Book Name:Anmol Heeray

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

انمول ہیرے ([1])

شیطٰن لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(26صَفَحات) آپ آخِر تک ضَرور پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ دنیا و آخِرت کے بے شمار مَنافع حاصل ہوں گے ۔

  دُرُود شریف کی فضیلت

            میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوٰی رضویہ شریف جلد23 صَفْحَہ 122 پر نقل فرماتے ہیں  : حضرت اَبُو المواہِب رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے تھے کہ میں نے خواب میں رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دیکھا، حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ سے فرمایا کہ ’’ قیامت کے دن تم ایک لاکھ بندوں کی شَفاعت کرو گے ۔ ‘‘ میں نے  عرض کی :  یا رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    !میں کیسے اس قابل ہوا؟ ارشادفرمایا :  ’’  اس لیے کہ تم مجھ پردُرود پڑھ کر اس کا ثواب مجھے نذرکردیتے ہو ۔ ‘‘(الطبقات الکبری للشعرانی ص۱۰۱)  ثواب نذر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پڑھتے وَقت ثواب نذر کرنے کی دل میں نیّت کر لے یا پڑھنے سے قَبل یابعدزَبان سے بھی کہہ لے کہ اِس دُرُود شریف کا ثواب جنابِ رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کی نذر کرتا ہوں  ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

            کہتے ہیں ، ایک بادشاہ اپنے مصاحبوں کے ساتھ کسی باغ کے قریب سے گزر رہا تھا کہ اس نے دیکھا باغ میں سے کوئی شخص سنگریزے (یعنی چھوٹے چھوٹے پتھر)پھینک رہا ہے ، ایک سنگریزہ خود اس کو بھی آکر لگا ۔  اس نے خُدّام کو دوڑایا کہ جا کر سنگریزے پھینکنے والے کو پکڑکر میرے پاس حاضِر کرو، چُنانچِہ خُدّام نے ایک گنوار کو حاضر کر دیا ۔  بادشاہ نے کہا :  یہ سنگریزے تم نے کہاں سے حاصل کئے ؟ اس نے ڈرتے ڈرتے کہا : میں ویرانے میں سیر کر رہا تھا کہ میری نظر ان خوبصورت سنگریزوں پر پڑی، میں نے ان کو جھولی میں بھر لیا، اس کے بعدپِھرتا پِھراتا اس باغ میں آنکلا اور پھل توڑنے کے لئے یہ سنگریزے استعمال کرلئے ۔  بادشاہ نے کہا :  تم ان سنگریزوں کی قیمت جانتے ہو ؟اس نے عرض کی : نہیں ۔ بادشاہ بولا  : یہ پتھّر کے ٹکڑے دراصل انمول ہیرے تھے ، جنہیں تم نادانی کے سبب ضائِع کرچکے ۔ اس پر وہ شخص افسوس کرنے لگا  ۔ مگر اب اس کا افسوس کرنا بے کار تھا کہ وہ انمول ہیرے اس کے ہاتھ سے نکل چکے تھے ۔

زندگی کے لمحات انمول ہیرے ہیں       

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسی طرح ہماری زندگی کے لمحات بھی انمول ہیرے ہیں اگر ان کو ہم نیـ بے کار ضائع کردیا تو حسرت و ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آ ئیگا  ۔

دن بھر کھیلوں میں خاک اُڑائی           لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے

  اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انسان کو ایک مُقرَّرہ وَقت کیلئے خاص مقصد کے تحت اِس دنیا میں بھیجا ہے  ۔ چُنانچِہ پارہ 18سورۃُ المُؤمِنُون آیت نمبر115میں ارشاد ہوتا ہے :  

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ(۱۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان : تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے کار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں

            ’ ’خزائنُ العرفان‘‘ میں اس آیتِ مقدّسہ کے تحت لکھا ہے :  اور (کیا تمہیں )آخِرت میں جزا کیلئے اٹھنا نہیں بلکہ تمہیں عبادت کیلئے پیدا کیا کہ تم پر عبادت لازم کریں اور آخِرت میں تم ہماری طرف لوٹ کر آئو تو تمہیں تمھارے اعمال کی جزا دیں ۔

            موت وحیات کی پیدائش کا سبب بیان کرتے ہوئے پارہ 29 سورۃُالملک آیت نمبر2میں ارشاد ہوتا ہے :  

الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-

ترجَمۂ کنزالایمان : وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے ۔

زندگی کاوَقت تھوڑا  ہے

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ دو آیات کے علاوہ بھی قراٰ نِ پاک میں دیگر مقامات پر تخلیقِ انسانی یعنی انسان کی پیدائش کا مقصد بیان کیاگیا ہے ۔  انسان کو  اس دنیا میں بَہُت مُختصر سے وقت کیلئے رہنا ہے اوراس وَقفے میں اسے قبر و حشر کے طویل ترین معاملات کیلئے تیاری کرنی ہے لہٰذا انسان کا وقت بے حد قیمتی ہے ۔ وَقت ایک تیز رفتار گاڑی کی طرح فَرّاٹے بھرتا ہوا جارہا ہے نہ روکے رُکتا ہے نہ پکڑنے سے ہاتھ آتا ہے ، جو سانس ایک بار لے لیا وہ پلٹ کر نہیں آتا ۔  چُنانچِہ

سانس کی مالا

            حضرت سیِّدُنا حسنِ بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں  ۔ جلدی کرو! جلدی کرو!!تمہاری زندگی کیا ہے ؟ یہی سانس تو ہیں کہ اگر رُک جائیں تو تمہارے ان اعمال کا سلسلہ بھی



   [1]    یہ بیان امیر اہلسنّت دَامَتْ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے تبلیغِ قراٰن وسنت کی عا لمگیرغیر سیاسی تحریک ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘ کے تین روزہ سنتوں بھرے اجتماع  (۲۵صفر المظفر۱۴۳۰؁ ۔ 2009)میں صحرائے مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں فرمایا ۔  ضَروری ترمیم کے ساتھ تحریراً حاضرِ خدمت ہے ۔ مجلس مکتبۃُ المدینہ



Total Pages: 6

Go To