Book Name:Iteba Shahwat Ke Tabahkariyan
کے بَرعکس اگر اِنسان بُھوکا ہو تو تمام اَعضائے بدن پُر سکون رہیں گے۔ نہ تو کسی بُرائی کا لالچ کریں گے اور نہ بُرائی کو دیکھ کر خُوش ہو ں گے۔حضرت اُستاذ ابو جعفر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا ارشادِ گرامی ہے :پیٹ اگر بھوکا ہو توجسم کے باقی اعضاء سیر یعنی پُر سکون ہوتے ہیں۔ کسی شئے کا مُطالَبہ نہیں کرتےاور اگر پیٹ بھرا ہوا ہو تو دوسرے اَعْضاء بُھوکے رہ جانے کے باعث مختلف بُرائیوں کی طرف رُجوع کرتے ہیں۔(مِنْھَاجُ الْعَابِدِیْن،الفصل الخامس البطن وحفظہ، ص۸۲)
(فیضان سنت ،ص:۷۰۹)
پیارے اسلامی بھائیو!شکم سیری یعنی پیٹ بھر کر کھانے کے بعد گُناہوں سے بچنے کا علاج یہ ہے کہ بندہ بُھوک سے کم کھاکرنَفْس کی شرارتوں کو ناکام بنائے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں اس بات کی تر غیب دِلائی جاتی ہے کہ بندہ لقمہ ٔحرام کھانے سےضرور بچتارہے اور جائز ومُباح کھانا بھی عبادت پر قُوّت حاصل کرنے کی نِیَّت سے کم کھائے، تا کہ عبادت میں لذّت کی نعمت نصیب ہواور گُناہوں کی طرف رَغْبت بھی نہ ہوسکے۔ دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں بُھو ک سے کم کھانے کو”پیٹ کا قُفلِ مدینہ“ لگاناکہتے ہیں۔اس پر عمل کا ذِہْن بنانے کے لیے شیخِ طریقت، امیر اہلسُنَّت ، حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مایہ ناز تصنیف بنام”پیٹ کا قُفْلِ مدینہ“ تحریر فرمائی ہے۔ اس کتاب کے مُطالعے کی برکت سے اِنْ شَآءَ اللہ آپ کو کھانے کے آداب ،بُھوک سے کم کھانےکےفوائد، صحت مند رہنے کے اُصُول اور اس کے علاوہ بھی بے شُمار مدنی پُھول چننے کو ملیں گے۔مکتبۃ ُالمدینہ کی کسی بھی شاخ سے اس کتاب کو ھدیۃً حاصل کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ www.dawateislami.net سے اس کتاب کو رِیڈ(یعنی پڑھا) اور ڈاؤن لوڈ بھی کیا جا سکتا ہے اور پرنٹ آؤٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