باب : گرہن کی نماز

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضورنبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج کو گرہن لگا ۱∞؎تو آپ نے اعلانچی بھیجا کہ نمازتیارہے پھر آپ امام ہوئے تو دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کیئے ۲؎حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس سے دراز رکوع و سجدے کبھی نہ کیئے ۳؎(مسلم،بخاری)

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ الشَّمْسَ خُسِفَتْ عَلیٰ عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ مُنَادِيًا: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَتَقَدَّمَ فَصَلّٰى أَرْبَعَ رَكْعَاتٍ وَفِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجدَاتٍ. قَالَت عَائِشَة: مَا رَكَعْتُ رُكُوعًا قَطُّ وَلَا سَجَدْتُ سُجُودًا قطّ كَانَ أَطْوَلُ مِنْهُ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1480 ، باب : گرہن کی نماز

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے گرہن کی نماز میں اونچی قرأت کی ۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَ عَنْهَا قَالَتْ: جَهَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْخُسُوْفِ بِقِرَاءَتِهٖ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1481 ، باب : گرہن کی نماز

روایت ہےحضرت عبد الله ابن عباس سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گھر گیا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی آپ نے درازقیام کیاسورۂ بقرکی قرأت کے بقدر ۱∞؎پھر دراز رکوع کیا پھر اٹھےتو بہت دراز قومہ کیا جو پہلے قیام سے کچھ کم تھا پھر دراز رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا پھر اٹھے پھر سجدہ کیا پھر قیام کیا تو بہت درازقیام فرمایا جوپہلےقیام سےکم تھا پھر دراز رکوع کیا جوپہلے رکوع سے کم تھا پھرسر اٹھایا تو درازقیام فرمایاجوپہلے قیام سےکم تھا پھر دراز رکوع کیا جوپہلے رکوع سےکم تھا پھر سر اٹھایا پھر سجدہ کیا ۲؎پھر فارغ ہوئے جب کہ سورج صاف ہوچکا تھا۳؎پھر فرمایا کہ سورج چاند الله کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں نہ توکسی کی موت کی وجہ سے گھٹتے ہیں نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے۴؎جب تم یہ دیکھو تو الله کا ذکر کرو ۵؎لوگوں نےعرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی اس جگہ میں کچھ لیا پھر دیکھا کہ آپ پیچھے ہٹے فرمایا میں نے جنت ملاحظہ کی تو اس سے خوشہ لینا چاہا اگر لے لیتا تو تم رہتی دنیا تک کھاتے رہتے ۶؎اورمیں نے آگ دیکھی تو آج کی طرح گھبراہٹ والا منظرکبھی نہ دیکھا میں نے زیادہ دوزخی عورتیں دیکھیں ۷؎لوگوں نے عرض کیا یارسول الله یہ کیوں فرمایاان کے کفر کی وجہ سے عرض کیا گیا کہ کی الله کی کافرہ ہیں فرمایا خاوند کی ناشکری ہیں احسان کی منکرہیں اگر تم ان سے زمانہ بھر تک بھلائی کرو،پھر تمہاری طرف سے کچھ ذرا سی بات دیکھ لیں تو کہیں کہ میں نے تجھ سے کبھی بھلائی نہ دیکھی ۸؎(مسلم، بخاری)

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلیٰ عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ قِرَاءَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقَالَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهٖ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذٰلِكَ فَاذْكُرُوا اللهَ” . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتُ شَيْئاً فِيْ مَقَامِكَ ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتُ؟ قَالَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِنِّي رَأَيْتُ الْجنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهٗ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ منْظرًا قَطُّ أَفْظَعَ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ” . قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ: “بِكُفْرِهِنَّ” . قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللهِ ؟ . قَالَ: " يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَو اِحْسَنْتَ إِلٰى اِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1482 ، باب : گرہن کی نماز

