Muaaf Karne Ke Fazail

Book Name:Muaaf Karne Ke Fazail

ابُوخطاب حضرت  قَتادہ بِن دِعامہ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے ساتھ اِنصاف نہیں کیا۔‘‘چنانچہ بِلال بِن اَبِی بُردَہ نے تھپڑ مارنے والے کو بُلایا اور بَصْرہ کے سَرداروں کو بھی بُلایا۔ وہ آپ سے اُس شخص کی سفارش کرنے لگے لیکن آپ نے سِفارِش قَبول نہ کی اور بیٹے سے فرمایا: تم بھی اُسی طرح اِسے تھپڑ مارو جس طرح اِس نے تمہیں مارا تھا اور فرمایا: بیٹا!آستینیں اُوپر کر لو اور ہاتھ بلند کر کے زوردار تھپڑا مارو۔چنانچہ بیٹے نے آستینیں اُوپر کیں اور تھپڑمارنے کے لئے ہاتھ بلند کیا تو آپ نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: ہم نے رِضائے اِلٰہی کے لئے اُسے مُعاف کیا کیونکہ کہا جاتا ہے کہ مُعاف کرنا قُدرت کے بعد ہی ہوتا ہے۔(اللہ والوں کی باتیں،۲/۵۱۹)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                              صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

پیارے اسلامی بھائیو!جیسے جیسے ہم زمانۂ رسالت سے دُور ہوتے جارہے ہیں ہمارے دلوں سے مسلمانوں کو مُعاف کرنے کا جذبہ تقریباً ختم ہوتا جارہا ہے،حالانکہ ہم بھی تو دن بھر میں کتنی غَلَطیاں کرتے ہوں گے،مسلمانوں کے حُقوق ضائع کرتے ہوں گے،اُن کا دل دکھاتے ہوں گے،اُن کو یا اُن سے تَعَلُّق رکھنے والی چیزوں کو نقصان پہنچاتے ہوں گے،اور لوگ ہمارے مَنْصَب،رُتبہ یارشتے وغیرہ کا لحاظ کرتے ہوئے ہمیں معاف کردیتے ہوں گے،لیکن افسوس!ہم نے تو مسلمانوں کی غَلَطیوں کو مُعاف کرنا اپنی زندگی کی ڈکشنری سے گویا کسی حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا ہے،جبکہاللہ پاک کے نیک بندوں کے عَفْوو دَرگُزر کا یہ عالَم ہوتا ہے کہ وہ حضرات گالی دینے والے کی بھی مَعْذِرَت قَبول کرکے اُسے مُعافی سے نواز دیا کرتےہیں،چنانچہ

حضرت  امام حَسَن مجتبیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فرماتے ہیں:لَوْاَنَّ رَجُلًا شَتَمَنِیْ فِیْ اُذُنِی ہٰذِہٖ، وَاعْتَذَرَ اِلَیَّ فِی اُذُنِی الْاُخْرٰی لَقَبِلْتُ عُذْرَہُ یعنی اگر کوئی میرے ایک کان میں گالی دے اور دوسرے کان میں معافی مانگ لے تو میں ضَرور اُس کی مَعْذِرَت قَبول کروں گا۔(بہجۃ المجالس وانس المجالس لابن عبدالبر ،۲/ ۴۸۶ )