باب : جگہ کا بیان

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عباس سے فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ میمونہ کے گھر میں رات گزاری ۱؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نماز کے لیے اٹھے میں آپ کے بائیں کھڑا ہوگیا تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنی پیٹھ کے پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اسی طرح پیٹھ کے پیچھے سے دائیں طرف گھمالیا ۲؎(مسلم،بخاری)

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بِتُّ فِي بَيتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهٖ فَأَخَذَ بِيَدِي مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهٖ فَعَدَلَنِي كَذٰلِكَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ اِلَى الشِّقِّ الْأَيْمَنِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1106 ، باب : جگہ کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے پھر میں آیا حتی کہ آپ کی بائیں طر ف کھڑا ہوگیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھمایا یہاں تک کہ اپنے دائیں مجھے کھڑا کرلیا پھر جبار ابن صخر آئے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کے بائیں کھڑے ہوگئے تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے ہم دونوں کا ہاتھ پکڑا اور ہمیں پیچھے کیا حتی کہ ہمیں اپنے پیچھے کھڑا کرلیا ۱؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ فَجِئْتُ حَتّٰى قُمْتُ عَنْ يَسَارِهٖ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتّٰى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينه ثُمَّ جَاءَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ فَقَامَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدَيْنَا جَمِيعًا فَدَفَعَنَا حَتّٰى أَقَمْنَا خَلْفَه. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1107 ، باب : جگہ کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ میں نے اور ایک یتیم نے اپنے گھر میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور ام سلیم ہمارے پیچھے تھیں ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ فِي بَيْتِنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1108 ، باب : جگہ کا بیان

روایت ہے انہی سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے انہیں اور ان کی ماں یا خالہ کو نماز پڑھائی فرماتے ہیں تو مجھے اپنے دائیں کھڑا کیا اور عورت کو ہمارے پیچھے ۱؎(مسلم)

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى بِهٖ وَبِأُمِّهٖ أَوْ خَالَتِهٖ قَالَ: فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهٖ وَأَقَامَ الْمَرْأَةَ خَلْفَنَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1109 ، باب : جگہ کا بیان

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے کہ وہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم تک پہنچے حالانکہ آپ رکوع میں تھے تو انہوں نے صف تک پہنچنے سے پہلے رکوع کردیا پھر صف تک چلے ۱؎یہ واقعہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا گیا تو فرمایا الله تمہاری حرص بڑھائے دوبارہ ایسا نہ کرنا ۲؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهٗ اِنْتَهَى الَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِعٌ فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى الَى الصَّفِّ. فَذَكَرَ ذٰلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «زَادَكَ اللهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1110 ، باب : جگہ کا بیان

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جب ہم تین ہوں تو ہم میں سے ایک آگے بڑھ جائے ۱؎(ترمذی)

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنَّا ثَلَاثَةً أَنْ يَتَقَدَّمَنَا أَحَدُنَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1111 ، باب : جگہ کا بیان

روایت ہے حضرت عمار سے کہ انہوں نے مدائن میں لوگوں کی امامت کی ۱؎اور اونچی جگہ پر نماز پڑھانے کھڑ ے ہوگئے لوگ ان سے نیچے تھے ۲؎حضر ت حذیفہ آگے بڑھے اور ان کا ہاتھ پکڑ لیا عمار ان کے پیچھے لگ گئے حتی کہ انہیں حذیفہ نے اتار دیا ۳؎جب عمار نماز سے فارغ ہوئے تو ان سے حذیفہ نے کہا کیا تم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا کہ جب کوئی شخص قوم کی امامت کرے تو انکی جگہ سے اونچی جگہ نہ کھڑا ہو یا اس کی مثل،عمار نے کہا کہ اسی لیے تو جب آپ نے میرا ہاتھ پکڑا میں آپ کے پیچھے ہولیا ۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَمَّارِ أَنَّهٗ أَمَّ النَّاسَ بِالْمَدَائِنِ وَقَامَ عَلیٰ دُكَّانٍ يُصَلِّي وَالنَّاسُ أَسْفَلَ مِنْهُ فَتَقَدَّمَ حُذَيْفَةُ فَأَخَذَ عَلیٰ يَدَيْهِ فَاتَّبَعَهٗ عَمَّارٌ حَتّٰى أَنْزَلَهٗ حُذَيْفَةُ فَلَمَّا فَرَغَ عَمَّارٌ مِنْ صَلَاتِهٖ قَالَ لَهٗ حُذَيْفَةُ: أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا أَمَّ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلَا يَقُمْ فِي مَقَامٍ أَرْفَعَ مِنْ مَقَامِهِمْ أَوْ نَحْوَ ذٰلِكَ ؟» فَقَالَ عَمَّارٌ: لِذٰلِكَ اتَّبَعْتُكَ حِينَ أَخَذْتَ عَلیٰ يَدَيَّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1112 ، باب : جگہ کا بیان

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد ساعدی سے ۱؎ان سے پوچھا گیا کہ منبر کس چیز کا تھا،فرمایا جنگل کے جھاؤ کا، اسے فلاں فلانی کے مولے نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لیے بنایا ۲؎اور جب بنایا اور رکھا گیا تو حضور صلی الله علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے قبلہ کو منہ کیا اور تکبیر کہی لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے آپ نے قرأت کی اور رکوع کیا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے رکوع کیا پھر اپنا سر اٹھایا پھر الٹے پاؤں لوٹے پھر زمین پر سجدہ کیا پھر منبر کی طرف لوٹے ۳؎پھر قرأت کی پھر رکوع کیا پھر سر اٹھایا پھر پیچھے لوٹے حتی کہ زمین پر سجدہ کیا یہ بخاری کے لفظ ہیں اور مسلم بخاری میں اس کی مثل ہے اور اس کے آخر میں فرمایا کہ جب فارغ ہوئے تو لوگوں پر متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اے لوگوں میں نے یہ اس لیے کیا تاکہ تم میری اقتداء کرو اور میری نماز کو جان لو ۴؎

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهٗ سُئِلَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ الْمِنْبَرُ؟ فَقَالَ: هُوَ مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ عَمِلَهٗ فُلَانٌ مَوْلٰى فُلَانَةٍ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عُمِلَ وَوُضِعَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَكَبَّرَ وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَهٗ فَقَرَأَ وَرَكَعَ وَرَكَعَ النَّاسُ خَلْفَهٗ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرٰى فَسَجَدَ عَلَی الأَرْضِ ثُمَّ عَادَ إِلَى المِنْبَرِ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرِي حَتّٰى سجد بِالْأَرْضِ. هٰذَا لفظ البُخَارِيّ وَفِي (الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ) نَحْوَهٗ وَقَالَ فِي آخِرِهٖ: فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هٰذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1113 ، باب : جگہ کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنے حجرے میں نماز پڑھی اور لوگ حجرے کے پیچھے آپ کی اقتداء کررہے تھے ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: صَلّٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَتِهٖ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِهٖ مِنْ وَرَاءِ الْحُجْرَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1114 ، باب : جگہ کا بیان

روایت ہے حضرت ابو مالک اشعری سے کہ آپ نے فرمایا کیا میں تمہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں فرمایا نماز کی تکبیر کہی اور مردوں کی صف بنائی ان کے پیچھے بچوں کی صف پھر انہیں نماز پڑھائی پھر حضور صلی الله علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا ۱؎پھر فرمایا نماز اس طرح ہے،عبدالاعلی کہتے ہیں مجھے یہ ہی خیال ہے کہ فرمایا میری امت کی نماز ۲؎(ابوداؤد)

عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: أَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَفَّ الرِّجَالَ وَصَفَّ خَلْفَهُمُ الْغِلْمَانَ ثُمَّ صَلّٰى بِهِمْ فَذَكَرَ صَلَاتَهٗ ثُمَّ قَالَ: «هٰكَذَا صَلَاة» قَالَ عَبْدُ الاعَلیٰ : لَا أَحْسَبُهُ الا قَالَ: أُمَّتِي ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1115 ، باب : جگہ کا بیان

روایت ہے حضر ت قیس ابن عباد سے ۱؎فرماتے ہیں اس حال میں کہ میں مسجد میں پہلی صف میں تھا کہ مجھے پیچھے سے کسی نے کھینچا مجھے ہٹادیا اور میری جگہ خود کھڑا ہوگیا خدا کی قسم مجھے اپنی نماز کی خبر نہ رہی ۲؎جب فارغ ہوئے وہ ابی ابن کعب تھے فرمایا اے جوان الله تمہیں کبھی غمگین نہ کرے یہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا ہم سے عہد ہے کہ آپ سے قریب رہیں ۳؎پھر آپ قبلہ رو ہوئے اور فرمایا رب کعبہ کی قسم حکومتوں والے ہلاک ہوگئے تین بار کہا پھر فرمایا خدا کی قسم ان پر غم نہیں کرتا لیکن غم ان پر کرتا ہوں جنہوں نے انہیں بہکایا میں نے کہا اے ابو یعقوب عقد والوں سے آپ کی کیا مراد ہے فرمایا امیر لوگ ۴؎(نسائی)

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ: بَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ فَجَبَذَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي جَبْذَةً فَنَحَّانِي وَقَامَ مَقَامِي فَوَاللهِ مَا عَقَلْتُ صَلَاتِي. فَلَمَّا انْصَرَفَ إِذَا هُوَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقَالَ: يَا فَتٰى لَا يَسُوءُكَ اللهُ إِنَّ هٰذَا عَهْدٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا أَنْ نَلِيَهٗ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ: هَلَكَ أَهْلُ الْعُقَدِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: وَاللهِ مَا عَلَيْهِمْ آسٰى وَلَكِنْ آسٰى عَلیٰ مَنْ أَضَلُّوا. قُلْتُ يَا أَبَا يَعْقُوبَ مَا تَعْنِي بِأَهْلِ الْعُقَدِ ؟ قَالَ: الْأُمَرَاءُ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1116 ، باب : جگہ کا بیان