باب : ایمان کا بیان

ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1

روایت ہے عمر ابن خطاب (راضی ہو اللہ ان پر )سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے: کہ اعمال نیّتوں سے ہیں ۲؎ہرشخص کے لئے وُہ ہی ہے جو نیّت کرے ۳؎بس جس کی ہجرت اللہ و رسول کی طرف ہو تو اُس کی ہجرت اللہ ورسول ہی کی طرف ہوگی ۴؎اور جس کی ہجرت دنیاحاصل کرنے یا عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہو ۵؎اس کی ہجرت اس طرف ہوگی جس کے لئے کی ۶؎

عَنْ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَ إِنَّمَا لِإِمْرِئٍ مَا نَوٰى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهٗ إِلَی اللهِ وَ رَسُولِهٖ فَهِجْرَتُهٗ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهٖ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهٗ إِلٰى دُنْيَا يُصِيْبُهَا أَوْإِمْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهٗ إِلٰى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1 ، باب : ایمان کا بیان

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب( رضی اللہ عنہ) سے فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرتھے کہ ایک صاحب ہمارے سامنےنمودارہوئے ۱؎ جن کے کپڑے بہت سفیداور بال خوب کالے تھے۲؎ اُن پر آثارِ سفر ظاہر نہ تھے اور ہم سےکوئی اُنہیں پہچانتا بھی نہ تھا۳؎ یہاں تک کہ حضور( صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس بیٹھے اور اپنے گھٹنے حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) کےگھٹنوں شریف سے مَس کر دیئے۴؎ اور اپنے ہاتھ اپنے زانو پر رکھے۵؎ اور عرض کیا اَےمحمد(صلی اللہ علیہ وسلم)مجھے اسلام کے متعلق بتائیے۶؎ فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کےسواءکوئی معبودنہیں اورمحمداللہ کے رسول ہیں۷؎ اور نماز قائم کرو،زکوۃ دو،رمضان کے روزے رکھو،کعبہ کا حج کرو اگر وہاں تک پہنچ سکو ۸؎ عرض کیا کہ سچ فرمایا ہم کو ان پرتعجب ہوا کہ حضور سے پوچھتےبھی ہیں اورتصدیق بھی کرتے ہیں۹؎عرض کیا کہ مجھے ایمان کے متعلق بتائیے فرمایاکہ اللہ اور اس کے فرشتوں ،کتابوں اور اس کے رسولوں اور آخری دن کو مانو۱۰؎ اور اچھی بُری تقدیرکو مانو۱۱؎ عرض کیا آپ سچے ہیں عرض کیامجھےاحسان کے متعلق بتائیے۱۲؎ فرمایا اللہ کی عبادت ایسے کرو کہ گویا اُسے دیکھ رہے ہو۱۳؎ اگر یہ نہ ہوسکے تو خیال کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہاہے۱۴؎ عرض کیا کہ قیامت کی خبر دیجئے۱۵؎ فرمایا کہ جس سے پوچھ رہے ہو وہ قیامت کے بارے میں سائل سے زیادہ خبردارنہیں ۱۶؎ عرض کیا کہ قیامت کی کچھ نشانیاں ہی بتادیجئے ۱۷؎ فرمایا کہ لونڈی اپنے مالک کوجنے گی۱۸؎ اور ننگے پاؤں ننگے بدن والے فقیروں،بکریوں کے چرواہوں کومحلوں میں فخر کرتےدیکھو گے ۱۹؎ راوی فرماتے ہیں کہ پھرسائل چلے گئے میں کچھ دیر ٹھہرا حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) نے مجھے فرمایا اےعمرجانتے ہو یہ سائل کون ہیں مَیں نےعرض کی اللہ اوررسول جانیں۲۰؎ فرمایا یہ حضرت جبریل تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے ۲۱؎ (مسلم)

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا يُرٰى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّى جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فأسند رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ قَالَ:الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا. قَالَ: صَدَقْتَ. فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ. قَالَ: «أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ» . قَالَ صَدَقْتَ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ. قَالَ: «أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ» . قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ. قَالَ: «مَا الْمَسْؤُوْلُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ» . قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا. قَالَ: «أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ» . قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ» قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «فَإِنَّهُ جِبْرَئِيْلُ أَتَاكُم يُعَلِّمُكُمْ دِيْنَكُمْ» . رَوَاهُ مُسلم

