- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب: بھولنے کا بیان
باب: بھولنے کا بیان
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی جب نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اس پر شبہ ڈال دیتا ہے حتی کہ وہ نہیں جانتا کہ کتنی نماز پڑھی ۱؎جب تم میں سے کوئی یہ پائے تو بیٹھے ہوئے دو سجدے کرے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّيْ جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبِسَ عَلَيْهِ حَتّٰى لَايَدْرِيْ كَمْ صَلّٰى فَإِذَا وَجَدَ ذٰلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجَدَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1014 ، باب: بھولنے کا بیان
روایت ہے حضرت عطاء ابن یسار سے وہ حضرت ابوسعید سے راوی ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں شک کرے نہ جانے کہ کتنی پڑھیں تین یا چار تو شک کو دفع کرے اور یقین پر بنا کرے ۲؎پھر سلام سے پہلے دو سجدے کرے ۳؎پھر اگر پانچ پڑھ لی ہوں گی تو اس کی نماز کو شفعہ کردیں گے ۴؎اگر چار رکعت پوری کرنے کو پڑھی تو سجدے شیطان کی ناک گرد آلود کریں گے ۵؎(مسلم)مالک نے عطاء سے ارسالًا روایت کی ان کی روایت میں یوں ہے کہ ان دو سجدوں سے نماز کو شفعہ کرے گا ۶؎
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهٖ فَلَمْ يَدْرِكَمْ صَلّٰى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ وَ لْيُبْنِ عَلیٰ مَا اسْتَيْقَنَ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَإِنْ كَانَ صَلّٰى خَمْسًا شَفَعْنَ لَهٗ صَلَاتَهٗ وَإِنْ كَانَ صَلّٰى إِتْمَامًا لِأَرْبَعٍ كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَرَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ عَطَاءٍ مُرْسَلًا. وَفِي رِوَايَتِهٖ: «شَفَعَهَا بِهَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1015 ، باب: بھولنے کا بیان
روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ظہر پانچ رکعت پڑھ لی آپ سے عرض کیا گیا کیانماز میں زیادتی کی گئی فرمایا کیا بات ہے عرض کیا آپ نے پانچ پڑھ لیں تو آپ نے سلام کے بعد دو سجدے کرلیے ۱؎اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا تم جیسا بشر ہوں تمہاری طرح بھولتا ہوں ۲؎جب میں بھول جایا کروں تو مجھے یاد دلادیا کرو جب تم میں سے کوئی نماز میں شک کرے تو درستی تلاش کرے اسی پر نماز پوری کرے پھر سلام پھیرے پھر دو سجدے کرے ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى الظُّهْرَ خَمْسًا فَقِيلَ لَهٗ : أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا. فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَمَا سَلَّمَ. وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسٰى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهٖ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ لِيُسَلِّمْ ثمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1016 ، باب: بھولنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابن سیرین سے ۱؎وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں کہ ہم کو حضور صلی الله علیہ وسلم نے شام کی دو نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی ۲؎ابن سیرین کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ نے وہ نماز بتائی تھی لیکن میں بھول گیا ۳؎فرماتے ہیں کہ ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا پھر مسجد میں پڑی ہوئی لکڑی کی طرف تشریف لے گئے اور اس پر ٹیک لگائی گویا غصّے میں تھے ۴؎اور اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور اپنی انگلیوں میں انگلیاں ڈالیں اور دایاں رخسار بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھا ۵؎اور قوم کے جلد باز لوگ مسجد کے دروازوں سے یہ کہتے نکلے کہ نماز کم ہوگئی ۶؎اور قوم میں ابوبکر و عمر رضی الله عنہما بھی تھے لیکن انہوں نے کلام کرنے سے خوف کیا ۷؎اور قوم میں ایک صاحب تھے جن کے ہاتھ کچھ لمبے تھے انہیں ہاتھوں والا کہا جاتا تھا۸؎وہ بولے یا رسول الله آپ بھول گئے یا نماز کم ہوگئی فرمایا نہ میں بھولا نہ نماز کم ہوئی پھر فرمایا کہ کیا ایسا ہی ہے جیسا ذوالیدین کہتے ہیں لوگوں نے کہا ہاں ۹؎آپ آگے بڑھ گئے چھوٹی رکعتیں پڑھ لیں پھر سلام پھیرا پھر تکبیر کہی اور سجدوں کے برابر یا کچھ دراز سجدہ کیا پھر اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی پھر تکبیر کہی اور سجدوں کے برابر یا کچھ دراز سجدہ کیا ۱۰؎پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی لوگوں نے ان سے پوچھا کہ پھر سلام بھی پھیرا تو آپ کہنے لگے کہ مجھے خبر ملی کہ عمران ابن حصین نے کہا پھر سلام پھیرا ۱؎(مسلم،بخاری)اور لفظ بخاری کے ہیں اور ان دونوں کی دوسری روایت میں ہے کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے بجائے نہ بھولا اور نہ نماز کم ہوئی یہ فرمایا کہ ان میں سے کچھ نہ ہواذوالیدیننے کہا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم کچھ تو ہوا ہے ۱۲؎
