- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
باب: پائی ہوئی چیز کا باب
تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت زید ابن خالد سے ۱؎فرماتے ہیں ایک شخص رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا فرمایا اس کے برتن اس کے بندھن کا اعلان کرو ۲؎پھر ایک سال تک مشہور کرتے رہو۳؎پھر اگر اس کا مالک آجائے فبہا ورنہ تم اس سے نفع لو عرض کیا۴؎گمی ہوئی بکری فرمایا وہ یا تیری ہے یا تیرے بھائی کی یا بھیڑیے کی ۵؎عرض کیا گما ہوا اونٹ فرمایا تمہیں اس سے کیا اس کے ساتھ اس کی مشک اس کا بچاؤ ہےپانی پر جائے گا درخت کھائے گا حتی کہ اسے مالک پالے گا ۶؎( مسلم، بخاری)مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ فرمایا اسے مشہور کرو ایک سال پھر اس کا بندھن اس کا برتن مشہور کرو پھر اس کو خود خرچ کرلو ۷؎پھر اگر اس کا مالک آئے تو اسے ادا کردو ۸؎
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهٗ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ: «اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنُكَ بِهَا» . قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: «هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ» قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِل؟ قَالَ: «مَالك وَلَهَا؟ مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتّٰى يَلْقَاهَا رَبُّهَا» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ). وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: فَقَالَ: «عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اَعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا فَإِنْ جَاءَ رَبهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3033 ، باب: پائی ہوئی چیز کا باب
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو گمی چیز کو اپنے پاس جگہ دے ۱؎وہ گمراہ ہے جب تک کہ اس کا اعلان نہ کرے ۲؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ آوَى ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3034 ، باب: پائی ہوئی چیز کا باب
روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن عثمان تیمی سے ۱؎کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حاجیوں کے لقطہ سے منع فرمایا ۲؎(مسلم)
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيَمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ لُقْطَةِ الْحَاجِّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3035 ، باب: پائی ہوئی چیز کا باب
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے ۱؎وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے وہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ سے لٹکے ہوئے پھل کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا جو ضرورت مند ان میں سے کچھ لے لے کہ اسے ذخیرہ نہ کرے تو اس پر حرج نہیں ۲؎اور جو ان میں سے کچھ لے کر نکل جائے اس پر ڈبل تاوان بھی ہے اور سزا بھی ۳؎اور جو ان میں سے خرمن میں پہنچنے کے بعد چرالے پھر وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے تواس پر ہاتھ کٹنا ہے ۴؎اور گمے ہوئے اونٹ اور بکری کے بارے میں وہ ہی ذکر کیا جو دوسروں نے بیان کیا ۵؎اور آپ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا جو آباد راستہ اور بڑی بستی میں ملے تو ایک سال تک اس کا اعلان کرو ۶؎اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دو اور اگر نہ آئے تو وہ تمہاری ہے ۷؎اور جو پرانے ویرانے میں ہو تو اس میں اور دفینہ میں پانچواں حصہ ہے ۸؎(نسائی)اور ابوداؤد نے انہی عمرو ابن شعیب سے روایت یہاں سے آخر تک کیوسئل عن اللقطۃ۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ فَقَالَ: «مَنْ أَصَابَ مِنْهُ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ وَمَنْ سَرَقَ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَهُ الْجَرِينُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمَجِنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ» وَذَكَرَ فِي ضَالَّة الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ كَمَا ذَكَرَ غَيْرُهٗ قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ: «مَا كَانَ مِنْهَا فِي الطَّرِيقِ الْمِيتَاءِ وَالْقَرْيَةِ الْجَامِعَةِ فَعَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَأْتِ فَهُوَ لَكَ وَمَا كَانَ فِي الْخَرَابِ الْعَادِيِّ فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَرَوٰى أَبُوْ دَاوُدَ عَنْهُ مِنْ قَوْله: وَسُئِلَ عَنِ اللُّقْطَةِ إِلَى آخِرِهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3036 ، باب: پائی ہوئی چیز کا باب
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ جناب علی ابن ابی طالب نے ایک اشرفی پڑی پائی تو اسے حضرت فاطمہ کے پاس لائے پھر اس کے متعلق رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پوچھا تو رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا یہاللّٰهکا دیا رزق ہے ۱؎چنانچہ اس میں سے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بھی کھایا اور حضرت علی و فاطمہ زہرا نے بھی کھایا ۲؎پھر جب کچھ عرصہ گزرا تو ایک عورت اشرفی ڈھونڈتی آئی تب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا اے علی اشرفی ادا کردو ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللّٰه عَنْهُ وَجَدَ دِينَارًا فَأَتٰى بِهٖ فَاطِمَةَ فَسَأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هٰذَا رِزْقُ اللّٰهِ» فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذٰلِكَ أَتَتِ امْرَأَةٌ تَنْشُدُ الدِّينَارَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ أَدِّ الدِّينَارَ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3037 ، باب: پائی ہوئی چیز کا باب
روایت ہے حضرت جارود سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کی چنگاری ہے ۲؎(دارمی )۳؎
وَعَنِ الْجَارُودِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3038 ، باب: پائی ہوئی چیز کا باب
روایت ہے حضرت عیاض ابن حمار سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو پڑی چیز پائے تو ایک یا دو عادلوں کو گواہ بنائے ۲؎نہ اسے چھپائے نہ غائب کرے ۳؎پھر اگر اس کا مالک ملے تو اسے لوٹا دے ورنہ وہاللّٰهکا مال ہے جسے چاہے دے ۴؎(احمد) (ابوداؤد،دارمی)
وَعَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوَيْ عَدْلٍ وَلَا يَكْتُمْ وَلَا يُغَيِّبْ فَإِنْ وَجَدَ صَاحِبَهَا فَلْيَرُدَّهَا عَلَيْهِ وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللّٰهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3039 ، باب: پائی ہوئی چیز کا باب
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ہم کو لاٹھی،کوڑا،رسی اور ان جیسی چیزوں میں اجازت دی کہ کوئی پڑی ہوئی اٹھالے اس سے نفع اٹھائے ۱؎(ابو داؤد)اور حضرت مقدام ابن معدیکرب کی حدیث کہالا لا یحل باب الاعتصاممیں ذکر کردی گئی ہے۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَصَا وَالسَّوْطِ وَالْحَبْلِ وَأَشْبَاهِهٖ يَلْتَقِطُهٗ الرَّجُلُ يَنْتَفِعُ بِهٖ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَذُكِرَ حَدِيثُ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ: "أَلا لَا يَحِلُّ" فِي "بَابِ الِاعْتِصَامِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3040 ، باب: پائی ہوئی چیز کا باب