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2 ، باب : ایمان کا بیان

اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تھوڑے اختلاف سے روایت کی ان کی روایت میں ہے کہ جب تم ننگے پاؤں،ننگے بدن والے،بہروں، گونگوں کو زمین کا بادشاہ دیکھو قیامت ان پانچ میں سے ہے جنہیں خدا کے سواکوئی نہیں جانتاپھریہ آیت تلاوت کی کہ قیامت کا علم اﷲ ہی کو ہے وہ ہی مینہ برساتا ہے ۱؎ (مسلم و بخاری)

وَرَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَة مَعَ اخْتِلَافٍ وَفِيهِ: وَإِذَا رَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الصُّمَّ الْبُكْمَ مُلُوكَ الْأَرْضِ فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ. ثُمَّ قَرَأَ: (إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ) الْاٰيَة (مُتَّفق عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3 ، باب : ایمان کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمرسے ۱؎ فرماتے ہیں کہ فرمایا نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے اسلام پانچ چیزوں پرقائم کیا گیا۲؎ اس کی گواہی کہاللہکے سوا کوئی معبود نہیں،محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اس کےبندےاور رسول ہیں۳؎ اورنمازقائم کرنا۴؎ زکوۃ دینا اور حج کرنا۵؎ اور رمضان کے روزے۔(بخاری و مسلم)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَالْحَجُّ وَصَوْمُ رَمَضَانَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4 ، باب : ایمان کا بیان

روایت ہےحضرت ابوہریرہ( رضی اللہ عنہ )سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی چنداورستّر شاخیں ہیں ۲؎ ان سب میں اعلٰی یہ کہنا ہے ۳؎ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سب سے ادنیٰ تکلیف دہ چیز کا راستہ سے ہٹانا ہے۴؎ اور غیرت بھی ایمان کی شاخ ہے ۵؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ شُعْبَةً فَأَفْضَلُهَا: قَولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذٰى عَنِ الطَّرِيقِ وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيْمَانِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5 ، باب : ایمان کا بیان

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے ۱؎فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسلمان وہ ہےجس کی زبان و ہاتھ سےمسلمان ۲؎محفوظ رہیں اورمہاجر وہ جوممنوع چیزوں کوچھوڑ دے ۳؎یہ بخاری کے الفاظ ہیں اورمسلم میں ہے فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون مسلمان بہترہےفرمایاجس کی زبان وہاتھ سےمسلمان امن میں رہیں۔

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللّٰهُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهٖ وَيَدِهٖ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللّٰهُ عَنْهُ» هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ وَلِمُسْلِمٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ قَالَ: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ من لِسَانِهٖ وَيَدِهٖ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6 ، باب : ایمان کا بیان

روایت ہے حضرت انس (رضی اللہ عنہ) سے ۱؎فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تم میں سے کوئی مؤمن نہیں ہوسکتا تا آنکہ میں اُسے ماں باپ اولاداورسب لوگوں سےپیاراہوجاؤں ۲؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 7 ، باب : ایمان کا بیان

روایت ہے اُنہی سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس میں تین خصلتیں ہوں وہ ایمان کی لذت پالے گا ۱؎الله و رسول تمام ماسواءسےزیادہ پیارے ہوں۲؎جوبندےسےصرف الله کے لیے محبت کرے۳؎جو کفر میں لوٹ جانا جب کہ رب نے اس سے بچالیا ایسا بُرا جانے جیسے آگ میں ڈالا جانا۴؎

وَعَنْہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيْهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: مَنْ كَانَ اللّٰهُ وَرَسُولُهٗ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَمَنْ أَحَبَّ عَبْدًا لَا يُحِبُّهٗ إِلَّا لِلّٰهِ وَمَنْ يَكْرَهُ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللّٰهُ مِنْهُ كَمَا يُكْرَهُ أَنْ يُلْقٰى فِي النَّارِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 8 ، باب : ایمان کا بیان

روایت ہے عباس ابن عبدالمطلب ۱؎سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نے ایمان کا مزہ چکھ لیاجو الله کے رب ہونے،اسلام کے دین ہونے،محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہوگیا ۲؎

وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِب ِقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «ذَاقَ طُعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللّٰهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 9 ، باب : ایمان کا بیان

روایت ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کے قبضہ میں میری جان ہے اُس کی قسم،اس امت میں سے ۱؎کوئی یہودی عیسائی میرا نام سُن لے پھر ایمان لائے بغیرمرجائے اس پر جو مجھے دے کربھیجا گیامگر وہ دوزخی ہوگا۲؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهٖ لَا يَسْمَعُ بِيْ أَحَدٌ مِنْ هٰذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِيْ أُرْسِلْتُ بِهٖ إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 10 ، باب : ایمان کا بیان