وَعَنِ ابْنِ سِيرِيْنَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: صَلّٰى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدٰى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ - قَالَ ابْنُ سِيرِيْنَ قَدْسَمَّاهَا أَبُو هُرَيْرَةَ وَلَكِنْ نَسِيتُ أَنَا قَالَ فَصَلّٰى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَ إِلٰى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا كَأَنَّهٗ غَضْبَانُ وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنٰى عَلَی اليُسْرٰى وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهٖ وَوَضَعَ خَدَّهُ الْأَيْمَنَ عَلیٰ ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرٰى وَخَرَجَتْ سَرْعَانَ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالُوا قَصُرَتِ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ يُقَالُ لَهٗ ذُو الْيَدَيْنِ قَالَ يَا رَسُول الله أَنَسِيْتَ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ قَالَ: «لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ» فَقَالَ: «أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟» فَقَالُوا: نَعَمْ. فَتَقَدَّمَ فَصَلّٰى مَا تَرَكَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهٖ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ وَكَبَّرَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهٖ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ وَكَبَّرَ فَرُبَّمَا سَأَلُوهُ ثُمَّ سَلَّمَ فَيَقُولُ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ ثمَّ سَلَّمَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَلَفْظُهٗ لِلْبُخَارِيِّ وَفِي أُخْرٰى لَهُمَا : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَلَ «لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ» : «كُلُّ ذٰلِكَ لَمْ يَكُنْ» فَقَالَ: قَدْ كَانَ بَعْضُ ذٰلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1017 ، باب: بھولنے کا بیان
روایت ہے حضرت عبد الله ابن بحینہ سے ۱؎کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کوظہر پڑھائی تو پہلی دو رکعتوں میں بغیر بیٹھے کھڑے ہوگئے لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے ۲؎حتی کہ جب نماز پوری کی اور لوگوں نے سلام کا انتظار کیا تو آپ نے بیٹھے ہوئے تکبیر کہی سلام سے پہلے دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُحَيْنَة: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى بِهِمْ الظُّهْرَ فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ لَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهٗ حَتّٰى إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهٗ كَبَّرَ وَهُوَ جَالِسٌ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1018 ، باب: بھولنے کا بیان
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کو نماز پڑھائی کچھ بھول ہوگئی ۱؎تو دو سجدے کیے پھرالتحیاتپڑھی پھر سلام پھیرا ۔۲؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجدَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1019 ، باب: بھولنے کا بیان
روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب امام دو رکعتوں میں کھڑا ہوجائے تو اگر سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جائے ۱؎اور اگر سیدھا کھڑا ہوگیا تو نہ بیٹھے اور سہو کے دو سجدے کرلے۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا قَامَ الْإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوِيَ قَائِماً فَلْيَجْلِسْ وَإِنِ اسْتَوٰى قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1020 ، باب: بھولنے کا بیان
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عصر پڑھی اور تین رکعتوں میں سلام پھیردیا پھر اپنے گھر تشریف لے گئے ان کی خدمت میں ا یک صاحب حاضر ہوئے جنہیں خرباق کہا جاتا تھا ان کے ہاتھوں میں کچھ درازی تھی عرض کیا یارسول ا للہ پھر آپ کا عمل شریف ذکر کیا تو آپ غصے میں اپنی چادر کھینچتے ہوئے تشریف لائے حتی کہ لوگوں تک پہنچ گئے فرمایا کیا انہوں نے درست کہا لوگوں نے کہا ہاں تو ایک رکعت پڑھی پھر سلام پھیرا پھر دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا ۱؎(مسلم)
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى الْعَصْرَ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهٗ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَكَانَ فِي يَدَيْهِ طُولٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَذَكَرَ لَهٗ صَنِيْعَهٗ فَخَرَجَ غَضْبَانَ يَجُرُّ رِدَاءَهٗ حَتّٰى اِنْتَهَى الَى النَّاسِ فَقَالَ: «أَصَدَقَ هَذَا» . قَالُوا: نَعَمْ. فَصَلّٰى رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1021 ، باب: بھولنے کا بیان
روایت ہے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو نماز پڑھے کہ کمی میں شک کرے تو اور پڑھ لے حتی کہ زیادتی میں شک کرے ۱؎(احمد)
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «مَنْ صَلّٰى صَلَاةً يَشُكُّ فِي النُّقْصَانِ فَلْيُصَلِّ حَتّٰى يَشُكَّ فِي الزِّيَادَة» . رَوَاهُ أَحْمدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1022 ، باب: بھولنے کا بیان