باب :چاند دیکھنا

روزے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ روزہ نہ رکھو حتی کہ رمضان کا چاند دیکھ لو اور افطار نہ کرو حتی کہ چاند دیکھ لو ۱؎اگر تم پر ابر کی وجہ سے چاند چھپ جائے تو مہینہ کا اندازہ لگا لو۲؎اور ایک روایت میں ہے کہ مہینہ انتیس راتوں کا ہے تو روزہ نہ رکھو حتی کہ چاند دیکھ لو ۳؎پھر اگر تم پر چاند مشتبہ ہوجائے تو تیس دن کی گنتی پوری کرلو ۴؎(مسلم،بخاری)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلَالَ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ" وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: "الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1969 ، باب :چاند دیکھنا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطارکرو ۱؎پھر اگر چاند تم پر مشتبہ ہوجائے تو شعبان تیس دن کا شمار کرو۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "صُومُوا لِرُؤيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُم فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1970 ، باب :چاند دیکھنا

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگ بے پڑھی جماعت ہیں نہ لکھیں نہ حساب لگائیں ۱؎مہینہ یا تو اتنا اتنا اور اتنا ہے تیسری بار میں انگوٹھا شریف بند کرلیا پھر فرمایا کہ مہینہ اتنا اتنا اور اتنا یعنی پورے تیس دن کا یعنی انتیس کا اور کبھی تیس کا ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ، الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا" وَعَقَدَ الإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ. ثُمَّ قَالَ: "الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا". يَعْنِي تَمَامَ الثَّلَاثِينَ، يَعْنِي مَرَّةً تِسْعًا وَعِشْرِينَ، وَمرَّة ثَلَاثِينَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1971 ، باب :چاند دیکھنا

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دو مہینہ ۱؎کبھی کم نہیں ہوتے رمضان اور بقرعید ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ: رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1972 ، باب :چاند دیکھنا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی رمضان سے پہلے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھے ۱؎مگر ہاں جو کوئی روزہ رکھتا ہو تو وہ اس دن روزہ رکھے۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ،إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْ ذٰلِكَ الْيَوْمَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1973 ، باب :چاند دیکھنا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب ماہ شعبان آدھا گزر جائے تو روزہ نہ رکھو ۱؎(ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلَا تَصُومُوا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1974 ، باب :چاند دیکھنا

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے لیے شعبان کے چاند کا حساب رکھو ۱؎(ترمذی)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَحْصُوا هِلَالَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1975 ، باب :چاند دیکھنا

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو متواتر دو ماہ روزے رکھتے نہ دیکھا سوائے شعبان و رمضان کے ۱؎(ابوداؤد ترمذی،نسائی ابن ماجہ)

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1976 ، باب :چاند دیکھنا

روایت ہے حضرت عمار ابن یاسر سے فرماتے ہیں جو شک کے دن روزہ رکھے اس نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۱؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)۲؎

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: "مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَقَدَ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1977 ، باب :چاند دیکھنا

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں ایک بدوی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر بولا کہ میں نے چاند دیکھا ہے یعنی رمضان کا چاند ۱؎حضور نے فرمایا کیا تو یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں بولا ہاں فرمایا کیا یہ بھی گواہی دیتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلمکے رسول ہیں بولا ہاں۲؎فرمایا اے بلال لوگوں میں اعلان کردو کہ کل روزہ رکھیں ۳؎(ابو داؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ -يَعْنِي هِلَالَ رَمَضَانَ- فَقَالَ: "أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ؟ " قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ؟ " قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "يَا بِلَالُ أَذِّنْ فِي النَّاسِ أَن يَصُومُوا غَدًا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1978 ، باب :چاند دیکھنا

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی میں نے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کو خبردی کہ میں نے چاند دیکھ لیا حضور نے خود روزہ رکھا اور لوگوں کو روزے کا حکم دیا ۱؎(ابوداؤد،دارمی)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلَالَ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنِّي رَأَيْتُهُ، فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1979 ، باب :چاند دیکھنا

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کی اتنی نگرانی فرماتے تھے جتنی دوسرے مہینہ کی نہ کرتے تھے ۱؎پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے تھے پھر اگر مشتبہ ہو جاتا ۲؎تو تیس دن پورے کرتے پھر روزہ رکھتے۔ (ابوداؤد)

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَتَحَفَّظُ مِنْ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ. ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ثُمَّ صَامَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1980 ، باب :چاند دیکھنا

روایت ہے حضرتابوالبختریسے ۱؎فرماتے ہیں ہم عمرہ کے لیے روانہ ہوئے جب بطن نخلہ میں اترے ۲؎تو ہم چاند دیکھنے جمع ہوئے ۳؎بعض قوم نے کہا کہ یہ تیسری رات کا ہے اور بعض نے کہا دوسری رات کا ہے ۴؎پھر حضرت ابن عباس سے ملے ہم نے عرض کیا کہ ہم نے چاند دیکھا ہے تو بعض نے کہاہےتیسری رات کا ہے اور بعض نے کہا دوسری رات کا ہے تو آپ نے فرمایا تم نے کس رات دیکھا ۵؎ہم نے عرض کیا فلاں رات ۶؎تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی مدت دیکھنے تک کی رکھی لہذا وہ اسی رات کا ہے جب تم نے دیکھا ۷؎انہی سے ایک روایت ہے کہ ہم نے رمضان کا چاند دیکھا جب ہم ذات عرق میں تھے ۸؎تو ہم نے حضرت ابن عباس کے پاس ایک شخص مسئلہ پوچھنے بھیجا حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے چاند کی مدت دیکھنے تک رکھی تو اگر تم پر مشتبہ ہوجائے تو تیس دن کی گنتی پوری کرو ۹؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ تَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ، فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْنَا: إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلَالَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ، فَقَالَ: أَيَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ؟ قُلْنَا: لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ:إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ فَهُوَ لِلَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: قَالَ: أَهَلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهٗ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ تَعَالَى قَدْ أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1981 ، باب :چاند دیکھنا