روایت ہے ابوموسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں ۱؎کہ فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے تین شخص وہ ہیں جنہیں ڈبل ثواب ملتا ہے وہ کتابی جو اپنے نبی پربھی ایمان لائے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ۲؎غلام مملوک جب الله کا حق بھی اداکرے اور اپنے مولاؤں کا بھی۳؎اور وہ شخص جس کے پاس لونڈی تھی جس سےصحبت کرتا تھا اُسے اچھا ادب دیا اور اچھی طرح علم سکھایا پھر اُسے آزاد کرکے اس سے نکاح کر لیا اُس کے لیے دوہرا ثواب ہے۴؎

وَعَنْ أَبِيْ مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثَلٰثَةٌ لَهُمْ أَجْرَانِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ اٰمَنَ بِنَبِيِّهٖ وَاٰمَنَ بِمُحَمَّدٍ وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوكُ إِذَا أَدّٰى حَقَّ اللهِ وَحَقَّ مَوَالِيْهِ وَرَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَةٌ يَطَؤُهَا فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيْبَهَا وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيْمَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 11 ، باب : ایمان کا بیان

روایت ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نےکہ مجھے حکم دیا گیا کہ لوگوں سے جنگ کروں تاکہ گواہی دیں ۱؎کہ رب کے سواکوئی معبودنہیں اورمحمد الله کے رسول ہیں اورنماز قائم کریں زکوۃ دیں ۲؎جب یہ کرلیں گے تو مجھ سے اپنے خون و مال بچالیں گے۳؎سواءاسلامی حق کے ۴؎اُن کا حساب الله کے ذمہ ہے ۵؎اس میں بخاری مسلم کا اتفاق ہےمگرمسلم نے اسلامی حق کا ذکر نہ کیا۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوْا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ وَيُقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوْا الزَّكَاةَ فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) إِلَّا أَنَّ مُسْلِمًا لَمْ يَذْكُرْ» إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 12 ، باب : ایمان کا بیان

روایت ہے انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جوہماری سی نمازپڑھے،ہمارے قبلہ کو منہ کرے،ہمارا ذبیحہ کھالے تو یہ وہ مسلمان ہے ۱؎جس پر الله رسول کی ذمہ داری ہے لہذا تم الله کا ذمہ نہ توڑو۲؎(بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ صَلّٰی صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذٰلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِيْ لَهُ ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهٖ فَلَا تُخْفِرُوْا اللهَ فِيْ ذِمَّتِهٖ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 13 ، باب : ایمان کا بیان

روایت ہےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتےہیں کہ ایک دیہاتی حضورعلیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کرنے لگے کہ مجھے ایسے کام کی ہدایت فرمایئے کہ میں وہ کروں تو جنتی ہوجاؤں فرمایا الله کو پوجو اُس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ نماز قائم کرو،زکوۃ فرض دو،رمضان کے روزے رکھو ۱؎وہ بولے قسم اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کبھی اس سے کچھ گھٹاؤں بڑھاؤں گا نہیں ۲؎پھرجب وہ چل دیئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو جنتی مردکو دیکھنا چاہے وہ اسے دیکھ لے۳؎

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتٰی أَعْرَابِيٌّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: دُلَّنِي عَلٰی عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَالَ «تَعْبُدُ اللهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهٖ شَيْئًا وَتُقِيْمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤَدِّيْ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ» . قَالَ: وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ لَا أَزِيْدُ عَلٰى هٰذَا شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ. فَلَمَّا وَلّٰى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلٰی رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلٰی هٰذَا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 14 ، باب : ایمان کا بیان

روایت ہے حضرت سفیان ابن عبد الله ثقفی سے ۱؎کہ میں نے عرض کیایارسول الله صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اسلام کے متعلق ایسی بات بتائیں کہ آپ کے بعداس کےمتعلق کسی سے نہ پوچھوں۔ دوسری روایت میں ہے(کہ آپ کے سوا) فرمایا کہ کہو کہ مَیں الله پر ایمان لایا پھر اُس پرقائم رہو ۲؎

وَعَنْ سُفْيَانَ ابْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ قُلْ لِيْ فِيْ الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ وَفِي رِوَايَةٍ غَيْرَكَ قَالَ قُلْ اٰمَنْتُ بِاللهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 15 ، باب : ایمان کا بیان

