِكُهُمْ فَرُبَّمَا أَصَابَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْمَنْزِلِ وَكَانَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ هِشَامٍ ذَهَبَتْ بِهٖ أُمُّهٗ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ رَأْسَهٗ وَدَعَا لَهٗ بِالْبَرَكَةِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2930 ، باب:شرکت اور وکالت کا باب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ انصار نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا کہ ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے درمیان کھجوروں کے درخت تقسیم فرمادیں ۱؎فرمایا نہیں بلکہ تم ہماری طرف سے قیمت کرو اور پھلوں میں ہم تمہارے شریک ہیں ۲؎وہ بولے ہم نے سن لیا اطاعت کریں گے ۳؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْسِمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا النَّخِيلَ، قَالَ: "لَا، تَكْفُونَنَا الْمَؤُونَةَ وَنُشْرِككُمْ فِي الثَّمَرَةِ". قَالُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2931 ، باب:شرکت اور وکالت کا باب
روایت ہے حضرت عروہ ابن ابی الجعد بارقی سے ۱؎کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انہیں ایک اشرفی دی تاکہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے لیے وہ بکری خریدیں انہوں نے حضور کے لیے دو بکریاں خرید لیں پھر ایک بکری ایک اشرفی سے بیچ دی ۲؎اور آپ کی خدمت میں بکری اور اشرفی لائے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان کی تجارت میں برکت کی دعا فرمائی۳؎پھر اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں بھی نفع کمالیتے تھے۴؎(بخاری)
وَعَن عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ دِينَارًا لِيَشْتَرِيَ بِهٖ شَاةً فَاشْتَرٰى لَهٗ شَاتَيْنِ، فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ، وَأَتَاهُ بِشَاةٍ وَدِينَارٍفَدَعَا لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِهٖ بِالبَرَكَةِ فَكَانَ لَوِ اشْتَرٰى تُرَابًا لَرَبِحَ فِيهِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2932 ، باب:شرکت اور وکالت کا باب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ اسے مرفوع فرما کر فرماتے ہیں کہ رب تعالٰی فرماتا ہے میں دو شریکوں کا تیسرا ہوتا ہوں جب تک کہ ان میں کا ایک اپنے ساتھی سے خیانت نہ کرے ۱؎جب خیانت کرتا ہے تو ان کے درمیان سے میں نکل جاتا ہوں ۲؎(ابوداؤد) رزین نے یہ اوربڑھایا کہ شیطان آجاتا ہے ۳؎
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَفَعَهٗ قَالَ: " إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: أَنَا ثَالِثُ الشَّرِيكَيْنِ مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَاصَاحِبَهٗ فَإِذَا خَانَهٗ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَزَادَ رَزِيْنٌ: « وَجَاءَ الشَّيْطَانُ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2933 ، باب:شرکت اور وکالت کا باب
روایت ہے ان ہی سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ حضور نے فرمایا کہ جو تم سے امانتداری کرے اس کی امانت ادا کرو ۱؎اور جو تم سے خیانت کرے اس سے تم خیانت نہ کرو ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،دارمی)۳؎
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أدِّ الْأَمَانَةَ إِلٰى مَنِ ائْتَمَنَكَ وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2934 ، باب:شرکت اور وکالت کا باب
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نے خیبر جانے کا ارادہ کیا تو میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو سلام کیا اور عرض کیا کہ میں خیبر جانے کا ارادہ کررہا ہوں ۱؎فرمایا جب تم ہمارے وکیل کے پاس جاؤ تو ان سے پندرہ وسق لے لینا ۲؎پھر اگر تم سے کوئی نشانی مانگیں تو ان کے گلے پر ہاتھ رکھ دینا ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلٰى خَيْبَرَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلٰى خَيْبَرَ فَقَالَ: «إِذَا أَتَيْتَ وَكِيلِي فَخُذْ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَسْقًا فَإِنِ ابْتَغَى مِنْكَ آيَةً فَضَعْ يَدَكَ عَلَى تَرْقُوَتِهٖ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2935 ، باب:شرکت اور وکالت کا باب
روایت ہے حضرت صہیب سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ تین چیزوں میں برکت ہے ۲؎ادھار بیچنا، قرض دینا اور گیہوں جو سے ملانا ۳؎مگر گھر کے لیے نہ کہ تجارت کے لیے ۴؎(ابن ماجہ)
عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ فِيهِنَّ الْبَرَكَةُ: الْبَيْعُ إِلٰى أَجَلٍ وَالْمُقَارَضَةُواِخْلَاطُ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ لِلْبَيْتِ لَا لِلْبَيْعِ ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2936 ، باب:شرکت اور وکالت کا باب
روایت ہے حضرت حکیم ابن حزام سے ۱؎کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان کے ہاتھ ایک اشرفی بھیجی تاکہ آپ کے لیے قربانی خرید لیں انہوں نے ایک اشرفی سے مینڈھا خریدا اور اسے دو دینار میں بیچ دیا ۲؎پھر واپس بازار آئے اور ایک اشرفی سے قربانی خریدلی پھر حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے پاس قربانی اور دوسری قربانی سے بچی ہوئی اشرفی لائے تو رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اشرفی تو خیرات کردی ۳؎اور انہیں دعا دی کہ ان کی تجارت میں ہمیشہ برکت ہو ۴؎(ترمذی،ابوداؤد)
وَعَنْ حَكِيم بْنِ حِزَامٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهٗ بِدِينَارٍ لِيَشْتَرِيَ لَهٗ بِهٖ أُضْحِيَّةً فَاشْتَرٰى كَبْشًا بِدِينَارٍ وَبَاعَهٗ بِدِينَارَيْنِ فَرَجَعَ فَاشْتَرٰى أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ فَجَاءَ بِهَا وَبِالدِّينَارِ الَّذِي اسْتَفْضَلَ من الْأُخْرٰى فَتَصَدَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدِّينَارِ فَدَعَا لَهٗ أَنْ يُبَارَكَ لَهٗ فِي تِجَارَتِهٖ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2937 ، باب:شرکت اور وکالت کا باب