- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- روزے کا بیان
- باب:مختلف مضامین کابیان
باب:مختلف مضامین کابیان
روزے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے ہم نے عرض کیا نہیں ۱؎فرمایا تو اچھا ہمارا روزہ ہے ۲؎پھر دوسرے اور دن تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں حیس ہدیۃ آیا ہے ۳؎فرمایا مجھے دکھاؤ میں نے تو آج روزہ دار ہو کر صبح کی تھی پھر آپ نے کھالیا ۴؎(مسلم)
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: "هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ " فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: "فَإِنِّي إِذًا صَائِمٌ". ثُمَّ أَتَانَا يَوْمًا آخَرَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ،فَقَالَ: "أَرِينِيهِ فَلَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا" فَأَكَلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2076 ، باب:مختلف مضامین کابیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم کے ہاں تشریف لائے ۱؎تو وہ حضور کی خدمت میں چھوارے و گھی لائیں ۲؎حضور نے فرمایا اپنا گھی تو مشکیزہ میں لوٹ دو اور اپنے چھوارے اس کے برتن میں ڈال دو میں روزہ دار ہوں ۳؎پھر گھر کے ایک گوشہ میں کھڑے ہوئے تو فرض کے علاوہ نماز پڑھی پھر ام سلیم اور ان کے گھر والوں کے لیے دعا کی ۴؎(بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ، فَقَالَ: "أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ، وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ، فَإِنِّي صَائِمٌ". ثُمَّ قَامَ إِلَى ناحِيةٍ مِنَ الْبَيْتِ فَصَلَّى غَيْرَ الْمَكْتُوبَةِ فَدَعَا لأُمِّ سُلَيْمٍ وَأَهْلِ بَيتِهَا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2077 ، باب:مختلف مضامین کابیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے اوروہ ہو روزہ دار تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں ۱؎ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو قبول کرلے پھر اگر روزہ دار ہو تو دعا کردے اور اگر بے روزہ ہو تو کھالے ۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ". وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: "إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجبْ، فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ، وَإِن كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2078 ، باب:مختلف مضامین کابیان
روایت ہے حضرت ام ہانی سے فرماتی ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن ہوا تو حضر ت فاطمہ زہرا آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف بیٹھ گئیں اور ام ہانی حضور کے دائیں طرف تھیں ۱؎تو ایک لونڈی ایک برتن لائی جس میں شربت تھا حضور کو پیش کیا آپ نے اس سے پیا پھر ام ہانی کو دے دیا انہوں نے پیا۲؎پھر بولیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے روزہ توڑ لیا میں تو روزہ دارتھی ۳؎تو فرمایا کیا تم کوئی روزہ قضاءکررہی تھیں بولیں نہیں فرمایا اگر نفلی روزہ تھا تو تمہیں کچھ ضررنہیں ۴؎(ابوداؤد،ترمذی،دارمی)اور احمد و ترمذی کی روایت میں اسی کی مثل ہے اور اس میں یہ ہے کہ آپ بولیں یارسول اللہ میں روزہ دارتھی تو فرمایا نفلی روزہ دار اپنے نفس کا خود مختار ہے اگر چاہے روزہ پورا کرے اگر چاہے افطار کرلے۵؎
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ فَتْح مَكَّةَ، جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَجَلَسَتْ عَلَى يَسَارِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمُّ هَانِئٍ عَنْ يَمِينِهِ، فَجَاءَتِ الْوَلِيدَةُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ، فَنَاوَلَتْهُ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ ناوَلَهُ أُمَّ هَانِئٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ!لَقَدْ أَفْطَرْتُ وَكُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ لَهَا: "أَكُنْتِ تَقْضِينَ شَيْئًا؟ " قَالَتْ: لَا. قَالَ: "فَلَا يَضُرُّكِ إِنْ كَانَ تَطَوُّعًا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ، وَفِي رِوَايَةٍ لأَحْمَدَ وَالتِّرْمِذِيِّ نَحْوُهُ، وَفِيهِ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَمَا إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً فَقَالَ: "الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِيرُ نَفْسِهِ، إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2079 ، باب:مختلف مضامین کابیان
روایت ہے حضرت زہری سے وہ عروہ سے وہ عائشہ صدیقہ سے راوی فرماتی ہیں کہ میں اور حفصہ دونوں روزہ دارتھیں ۱؎اور ہمارے سامنے وہ کھانا آیا جس کی ہمیں رغبت تھی ہم نے اس میں سے کھالیا حضرت حفصہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم دونوں روزہ دارتھیں ہمارے سامنے مرغوب کھانا آیا تو ہم نے اس سے کھالیا ۲؎سرکار نے فرمایا اس کی جگہ ایک دن کی قضا کرو۳؎ترمذی حافظین کی ایک جماعت نے اسے زہری سے انہوں نے حضرت عائشہ سے مرسلًا روایت کیا ۴؎اور اس میں عروہ کا ذکر نہ کیا یہ ہی صحیح تر ہے اور روایت کیا ابوداؤد نے اسے عروہ کے مولے زمیل سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ۵؎
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ، فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّا كُنَّا صَائِمَتَيْنِ، فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ، فَأَكَلَنَا مِنْهُ قَالَ: "اقْضِيَا يَوْمًا آخَرَ مَكَانَهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَذَكَرَ جَمَاعَةً مِنَ الْحُفَّاظِ رَوَوْا عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَائِشَةَ مُرْسَلًا، وَلَمْ يَذْكرُوا فِيهِ عَن عُرْوَةَ، وَهٰذَا أَصَحُّ. وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ زُمَيْلٍ مَوْلَى عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2080 ، باب:مختلف مضامین کابیان
روایت ہے حضرت ام عمارہ بنت کعب سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے حضور کے لیے کھانا منگایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم بھی کھاؤ بولیں میں روزہ دار ہوں ۲؎پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب روزہ دار کے پاس کچھ کھایاجائے تو اسے فرشتے دعائیں دیتے ہیں جب تک کہ وہ فارغ ہوں ۳؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)
وَعَنْ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ: أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَتْ لَهٗ بِطَعَامٍ، فَقَالَ لَهَا: "كُلِي"، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَة، فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ الصَّائِمَ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَفْرَغُوا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2081 ، باب:مختلف مضامین کابیان
روایت ہے حضرت بریدہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت بلال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ حضور ناشتہ کررہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بلال ناشتہ کرلو عرض کیا یارسول اللہ میں روزہ دار ہوں ۲؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم اپنی روزی کھارہے ہیں اور بلال کی بہتر روزی جنت میں ہے ۳؎ا ے بلال کیا تمہیں خبر ہے کہ جب تک روزے دار کے سامنے کچھ کھایا جائے تب تک اس کی ہڈیاں تسبیح کرتی ہیں اسے فرشتے دعائیں دیتے ہیں ۴؎(بیہقی شعب الایمان)
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: دَخَلَ بِلَالٌ عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الْغَدَاءَ يَا بِلَالُ". قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ يَا رَسُولَ اللّٰهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "نَأْكُلُ رِزْقَنَا، وَفَضْلُ رِزْقِ بِلَالٍ فِي الْجَنَّةِ، أَشْعَرْتَ يَا بِلَالُ أَن الصَّائِم يُسَبِّحُ عِظَامُهُ، وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ المَلَائِكَةُ مَا أُكِلَ عِنْدَهُ؟ ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2082 ، باب:مختلف مضامین کابیان