- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
باب: معاملہ میں نرمی کرنا
تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اللّٰه اس شخص پر رحمتیں کرے جو نرم ہو جب بیچے اور خریدے اور جب تقاضا کرے ۱؎(بخاری)
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:رَحِمَ اللّٰهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ وَإِذَا اشْتَرٰى وَإِذَا اقْتَضٰى رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2790 ، باب: معاملہ میں نرمی کرنا
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے تم سے اگلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قبض کرنے فرشتہ آیا تو اس سے کہا گیا ۱؎کہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے وہ بولا میں نہیں جانتا اس سے کہا گیا غور تو کر ۲؎بولا اس کے سوا کچھ اور نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو معافی ۳؎چنانچہاللّٰهنے اسے جنت میں داخل فرمادیا ۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ رَجُلًا كَانَ فِيمَنْ قَبْلَكُمْ أَتَاهُ الْمَلَكُ لِيَقْبِضَ رُوحَهٗ فَقيل لَهٗ: هَلْ عَمِلْتَ مِنْ خَيْرٍ؟ قَالَ: مَا أَعْلَمُ. قِيلَ لَهٗ انْظُرْ قَالَ: مَا أَعْلَمُ شَيْئًا غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا وَأُجَازِيهِمْ فَأُنْظِرُ الْمُوسِرَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ فَأَدْخَلَهُ اللّٰهُ الْجَنَّةَ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2791 ، باب: معاملہ میں نرمی کرنا
اور مسلم کی روایت اسی طرح ہے عقبہ ابن عامر اور ابو مسعود انصاری سے پھر رب نے فرمایا کہ میں اس مہربانی کا تجھ سے زیادہ حقدار ہوں میرے بندے سے در گزر کرو
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ نَحْوَهٗ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَأَبِي مَسْعُودٍالْأَنْصَارِيِّ«فَقَالَ اللّٰهُ أَنَا أَحَقُّ بِذَا مِنْكَ، تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2792 ، باب: معاملہ میں نرمی کرنا
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ بیوپار میں زیادہ قسم کھانے سے بچو ۱؎کہ قسم مال تو بکوادیتی ہے پھر برکت مٹا دیتی ہے ۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلَفِ فِي الْبَيْعِ فَإِنَّهٗ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ».رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2793 ، باب: معاملہ میں نرمی کرنا
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ قسم سامان بکوانے والی ہے برکت مٹانے والی ہے ۱؎(بخاری،مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ، مَمْحَقَةٌ لِلْبَرَكَةِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2794 ، باب: معاملہ میں نرمی کرنا
روایت ہے حضرت ابوذر سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا تین شخص وہ ہیں جن سےاللّٰهتعالٰی قیامت کے دن نہ تو کلام کرے گا نہ نظر رحمت اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا ۱؎اور ان کے لیے دردناک عذاب ہیں ابوذر نے عرض کیا وہ تو ٹوٹے اور خسارہ ہی پڑ گئے یارسولاللّٰهوہ کون ہیں فرمایا تہبند لٹکانے والا،احسان جتانے والا اور جھوٹی قسم سے مال بیچنے والا ۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» . قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَابُوا وَخَسِرُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانٌ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهٗ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2795 ، باب: معاملہ میں نرمی کرنا
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سچا اور امانت دار بیوپاری ۱؎پیغمبروں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۲؎(ترمذی دارمی،دارقطنی)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ والصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2796 ، باب: معاملہ میں نرمی کرنا
اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر سے روایت کی ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَه عَنِ ابْنِ عُمَرَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2797 ، باب: معاملہ میں نرمی کرنا
روایت ہے حضرت قیس ابن ابی غرزہ سے فرماتے ہیں کہ زمانہ نبوی صلی اللّٰہ علیہ و سلم میں ہم کو سوداگر کہا جاتا تھا ۱؎ہم پر رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم گزرے اس سے بہتر ہمارا نام رکھا گیا ۲؎فرمایا اے تاجروں کے گروہ تجارت میں بے ہودگی اور جھوٹی قسمیں آجاتی ہیں لہذا اسے خیرات سے مخلوط کردو۳؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی، ابن ماجہ)
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ قَالَ: كُنَّا نُسَمَّى فِي عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَاسِرَةَ فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2798 ، باب: معاملہ میں نرمی کرنا
روایت ہے حضرت عبید ابن رفاعہ سے وہ اپنے والد سے راوی وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا قیامت کے دن بیوپاری بدکار اٹھائیں جائیں گے بجز ان کے جو پرہیزگاری بھلائی کریں سچ بولیں ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)
وَعَنْ عُبَيدِ بْنِ رفَاعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «التُّجَّارُ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا إِلَّا مَنِ اتَّقٰى وَبَرَّ وَصَدَقَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2799 ، باب: معاملہ میں نرمی کرنا
اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت براء سے روایت کی اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے۔
وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. عَنِ الْبَرَاءِ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2800 ، باب: معاملہ میں نرمی کرنا