Book Name:Iteba Shahwat Ke Tabahkariyan
کو تکالیف سے اوردوزخ کو خواہشوں اور لَذتوں سے ڈھانپ دیاگیاہے۔(بخاری، کتاب الرقاق، ۴/۲۴۳، حدیث:۶۴۸۷،۶۴۸۸)
اسی طرح سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ہے :
اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہٗ وَ عَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَ الْعاجز مَنِ اتَّبَعَ نَفْسَہٗ ھَوَاھَا ثم تَمَنَّی عَلَی اللہِ
عقل مند اور سمجھدار وہ ہے جو اپنے نَفْس کا مُحاسَبہ کرے اورموت کے بعد والی زِندگی کے لئے عمل کرے۔اور عاجزوہ ہے جس نے نَفْسانی خواہشات کی پیروی کی اوراللہپاک ( کی رحمت سے جنّت ملنے کی) اُمید رکھی۔
(سنن ابن ماجہ ،ج۴،ص۴۹۶،ح۴۲۶۰)
پیارے اسلامی بھائیو!یقیناً جنّت نعمتوں اورآسائشوں سے بھرپُور اِنتہائی خُوبصُورت مَقام ہے مگر وہاں تک پہنچنا آسان نہیں بلکہ اس کی راہ میں عبادتوں رِیاضتوں اور نیکیوں کی صُورت میں اِنتہائی دُشوار گُزار گھاٹیاں مَوْجُود ہیں جن کو عُبُور کرنا ضروری ہے۔ جبکہ دوزخ دہشتوں، تکلیفوں اور مختلف عذابوں کی جگہ ہے مگر اس تک رَسائی نہایت آسان ہے کیونکہ جہنَّم کو نَفْسانی خواہشات سے ڈھانپ دیاگیاہے تو جوشخص نَفْس کی ناجائز خواہشات پُوری کرتے ہوئے اپنی زِندگی بَسرکرے گا توڈر ہےکہ جہنَّم میں داخل کردیا جائے۔ لہٰذا ہم میں سے جوجنَّت میں داخلے اور جہنَّم کے عذاب سے بچنے کا خواہشمند ہے (ہر شخص کو یہ تمنا رکھنی بھی چاہیے) تو اسے چاہیے کہ نَفْس کی مُخالَفت کرتے ہوئے ناجائز خواہشات کے ساتھ ساتھ اپنی جائز خواہشوں پر بھی قابو پانے کی کوشش کرے،کیونکہ جائز خواہشات کو نہ دبانا ناجائز خواہشوں میں جاپڑنے کاسبب ہے۔ آئیے! عبرت کیلئے ایک اور حدیثِ پاک سُنتے ہیں ۔