روایت ہے حضرت طلحہ ابن عبد الله سے ۱؎کہ ایک نجدی شخص۲؎حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بال بکھیرے حاضرہوا جس کی گنگناہٹ توہم سنتے تھےمگرسمجھتے نہ تھے کہ کیاکہتا ہے یہاں تک کہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا تو اسلام کے بارے میں پوچھنے لگا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دن رات میں پانچ نمازیں ہیں بولا ان کے سواء میرے ذمہ اور نماز بھی ہے فرمایا نہیں ۳؎ہاں چاہو تو نفل پڑھو۴؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ماہ رمضان کے روزے بولا کیا مجھ پر اس کے سواء اور بھی ہیں فرمایا نہیں مگر یہ کہ تو نفل ادا کرے فرمایا اُس سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نےزکوۃ کا ذکر فرمایا بولا کیا میرے ذمہ کچھ اور بھی ہے فرمایا نہیں مگرنفل ادا کرے ۵؎فرمایا اس نے پیٹھ پھیرلی یہ کہتا جاتا تھا کہ مَیں اِس سے نہ زیادہ کروں گا اور نہ کم کروں گاحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ شخص سچا ہے تو کامیاب ہوگا ۶؎

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ وَلَا نَفَقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ» . فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ فَقَالَ: لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ فقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ قَالَ: «لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ» . قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا فَقَالَ: لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ قَالَ فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَفْلَحَ الرَّجُلُ إِنْ صَدَقَ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 16 ، باب : ایمان کا بیان

روایت ہے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے ۱؎فرماتے ہیں کہ قبیلہ عبدالقیس کا نمایندہ وفد ۲؎جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم کون قوم یا کون وفد ہو عرض کیا ہم ربیعہ ہیں ۳؎فرمایا یہ وفد یا قوم خوب اچھے آگئے کہ نہ رسوا ہوئے نہ شرمندہ ۴؎عرض کیا یارسول الله ہم آپ تک صرف محترم مہینہ میں آسکتے ہیں ۵؎کیونکہ ہمارے آپ کے درمیان کفار مضر کا قبیلہ حائل ہے ۶؎لہذا ہمیں فیصلہ کُن خبر فرمادیں جس کی خبر ہم اپنے پیچھے والوں کوبھی دے دیں اور ہم جنت میں بھی پہنچ جائیں ۷؎انہوں نے حضور( صلی اللہ علیہ وسلم )سے شرابوں کے متعلق پوچھا تو حضور نے انہیں چارچیزوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا۔ الله پر ایمان لانے کا حکم فرمایا کیا جانتے ہوصرف الله پر ایمان لانا کیا ہے وہ بولے الله اور رسول جانیں ۸؎فرمایا یہ گواہی دینا کہ الله کے سواء کوئی لائق عبادت نہیں اورمحمد الله کے رسول ہیں ۹؎اور نماز قائم رکھنے زکوۃ دینے رمضان کے روزے کا ۱۰؎اور فرمایا کہ غنیمت میں سے پانچواں حصہ حاضرکرو ۱۱؎اور چار چیزوں سے منع فرمایا ٹھلیا سے،تونبی سے،لکڑی کی دوری سے اور تارکول والے پیالے سے ۱۲؎فرمایا یہ خود بھی یاد کرلو دوسروں کو اس کی خبر دے دو ۱۳؎(مسلم و بخاری)لفظ بخاری کے ہیں۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنِ الْقَوْمُ أَوْ مَنِ الْوَفْدُ قَالُوا رَبِيعَةُ قَالَ مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامٰى قَالُوا يَا رَسُول الله إِنَّا لَا نَسْتَطِيْعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرُ بِهٖ مَنْ وَرَاءَنَا وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ وَسَأَلُوهُ عَنِ الْأَشْرِبَةِ فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ قَالَ «أَتَدْرُوْنَ مَا الْإِيمَانُ بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ» قَالُوا: اللّٰهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَصِيَامُ رَمَضَانَ وَأَنْ تُعْطُوْا مِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمُسَ»
وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَقَالَ:«اِحْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوْا بِهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَلَفْظُهٗ للْبُخَارِيِّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 17 ، باب : ایمان کا بیان

