- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- پاکی کی کتاب
- باب : تیمم کا بیان
باب : تیمم کا بیان
پاکی کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہم کو دوسروں لوگوں پر تین چیزوں سے بزرگی دی گئی ۱؎ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح کی گئیں ۲؎ہمارے لیئے ساری زمین مسجد بنادی گئی ۳؎اور جب پانی نہ پائیں تو اس کی مٹی پاک کرنے والی کردی گئی ۴؎(مسلم)
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَجُعِلَتْ لَنَا الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا،وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا إِذَا لَمْ نجِدِ الْمَاءَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 526 ، باب : تیمم کا بیان
روایت ہے حضرت عمران سے فرماتے ہیں کہ ہم حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب نماز سے فارغ ہوئے تو ایک شخص کو دیکھا جو الگ تھا قوم کے ساتھ نماز نہ پڑھی فرمایا اے فلاں تجھے قوم کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس نے روکا ۱؎عرض کیا مجھے جنابت پہنچی اورپانی ہے نہیں تو فرمایا تیرے لیے مٹی ہے۲؎وہ تجھے کافی ہے۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عِمْرَانَ قَالَ: كُنَّا فِيْ سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-فَصَلّٰى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهٖ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: "مَا مَنَعَكَ يَا فلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟ " قَالَ: أَصَابَتْنِيْ جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ، قَالَ: "عَلَيْكَ بِالصَّعِيْدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيْكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 527 ، باب : تیمم کا بیان
روایت ہے حضرت عمار سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر ابن خطاب کی خدمت میں آیا اور وہ بولا کہ میں جنبی ہوجاتاہوں اورپانی پاتانہیں ۱؎تب حضرت عمار نے عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین کیا آپ کو یاد نہیں کہ ہم اورآپ سفر میں تھے آپ نے تو نماز نہ پڑھی اور میں خو ب لوٹا پھرنماز پڑھ لی۲؎پھر میں نے یہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیاتوفرمایاکہ تم کو یہ کافی تھا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں مبارک ہاتھ زمین پر مارے اور ان میں پھونکا۳؎پھر انہیں منہ اور ہاتھ پرپھیر لیا۴؎(بخاری) اورمسلم میں اسی کی مثل ہے اس میں یہ بھی ہے کہ تمہیں یہ کافی تھا کہ اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارتے پھر پھونک لیتے پھر انہیں اپنے منہ اور ہاتھوں پر پھیرلیتے ۵؎
وَعَنْ عَمَّارٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: إِنِّيْ أَجْنَبْتُ فَلَمْ أُصِبِ الْمَاءَ، فَقَالَ عَمَّارٌ لِعُمَرَ: أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِيْ سَفَرٍ أَنَا وَأَنْتَ؟ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فَصَلَّيْتُ، فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لِلنَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: "إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيْكَ هَكَذَا" فَضَرَبَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَفَّيْهِ الأَرْضَ وَنَفَخَ فِيْهِمَا، ثمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهٗ وَكَفَّيْهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ،وَلِمُسْلِمٍ نَحْوُهٗ وَفِيْهِ: قَالَ: "إِنَّمَا يَكْفِيْكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ الأَرْضَ، ثمَّ تَنْفُخَ، ثمَّ تَمْسَحَ بِهَمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 528 ، باب : تیمم کا بیان
روایت ہے حضرت جہیم ابن حارث ابن صمّہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر گزرا جب کہ آپ پیشاب کررہے تھے میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے جواب نہ دیا حتی کہ آپ دیوار کی طرف گئے اسے لاٹھی سے جو آپ کے ساتھ تھی کھرچا ۲؎پھراپنے ہاتھ دیوار پر لگائے پھر اپنے چہرے اور ہاتھوں پرمسح کیا۳؎پھرمیرا جواب دیا۴؎میں نے یہ روایت نہ تو صحیحین میں پائی اور نہ کتاب حمیدی میں لیکن اسے شرح سنہ میں ذکر کیا اورفرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے ۵؎
وَعَنْ أَبِيْ الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَهُوَ يَبُوْلُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتّٰى قَامَ إِلَى جِدَارٍ، فَحَتَّهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعَهُ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى الْجِدَارِفَمَسَحَ وَجْهَهٗ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ. وَلَمْ أَجِدْ هٰذِهِ الرِّوَايَةَ فِيْ "الصَّحِيْحَيْنِ" وَلَا فِيْ "كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ"، وَلَكِنْ ذَكَرَهٗ فِيْ "شَرْحِ السُّنَّةِ" وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 529 ، باب : تیمم کا بیان
روایت ہے ابو ذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پاک مٹی مسلمان کا آب وضو ہے اگرچہ دس سال پانی نہ پائے ۱؎پھر جب پانی پائے تو اس سے اپنا بدن دھوئے کہ یہ یقینًا بہتر ہے۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد)نسائی نے اس کی مثل روایت کی دس سال کے قول تک۔
عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ الصَّعِيْدَ الطَّيِّبَ وَضُوءُ الْمُسْلِم وَإِنْ لَمْ يَجدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِيْنَ،فَإِذَا وَجَدَ المَاءَ فَلْيُمِسَّهُ بَشَرَهٗ، فَإِنَّ ذٰلِكَ خَيْرٌ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ. وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحْوَهٗ إِلٰى قَوْلِهٖ: عَشْرَ سِنِيْنَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 530 ، باب : تیمم کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفرمیں گئے تو ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگ گیا جس نے اس کے سرمیں زخم کردیا پھر اسے احتلام ہوگیا تو اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا تم میرے لیئے تیمم کی اجازت پاتے ہو وہ بولے تیرے لیئے تیمم کی اجازت نہیں پاتے ۱؎تو تَو پانی پر قادر ہے اس نے غسل کرلیا پس مر گیا۲؎جب ہم حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو اس کی خبر دی گئی فرمایا انہیں خداغارت کرے اسے انہوں نے ماردیا۳؎جب جانتے نہ تھے پوچھ کیوں نہ لیا بے علمی کا علاج پوچھ لینا ہے۴؎اسے یہ کافی تھا کہ تیمم کرلیتا اوراپنے زخم پرکپڑا لپیٹ لیتاپھر اس پر ہاتھ پھیرلیتا اورباقی جسم دھو ڈالتا۵؎(ابوداؤد)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجْنَا فِيْ سَفَرٍ، فَأَصَابَ رَجُلًا مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّهٗ فِيْ رَأْسِهٖ فَاحْتَلَمَ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ هَل تَجدُونَ لِيْ رُخْصَةً فِي التَّيَمُّم؟ قَالُوا: مَا نَجِدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِذٰلِكَ ،قَالَ: "قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللّٰهُ، أَلَّا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا، فَإِنَّ شِفَاءَ الْعِيِّ السُّؤَالُ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيْهِ أَن يَتَيَمَّمَ وَيُعَصِّبَ عَلٰى جُرْحِهٖ خِرْقَةً، ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهَا، وَيَغْسِلَ سَائِر جَسَدِهٖ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 531 ، باب : تیمم کا بیان
اور ابن ماجہ نے حضرت عطاء ابن رباح سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَن ابْنِ عَبَّاسٍ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 532 ، باب : تیمم کا بیان
روایت ہے حضر ت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ دوشخص سفرمیں گئے وقت نمازآگیا ان کے ساتھ پانی نہ تھا تو انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کرلیاپھر نمازپڑھ لی پھروقت ہی میں پانی پالیاتو ان میں سے ایک نے وضو سے نمازلوٹائی دوسرے نے نہ لوٹائی ۱؎پھردونوں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے یہ ماجراعرض کیا تو جس نے نماز نہ لوٹائی تھی اس سے فرمایا کہ تو نے سنت پالی اورتیری نماز کافی ہوگئی اورجس نے وضو کرکے لوٹائی تھی اس سے فرمایا کہ تجھے دوہرا ثواب ہے۲؎اسے ابوداؤد،دارمی نے روایت کیانسائی نے اس کی مثل۔
وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجَ رَجُلَانِ فِيْ سَفَرٍ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ، فتيَمَّمَا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَصَلَّيَا، ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ فِي الْوَقْتِ، فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلَاةَ بِوُضُوءٍ وَلَمْ يُعِدِ الآخَرُ، ثُمَّ أَتَيَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَذَكَرَا ذٰلِك لَهٗ، فَقَالَ لِلَّذِيْ لَمْ يُعِدْ: "أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ"، وَقَالَ لِلَّذِيْ تَوَضَّأَ وَأَعَادَ: "لَكَ الأَجْرُ مَرَّتَيْنِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ، وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحْوَهٗ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 533 ، باب : تیمم کا بیان
اور نسائی وابوداؤدنے عطاابن یسارسے مرسلًاروایت کی۔
وَقَدْ رَوٰى هُوَ وَأَبُوْ دَاوُدَ أَيْضًا عَنْ عَطاءِ بْنِ يَسَارٍ مُرْسَلًا.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 534 ، باب : تیمم کا بیان
روایت ہے حضرت ابو الجہیم ابن حارث ابن صمہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہ جمل کی طرف سے تشریف لائے ۱؎تو آپ کو ایک شخص ملا اس نے سلام کیاحضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا حتی کہ آپ ایک دیوار کے پاس تشریف لائے توچہرہ اورہاتھوں کا مسح کیاپھراسے سلام کاجواب دیا۲؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَبِيْ الْجُهَيْم بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ قَالَ: أَقْبَلَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مِنْ نَحْو بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهٗ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- حَتّٰى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَار،فَمَسَحَ بِوَجْهِهٖ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيهِ السَّلامَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 535 ، باب : تیمم کا بیان
روایت ہے حضرت عمار ابن یاسر سے وہ بیان کرتے تھے کہ صحابہ نے پاک مٹی سے نمازفجرکے لیئے تیمم کیا جب کہ وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو انہوں نے مٹی پراپنے ہاتھ پھیرے پھر ایک بار اپنے منہ پر ہاتھ پھیرلیا پھردوبارہ مٹی پر ہاتھ مارے تو اپنی ہتھیلیوں سے پورے ہاتھوں کا کندھوں اور بغلوں تک مسح کیا ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ: أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّهُمْ تَمَسَّحُوا وَهُمْ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِالصَّعِيْدِ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيْدَ، ثُمَّ مَسَحُوا بِوُجُوهِهِمْ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ عَادُوا فَضَرَبُوْا بِأَكُفِّهِمِ الصَّعِيْدَ مَرَّةً أُخْرٰى، فَمَسَحُوْا بِأَيْدِيْهِمْ كُلِّهَا إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالآبَاطِ مِنْ بُطُوْنِ أَيْدِيْهِمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 536 ، باب : تیمم کا بیان