روایت ہےحضرت عائشہ سےحضرت ابن عباس کی مثل ام المؤمنین نے فرمایا کہ پھرسجدہ کیا تو دراز کیا پھر فارغ ہوئے جب کہ آفتاب کھل چکا تھا پھر لوگوں پر خطبہ پڑھ الله کی حمدوثناکی پھرفرمایا کہ سورج اورچاند الله کی نشانیوں میں سے ہیں کسی کی موت و زندگی کی وجہ سے نہیں گہنتے جب تم یہ دیکھو تو الله سے دعا کروتکبیریں کرو نماز پڑھو،خیرات کرو ۱∞؎پھر فرمایا اے محمدمصطفی کی امت رب کی قسم الله سے زیادہ کوئی اس پر غیرت مند نہیں کہ اس کا غلام یا لونڈی زناکرے اے محمدمصطفی کی امت!رب کی قسم اگر تم وہ جانتے جومیں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ نَحْوُ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَالَتْ: ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدِ انْجَلَتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: “إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهٖ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذٰلِكَ فَادْعُوا اللهَ وَكَبِّرُوا وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا” ثُمَّ قَالَ: “يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهٗ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهٗ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1483 ، باب : گرہن کی نماز

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں کہ سورج گھر گیا تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم گھبرائے ہوئے کھڑے ہوئے اس خوف سے کہ قیامت آگئی ۱∞؎مسجدمیں تشریف لائے بہت دراز قیام و رکوع اور سجدے سے نماز پڑھی کہ ایساکرتے میں نے آپ کوکبھی نہ دیکھا۲؎اور فرمایا یہ وہ نشانیاں ہیں جن کو الله بھیجتا ہےکسی کی موت و زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتیں لیکن الله اس سے اپنے بندوں کو ڈراتاہے۳؎تو جب تم ان میں سے کچھ دیکھو الله کے ذکر،دعا و استغفار کی طرف گھبراکر آجاؤ ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا يَخْشٰى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةَ فَأَتَى المَسْجِدَ فَصَلّٰى بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ مَا رَأَيْتُهٗ قَطُّ يَفْعَلُهٗ وَقَالَ: “هٰذِهِ الْآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهٖ وَلَكِنْ يُخَوِّفُ اللهُ بِهَا عِبَادَهٗ فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذٰلِكَ فَافْزَعُوا إِلٰى ذِكْرِهٖ وَدُعَائِهٖ وَاِسْتِغْفَارِهٖ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1484 ، باب : گرہن کی نماز

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں جس دن حضور علیہ السلام کے فرزند ابراہیم نے وفات پائی ۱∞؎سورج گھر گیا تو آپ نے لوگوں کو چھ رکوع اور چار سجدوں میں نماز پڑھائی۔۲؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1485 ، باب : گرہن کی نماز

روایت ہےحضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جب سورج گرہن لگا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے چار سجدوں میں آٹھ رکوع سے نماز پڑھائی ۱∞؎

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ ثَمَانَ رَكْعَاتٍ فِيْ أَرْبَعِ سَجدَاتٍ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1486 ، باب : گرہن کی نماز

اسی طرح حضرت علی سے مروی ہے۔(مسلم)

وَعَنْ عَليّ مثل ذَلِك. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1487 ، باب : گرہن کی نماز

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن سمرہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں میں حضورصلی الله علیہ وسلم کی زندگی شریف میں مدینہ میں تیر اندازی کررہا تھا کہ سورج گرہن ہوگیا میں نےتیر تو پھینک دیئے اورسوچاکہ رب کی قسم میں دیکھوں گا کہ سورج گرہن میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کیا واقعہ پیش آیا۲؎فرماتے ہیں میں وہاں آیا تو حضورنماز میں ہاتھ اٹھائے کھڑے تھے۳؎تو آپ تسبیح،تہلیل وتکبیر اور حمد کہہ رہے تھے دعا مانگ رہے تھےحتی کہ سورج سے گرہن کھل گیا جب گرہن کھل گیا تو آپ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز ادا کی۴؎مسلم نے اپنی صحیحین میں عبدالرحمان بن سمرہ سے روایت کی اسی طرح شرح سنہ میں انہیں سے اور مصابیح کے نسخوں میں حضرت جابر ابن سمرہ سے۵؎

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كُنْتُ أَرْتَمِيْ بِأَسْهُمٍ لِيْ بِالْمَدِيْنَۃِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهَا. فَقُلْتُ: وَاللهِ لَأَنْظُرَنَّ إِلٰى مَا حَدَثَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ. قَالَ: فَأَتَيْتُهٗ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الصَّلَاةِ رَافِعٌ يَدَيْهِ فَجعل يُسَبِّحُ وَيُهَلِّلُ وَيُكَبِّرُ وَيَحْمِدُ وَيَدْعُو حَتّٰى حُسِّرَ عَنْهَا فَلَمَّا حُسِّرَ عَنْهَا قَرَأَ سُورَتَيْنِ وَ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهٖ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَكَذَا فِي شَرْحِ السُّنَّةِ عَنْهُ وَفِي نُسَخِ الْمَصَابِيحِ عَنْ جَابِرِ بن سَمُرَة

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1488 ، باب : گرہن کی نماز

روایت ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے سورج گرہن میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا ۱∞؎(بخاری)

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: لَقَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَاقَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1489 ، باب : گرہن کی نماز

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھائی تو ہم آپ کی آواز نہیں سنتے تھے ۱∞؎(ترمذی،ابوداؤد، نسائی،ابن ماجہ)

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: صَلّٰى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفٍ لَا نَسْمَعُ لَهٗ صَوْتًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1490 ، باب : گرہن کی نماز

روایت ہے حضرت عکرمہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس سے کہا گیا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی فلاں بیوی وفات پاگئیں تو آپ سجدہ میں گر گئے ۱∞؎آپ سے کہا گیا کہ کیا اس گھڑی سجدہ کرتے ہیں تو فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کرو نبی صلی الله علیہ وسلم کی بیویوں کے تشریف لے جانے سے بڑی کون سی نشانی ہے ۲؎(ابوداؤد،ترمذی)

وَعَنْ عِكْرِمَة قَالَ: قِيلَ لِ ابْن عَبَّاسٍ : مَاتَتْ فُلَانَةُ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَّ سَاجِدًا فَقِيلَ لَهٗ تَسْجُدُ فِي هٰذِهِ السَّاعَةِ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا” وَأَيُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذَهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1491 ، باب : گرہن کی نماز

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گھہ گیا تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی طوال کی کوئی سورۃ پڑھی ۱∞؎اور پانچ رکوع کیئے اور دوسجدے پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے توطوال کی کوئی سورت پڑھی پھر پانچ رکوع کیئے اور دو سجدے پھر جیسے تھے ویسے ہی قبلے کو منہ کیے بیٹھے بیٹھے دعا مانگتے رہے حتی کہ اس کاگرہن کھل گیا۲؎(ابوداؤد)

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلیٰ عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فصَلّٰى بهم فَقَرَأَ بِسُورَة مِنَ الطِّوَلِ وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَرَأَ بِسُورَةٍ مِنَ الطِّوَلِ ثُمَّ رَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ كَمَا هُوَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ يَدْعُو حَتّٰى انْجَلٰى كُسُوفُهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1492 ، باب : گرہن کی نماز

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گھہ گیا تو دو دو رکعتیں پڑھتے رہے اورسورج کے بارے میں پوچھتے جاتے تھے حتی کہ سورج کھل گیا ۱∞؎(ابوداؤد)اور نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ جب سورج گہا تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ہماری تمام نمازوں کی طرح نماز پڑھی کہ رکوع اورسجدہ کرتے تھے۲؎اور اس کی دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ایک دن جلدی جلدی مسجد کی طرف آئے سورج گہہ گیا تھا تو نماز پڑھی حتی کہ کھل گیا پھر فرمایا کہ جاہلیت والے کہتے تھے کہ سورج اور چاند زمین کےکسی بڑے آدمی کے مرنے پر گہتے ہیں۳؎حالانکہ سورج چاند نہ کسی کی موت گہیں نہ کسی کی زندگی پر یہ تو خلق الٰہی میں سے دو مخلوق ہیں الله اپنی مخلوق پر جو چاہے حادثہ کرے۴؎لہذا تم نماز پڑھاکروحتی کہ سورج کھل جائے یا الله کوئی واقعہ پیدا کردے ۵؎

وَعَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلیٰ عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَيَسْأَلُ عَنْهَا حَتّٰى انْجَلَتِ الشَّمْسُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةِ النَّسَائِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى حِينَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ مِثْلَ صَلَاتِنَا يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَلَهٗ فِي أُخْرٰى: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا مُسْتَعْجِلًا إِلَى المَسْجِدِ وَقَدِ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلّٰى حَتّٰى انْجَلَتْ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ وَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهٖ وَلَكِنَّهٗ مَا خَلِيقَتَانِ مِنْ خُلْقِهٖ يُحْدِثُ اللهُ فِي خَلْقِهٖ مَا شَاءَ فَأَيُّهُمَا انْخَسَفَ فَصَلُّوا حَتّٰى يَنْجَلِيْ أَوْ يَحْدَثَ اللهٗ أَمْرًا "

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1493 ، باب : گرہن کی نماز