روایت ہے عبادہ ابن صامت سے ۱؎فرماتے ہیں کہ فرمایانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالانکہ آپ کے آس پاس صحابہ کی جماعت ۲؎تھی کہ مجھ سے اس پر بیعت کرو۳؎کہ الله کےساتھ کسی کو شریک نہ کرنا،نہ چوری کرنا اور نہ زنا،نہ اپنی اولاد کو قتل کرنا،نہ اپنے سامنے گھڑا ہوا بہتان لگانا ۴؎اور کسی اچھی بات میں نافرمانی نہ کرنا ۵؎تم میں سے جو وفائے عہد کرے گا اس کا ثواب الله کے ذمہ کرم پر ہے ۶؎اور جوان میں سے کچھ۷؎کر بیٹھے اور دنیا میں سزا پالے تو وہ سزا کفارہ ہے ۸؎اور جو ان میں سے کچھ کرلے،پھر رب اُس کی پردہ پوشی کرے۹؎تو وہ الله کے سپرد ہے۔اگر چاہے معافی دے دے چاہے سزا دے۱۰؎لہذا ہم نے اس پر آپ سے بیعت کی۔(مسلم، بخاری)

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهٖ: بَايِعُوْنِيْ عَلٰی أَنْ لَا تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوْا وَلَا تَزْنُوْا وَلَا تَقْتُلُوْا أَوْلَادَكُمْ وَلَا تَأْتُوْا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُوْنَهٗ بَيْنَ أَيْدِيْكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ وَلَا تَعْصُوْا فِيْ مَعْرُوفٍ فَمَنْ وَفٰی مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذٰلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهٖ فِيْ الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهٗ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذٰلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ فَهُوَ إِلٰی اللهِ إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ فَبَايَعْنَاهُ عَلٰى ذٰلِكَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 18 ، باب : ایمان کا بیان

روایت ہے حضرت ابی سعید خدری سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقرعید یاعِید الفطرمیں عید گاہ۲؎تشریف لے گئے عورتوں کی جماعت پر گزرے۳؎تو فرمایا کہ اے بیبیو!خوب خیرات کرو ۴؎کیونکہ مجھے دکھایا گیا ہے ۵؎کہ تم زیادہ دوزخ والی ہو،انہوں نے عرض کیا حضور یہ کیوں؟ فرمایا تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو ۶؎خاوند کی ناشکری ۷؎ہو تم سے بڑھ کر کوئی کم عقل دین پر کم عاقل عقلمند آدمی کی مت کاٹ دینے والی میں نے نہیں دیکھی۸؎عورتوں نے عرض کیاحضور ہمارے دین و عقل میں کمی کیونکر ہے۔فرمایا کہ کیا یہ نہیں ہے کہ عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے آدھی ہے ۹؎عرض کیا ہاں فرمایا یہ عورت کے عقل کی کمی ہے فرمایا کہ کیا یہ درست نہیں کہ عور ت حیض میں روزہ نماز ادا نہیں کرسکتی عرض کیا ہاں فرمایا یہ اس کے دین کی کمی ہے۱۰؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحٰى أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلّٰى فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِّیْ أُرِيتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ فَقُلْنَ وَبِمَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدٰى كُن َّ قُلْنَ وَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ قُلْنَ بَلٰى قَالَ فَذٰلِكَ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا قال أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ قُلْنَ بَلٰی قَالَ فَذٰلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِيْنِهَا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 19 ، باب : ایمان کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ رب فرماتا ہے ۱؎انسان مجھے جھٹلاتا ہے یہ اُسے مناسب نہ تھااور مجھے گالی دیتا ہے یہ اسے درست نہ تھا ۲؎اس کا مجھے جھٹلانا تویہ ہے کہ کہتا ہے رب مجھے پہلے کی طرح دوبارہ نہ بناسکے گا۳؎حالانکہ پہلی بار پیدا فرمانا دوبارہ بنانے سے آسان تر تو نہیں ۴؎اس کی گالی اس کی یہ بکواس ہے کہ الله تعالٰی نے اولاد اختیار کی۵؎میں تو اکیلا بے نیاز ہوں۶؎نہ جنا نہ جنا گیا میرا کوئی ہمسرنہیں ۷؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللّٰهُ تعالیٰ كَذَّبَنِيْ ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهٗ ذٰلِكَ وَشَتَمَنِيْ وَلَمْ يَكُنْ لَهٗ ذٰلِكَ فَأَمَّا تَكْذِيْبُهٗ إِيَّايَ فَقَوْلُہٗ لَن يُعِیْدَنِیْ كَمَا بَدَأَنِيْ وَلَيْسَ أَوَّلُ الْخَلْقِ بِأَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ إِعَادَتِهٖ وَأَمَّا شَتْمُهٗ إِيَّايَ فَقَوْلُہٗ اِتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا وَأَنَا الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِيْ لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُوْلَدْ وَلَمْ يَكُنْ لِيْ كُفُوًا أَحَدٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 20 ، باب : ایمان کا بیان