- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- پاکی کی کتاب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
پاکی کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے حضرت شریح ابن ہانی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ابن ابی طالب سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا۲؎فرمایا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیئے تین دن رات اور مقیم کے لیئے ایک دن رات مقرر فرمائی ۳؎(مسلم)
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِيْ طَالِبٍ عَنِ الْمَسْح عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ: جَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيْهُنَّ لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيْمِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 517 ، باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے کہ انہوں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ تبوک میں شرکت کی مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم ایک دن فجرسے پہلے پاخانے گئے میں آپ کے ساتھ ایک برتن لے گیا ۱؎جب واپس آئے تو آپ کے ہاتھ شریف پر برتن سے پانی ڈالنے لگا آپ نے اپنا ہاتھ اورمنہ دھویا۲؎آپ پر اونی جبہ تھا آپ کہنیوں سے چڑھانے لگے لیکن جبے کی آستین تنگ تھی ۳؎تو آپ نے اپنے ہاتھ شریف جبے کہ نیچے سے نکالے اور جبہ اپنے کندھوں پرڈال لیا ۴؎کہنیوں تک ہاتھ دھوئے،پھر پیشانی اورپگڑی پر مسح کیا۵؎پھر میں نے آپ کے موزے اتارنے کا ارادہ کیا فرمایا انہیں رہنے دوکیونکہ میں نے انہیں پاکی پر پہنا ہے۶؎پھر ان پرمسح فرمالیا،پھر آپ سوار ہوئے اور میں بھی ہم قوم تک پہنچے جونماز کے لیئے کھڑے ہوچکے تھے انہیں عبدالرحمان ابن عوف نماز پڑھا رہے تھے ایک رکعت پڑھا چکے تھے ۷؎جب انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگےحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا۸؎حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک رکعت پائی جب انہوں نے سلام پھیرا تو حضور انور کھڑے ہو گئے میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوگیا جو رکعت رہ گئی تھی ہم نے پڑھ لی ۹؎(مسلم)
وَعَنِ الْمُغيْرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ. قَالَ الْمُغِيْرَةُ: فَتَبَرَّزَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قِبَلَ الْغَائِطِ، فَحَمَلْتُ مَعَهُ إِدَاوَةً قَبْلَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا رَجَعَ أَخَذْتُ أُهَرِيْقُ عَلٰى يَدَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهٗ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوتٍ، ذَهَبَ يَحْسِرُ عَن ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمُّ الْجُبَّةِ، فَأَخْرَجَ يَدَهٗ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، وَأَلْقَى الْجُبَّةَ عَلٰى مَنْكِبَيْهِ،وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثُمَّ مَسَحَ بِنَاصِيَتِهٖ وَعَلَى الْعِمَامَةِ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ، فَقَالَ: دَعْهُمَا، فَإِنِّيْ أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ، فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا، ثُمَّ رَكِبَ وَرَكبْتُ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ، وَقَدْ قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ، وَيُصَلِّيْ بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً،فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ، فَأَدْرَكَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ مَعَهٗ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَقُمْتُ مَعَهٗ، فَرَكَعْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِيْ سَبَقَتْنَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 518 ، باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے ۱؎وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضور نے مسافر کو تین دن و رات کو اورمقیم کو ایک دن و رات تک موزوں پر مسح کی اجازت دی جب کہ پاک ہو کر پہنے ہوں ۲؎اثرم نے اپنی سنن میں اور ابن خزیمہ اور دار قطنی نے۔اور خطابی کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے یوں ہی منتقی میں ہے۳؎
عَنْ أَبِيْ بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، وَلِلْمُقِيْمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً، إِذَا تَطَهَّرَ فَلَبِسَ خُفَّيْهِ أَنْ يَمْسَحَ عَلَيْهِمَا. رَوَاهُ الأَثْرَمُ فِيْ "سُنَنِهٖ" وَابْنُ خُزَيْمَةَ وَالدَّارَقُطْنِيُّ، وَقَالَ الْخَطَّابِيُّ: هُوَ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ، هٰكَذَا فِيْ "الْمُنْتَقٰى".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 519 ، باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
روایت ہے حضرت صفوان ابن عسال ۱؎سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم کوحکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر میں ہوں تو تین دن رات موزے نہ اتاریں ۲؎مگر جنابت سے لیکن پاخانہ پیشاب اورنیند سے(موزے نہ اتاریں)۳؎(ترمذی،نسائی)
وَعَنْ صَفْوَانَ ابْنِ عَسَّالٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفْرًا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 520 ، باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے غزوۂ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کووضوکرایا تو آپ نے موزے کے اوپر نیچے مسح فرمایا ۱؎(ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ) ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث معلول ہے اورمیں نے ابوزرعہ اورمحمد یعنی امام بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھاتو ان بزرگوں نے فرمایا کہ صحیح نہیں یوں ہی ابوداؤد نے اسے ضعیف فرمایا۲؎۔
وَعَنِ الْمُغِيْرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: وَضَّأْتُ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِيْ غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَمَسَحَ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيْثٌ مَعْلُولٌ، وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ وَمُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ عَنْ هٰذَا الْحَدِيْثِ فَقَالَا: لَيْسَ بِصَحِيْحٍ. وَكَذَا ضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 521 ، باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ موزوں کے اوپر مسح کرتے تھے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)
وَعَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ عَلٰى ظَاهِرِهِمَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 522 ، باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوکیا اورجرابوں اورپاتابوں پرمسح کیا ۱؎(احمد ,ترمذی ابوداؤد، ابن ماجہ)
وَعَنْهُ قَالَ: تَوَضَّأَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ والْنَّعْلَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 523 ، باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
روایت ہے حضرت مغیرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پرمسح کیا میں نے عرض کیا یارسول الله کیا آپ بھول گئے فرمایا بلکہ تم بھول گئے مجھے میرے رب عزوجل نے اسی کا حکم دیا ۱؎(احمد،ابوداؤد)
عَنِ الْمُغِيْرَةِ قَالَ: مَسَحَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ نَسِيْتَ؟ قَالَ: بَلْ أَنْتَ نَسِيْتَ،بِهَذَا أَمرنِيْ رَبِّيْ عَزَّ وَجَلَّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 524 ، باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں اگر دین رائے سے ہوتا تو موزوں کے نیچے مسح کرنا اوپر مسح کرنے سے بہتر ہوتا میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا کہ آپ موزوں کے اوپر مسح کرتے تھے ۱؎(ابوداؤد)دارمی نے اس کے معنی کی روایت کی۔
وَعَنْ عَليٍّ قَالَ: لَوْ كَانَ الدِّيْنُ بِالرَّأْيِ لَكَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلٰى بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلَاهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلٰى ظَاهِرِ خُفَّيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، والدَّارِمِيُّ مَعْنَاهُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 525 ، باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب